بھٹکل کی نوائط برادری کا جذبۂ اخلاص جس کی تشہیر ہونی چاہیے۔۔۔۔(محمد رضا مانوی کی کنڑا تحریر کا اُردو ترجمہ)

Source: S.O. News Service | By Dr. Haneef Shabab | Published on 14th February 2017, 2:39 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ساحل سمندر کے خوبصورت قدرتی نظارے سے گھِرا ہوا شہر بھٹکل اکثر وبیشتر اخبارات کی منفی سرخیوں میں رہا کرتا ہے۔لیکن اس بارایک مثبت خبر کے لئے اسے بین الاقوامی سطح پر اخباروں کی زینت بننا چاہیے تھا۔کیونکہ اپنے وطن سے ہزاروں کیلومیٹر دورگزشتہ نو مہینوں سے کوما کی حالت میں سعودی عربیہ کے ایک اسپتال کے اندر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا بھٹکل کے شہری ابوبکر ماکڑے کوصرف اپنے اخلاص کے بل بوتے پربحفاظت وطن واپس لانے کاجوکام نوائط برادری کے احباب نے انجام دیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

ابوبکر ماکڑے ایک حادثے کا شکار ہوکر کومامیں چلے جانے کے بعد علاج ومعالجے کا جو خرچ کروڑوں روپے کی صورت میں واجب الادا ہوگیا تھا اسے چکانا کسی صورت ابوبکر یا اس کے خاندان والوں سے ممکن نہیں تھا۔اس سنگین مسئلے کو وزیر خارجہ سشما سوراج کے علم میں لائے جانے کے باوجود انڈین ایمبیسی اسپتال بل کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی مدد نہیں کرپائی تھی۔اس طرح جہاں ایک حکومت اپنے وسائل سے اپنے شہری کو مدد پہنچانے میں ناکام ہوگئی ، وہاں پر نوائط برادری کے چند گنے چنے احباب نے اپنے دم پر یہ کام کردکھایا ہے۔ سعودی کے اسپتال والوں سے مسلسل ملاقاتیں اور وہاں سے مریض کو واپس بنگلورو میں لاکر اس کے مزید علاج کی ذمہ داری سنبھالنے کے سلسلے میں پوری نوائط برادری کے احباب نے جس سرگرمی اور جدوجہدکا مظاہرہ کیاہے وہ موجودہ مادی دور میں دوسری جگہ شاید ڈھونڈنے سے بھی مل نہیں پائے گا۔

بھٹکل و اطراف کی نوائط برادری کے اس جذبۂ خلوص او ر انسانیت نوازی کی تشہیر اور ستائش عالمی پیمانے پر کی جانی چاہیے تھی۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کیونکہ دن بھر ایک ہی نیوز کو گھماپھر اکر بریکنگ نیوز کے دھماکہ خیز انداز میں پیش کرنے والے نیوز چینلس اور بھٹکل کے تعلق سے سنسنی خیز خبریں شائع کرنے والے اخباروں کے لئے اس خبر میں کوئی کشش نہیں دیکھی گئی۔جان بوجھ کر اس خبر کو نظر انداز کردیا گیا۔بھٹکل کا نام آتے ہی حوالہ کاروبار، سونے کی اسمگلنگ، گانجہ اورمنشیات کے دھندے، فرقہ وارانہ فسادات جیسے موضوعات سے اپنی خبروں اور کالموں کا پیٹ بھرنے والے میڈیا کو اس سے آگے کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ انسانی ہمدردی،پرخلوص سماجی سرگرمیاں اور رحمدلی کے جذبات وغیرہ کو نمایاں کرنے سے دور رہنا میڈیا کی عام طور پر عادت سی بن گئی ہے۔

