کابینہ کی میٹنگ میں کوئی پالیسی ساز فیصلہ نہیں کیا جاسکتا:الیکشن کمیشن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th December 2018, 2:05 AM | ملکی خبریں |

بھوپال،04؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش میں الیکشن اور ووٹوں کی گنتی کے درمیان وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان کی جانب سے بلائی گئی کابینہ کی میٹنگ کے سلسلے میں کانگریس کی جانب سے اعتراض ظاہر کرنے کے درمیان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اس میٹنگ میں کسی قسم کے پالیسی ساز فیصلے نہیں کئے جاسکتے۔ریاست کے چیف الیکشن افر وی ایل کانتاراو نے اس بارے میں کہا کہ انہیں کابینہ کی میٹنگ کے سلسلے میں ابھی تک کوئی خط نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ ہو سکتی ہے،لیکن اس میں کوئی پالیسی ساز فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ریاست میں کل پانچ دسمبر کو کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔اسمبلی انتخابات کیلئے 28نومبر کو الیکشن ہوئے تھے۔ووٹوں کی گنتی 11دسمبر کو ہوگی۔اس میٹنگ کے سلسلے میں اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان پنکج چترویدی نے کہا کہ پارٹی کے پاس اعتراض کرنے کی وجہ ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومتی مشینری کا غلط استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ بی جیپی حکومت کو آخری وقت میں میٹنگ کرنی پڑرہی ہے۔یہ آئینی اصولوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔میٹنگ میں جب کوئی پالیسی ساز فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تواس کے ہونے کا کیا مطلب ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پروٹوکول توڑنے میں مودی نے عمران سے مقابلہ کیا، سفارتی ناکامی پر جواب دیں: کانگریس

کانگریس نے سعودی عرب کے شہزادہ (ولی عہد) محمد بن سلمان کا پروٹوکول سے الگ جاکرخوش آمدید کئے جانے کو لے کر بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا اور الزام لگایا کہ پروٹوکول توڑنے میں مودی تو گویا پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ، جیسے مقابلہ کر رہے ہیں۔

پلوامہ حملہ: اب آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے مودی حکومت کو گھیرا، کہا، قومی سلامتی خطرے میں ہے

پلوامہ دہشت گردانہ حملے کو لے کر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے مرکز کی مودی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔

این سی ڈی آرسی نے آپریشن کے دوران لاپرواہی برتنے والے ڈاکٹر متاثرہ خاندان کو 2.7 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا

قومی صارفین تنازعہ سراغ رساں کمیشن(این سی ڈی آرسی) نے آپریشن کے دوران لاپرواہی کی وجہ سے ایک خاتون کی موت کے معاملے میں تین ڈاکٹروں کو متاثر خاندان کو پر 2.7 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