بھٹکل کی نوائط برادری کے احباب خلیجی ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن اپنے وطن سے ان کی محبت بھی بے مثال ہے۔ دور دراز ممالک میں اپنا خون پسینہ ایک کرکے کمائی گئی دولت کو مادروطن کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنا ان کا شیوہ ہے۔ممبئی کی سرزمین پر پرورش پانے والے کچھ غلط ذہنیت کے نوجوانوں کی حرکات سے بھٹکل کے نام پر بدنامی کا داغ لگنے والی بات میں کتنی سچائی ہے اس کاخلاصہ ہونا ابھی باقی ہے۔لیکن اس طرح کی خبروں سے یقینی طور پر بھٹکل کی شبیہ ہر سطح پر خراب ہوئی ضرور ہے۔اور بھٹکل کا مطلب دہشت گردی بن کر رہ گیا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھٹکل کو اس طرح بدنام کرنے میں بعض سیاسی طاقتو ں نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔اب یہ سب تاریخ کاایک حصہ بن گیا ہے۔ورنہ اسی موضوع کو سامنے رکھ کر ہر الیکشن میں اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے والے انگلیوں پر گننے لائق چند مفاد پرستوں کو اگر چھوڑ دیں، تو پھر یہاں کے ہندو، مسلم اور عیسائی وغیرہ آپس میں پیار و محبت اور امن وسکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔آج بھی یہاں کے غیر مسلم برادری کے بزرگ ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب یہاں کی نوائط برادری کے مسلمان ہندوؤں کی شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے موقع پر اپنے سونے کے قیمتی زیورات انہیں مستعار دیا کرتے تھے۔تعاون اور امداد کا کچھ ایسا جذبہ آج بھی نوائط برادری کے اندر پوری طرح موجزن ہے۔ آج بھی چاہے کسی بھی مقام پر قدرتی آفات اور حادثات پیش آتے ہیں توبغیر کسی بھید بھاؤ کے انسانی ہمدردی کی بنیادپر مدد کے لئے دوڑ پڑنا ان کی فطرت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ان کا جذبۂ خدمت سماج اور دیس کی سرحدوں سے آگے نکل جاتا ہے۔یقیناًیہ ان کے بے لوث اور پر خلوص ہونے کی دلیل ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی علاقوں میں زبردست بارش جاری؛ یلاپور میں چٹان کھسک گئی؛ چار گھنٹوں تک نیشنل ہائی وے بند؛ بس پر گرتے گرتے بچی چٹان

ساحلی علاقوں میں بھاری بارش کا سلسلہ جاری ہے اور پوری رات ان علاقوں میں زبردست بارش ہوئی ہے۔ آج صبح ویسے کچھ دیر کے لئے بارش رُکتے رُکتے گررہی ہے، مگر اسمان مکمل طور پر ابرآلود ہے۔

پرتیبھا کارنجی میں بھٹکل انجمن گرلس انگلش میڈیم ہائی اسکول نوائط کالونی کی طالبات کا شاندار پرفارمینس

ہائی اسکول سطح کے کلسٹر لیول پرتیبھا کارنجی پروگرام میں انجمن گرلس ہائی اسکول نوائط کالونی کی طالبات نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ایک مقابلوں میں اول اور دوم نمبرات سے کامیاب ہوئی ہیں اور جملہ دس طالبات تعلقہ لیول کے لئے منتخب ہوگئ ہیں۔

بھٹکل میں انسداد بدعنوانی بیورو کے زیر اہتمام عوامی رابطہ میٹنگ : رشوت خوری کے ازالے میں عوامی تعاون لازمی : ایس پی شُرتی کا بیان

ضلع انسداد بدعنوانی بیورو پولس تھانہ اترکنڑا کاروار کے زیر اہتمام پیر کو سرکٹ ہاؤس میں بد عنوانی ،رشوت خوری کے ازالے اور عوامی رابطہ میٹنگ  انسداد بدعنوانی دستہ کی ضلع ایس پی کماری شرتی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔

یلاپور میں موسلا دھار بارش کے دوران اسکول پر درخت گر پڑا

ضلع شمالی کینرا میں بھاری برسات کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہونے اور کئی مقامات سے نقصانات کی خبریں مل رہی ہیں۔ یلاپور سے موصولہ رپورٹ کے مطابق شہر کے ہائر پرائمری اسکول پر ایک درخت کی شاخ ٹوٹ کر گرنے سے ایک کمرے کی دیوار اور اسکول کے بیت الخلاء کو نقصان پہنچا ہے۔

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...