کیا ساحلی پٹری کی تاریکی دور ہوگی ؟ یہاں نہ ہواچلے ، نہ بارش برسے : مگر بجلی کے لئے عوام ضرورترسے

Source: S.O. News Service | Published on 8th May 2017, 8:40 PM | ساحلی خبریں | اداریہ |

بھٹکل:8/مئی (ایس اؤنیوز)ساحلی علاقہ سمیت ملناڈ کا کچھ حصہ بظاہر اپنی قدرتی و فطری خوب صورتی اور حسین نظاروں کے لئے جانا جاتا  ہو اور یہاں کے ساحلی نظاروں کی سیر و سیاحت کے لئے دنیا بھر سے لوگ آتے جاتے ہوں، لیکن یہاں رہنے والے عوام کے لئے یہ سب بے معنی ہیں۔ کیوں کہ ان کی داستان بڑی دکھ بھری ہے۔ کہنے کو سب کچھ ہے لیکن نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں ہوا کا چلنا ممنوع ہے بارش تو ہونی ہی نہیں چاہئے ، اگر ہواچلی، بارش ہوئی تو منٹ بھرمیں گاؤں کا گاؤں اندھیرےمیں ڈوب جانے کے ساتھ نقصانات بھی کافی ہوتے ہیں۔  ہوا کا چلنا گھروں کی چھتوں پر درختوں کا گرنا، جانی ومالی نقصانات ،ہزاروں بجلی کے کھمبے ، بجلی کے تاروں کا ٹوٹ کر گرنا ، بجلیوں کی گرج اور چمک سے عوام خوف کے مارے اِدھر اُدھر منتقل ہونا، بچے ڈر کے مارے دبک جانا، گویا خوف و ہراس کا ماحول۔ اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔

بجلی کو جنم دینے والے مرکز پر ہمارا قیام برائے نا م ہی ہے ، شراوتی ہو، کئیگا ہو، دوسرے گاؤں، اضلاع، صرف ریاست ہی نہیں ،ملک بھر کو یہاں سے بجلی سپلائی ہوتی ہے، ملک کو روشنی دینےوالے عوام میں آ ج بھی متاثرین کی خاصی تعداد ہے۔ ریاست کے دیگر اضلاع سے موازنہ کریں تو سب سے زیادہ بجلی بل ہم ہی ادا کرتے ہیں! ہائے افسوس، ہماری پھوٹی قسمت !ہمیں ہی بجلی کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں، ہزاروں گھر ایسے ہیں جنہیں بجلی کیا ہے پتہ ہی نہیں۔ جدوجہد، احتجاج، دھرنے بنگلورو اور دہلی والوں کے کانوں تک پہنچتے ہی نہیں، بھٹکل میں 110 کے وی بجلی مرکز کامطالبہ ابھی تک مطالبہ ہی ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے پاس سہولیات ہیں ان کے لئے بھی ہر سال موسمِ باراں بھی جہنم زار بن جاتاہے۔  صرف ایک مرتبہ دس منٹ کے لئے چلنے والی ہوااور برسنے والی بارش کے سامنے ایک بھی بجلی کے کھمبے کو مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنے کی سکت نہیں ہے۔ ساحلی اور ملناڈ علاقہ میں ہونےو الی ایک بارش کے نتیجے میں 10ہزار سے زائد بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ پھٹ کر گرنے والے بجلی کے تاروں کی لاگت کروڑوں روپیوں کو پار کرجاتی ہے، جانی ومالی نقصانات بھی کم نہیں ہے تو مرنے والے جانوروں کا شمار کرنا مشکل ہوجاتاہے۔

پرسو ں دس منٹ کے لئے طوفانی ہوا کیا چلی اور  ایک گھنٹے سے کچھ کم وقت کے لئے بارش کیا  برسی،  بھٹکل اور ہوناور میں 200سے زائد بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  یہاں کا سسٹم کتنا ناکارہ ہے۔ اسی دس منٹ کی  طوفانی ہوائوں  کا  رونا روتے ہوئے پورا ایک دن اور دو راتیں  عوام کو تاریکی میں گذارنی پریں۔ ان کھمبوں اور بجلی کی تاروں کی مرمت کے لئے  دس بارہ سواریوں کے ذریعے ہیسکام عملے کو  دوڑ دھوپ کرتے دیکھا گیا۔ 

بارش، ہوا، بجلی اور گرج کو لے کرہرسال یہاں کا یہی رونا ہے۔ہرسال  کروڑوں روپئے ان ہی مرمتوں میں  خرچ کئے جاتے ہیں، الیکٹری سٹی فیل ہونے سے عوام کی پریشانی پھر الگ ہے۔ ملک کو آزاد ہوئے 7دہے گزرچکے ہیں ، تعجب اس بات پر ہے کہ آخر ہمارے عوامی نمائندے اور افسران اس مسئلہ پر غور کیوں نہیں کرتے ؟ متبادل انتظامات کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

دراصل ساحلی علاقوں میں نصب کئے جانے والے سمنٹ سے بنے بجلی کے کھمبے اُن علاقوں کے لئے موزوں ہوتے ہیں جہاں کم بارش ہوتی ہے، جہاں طوفانی ہوائیں نہیں اُڑتی، دیکھا جائے تو ایسے کھمبے میدانی علاقوں بالخصوص بنگلور وغیرہ کے لئے موزوں ہوتے ہیں، لیکن یہاں برائے نام نصب کی گئی لوہے کی  پٹی بھی ہل جاتی ہے توہر کسی کو یہاں کے حالات سے واقفیت ہوجاتی ہے۔ بنگلور اور دیگر میدانی علاقوں میں  بیٹھ کر بلیوپرنٹ تیار کرنے والے عوامی نمائندے یہاں سمنٹ سےتیار کردہ بجلی کھمبوں کو زبردستی نصب کرتے ہیں، اے سی روم میں بیٹھنے والے  افسران آنکھیں بند کرکے فائلوں  پر دستخط کردیتے ہیں۔ کھمبے ، تار، ٹرانسفارمر وغیرہ کی درستگی  و مرمت میں ان کا حصہ ہوتا ہوگا جس کی وجہ سے ہی ہرسال کا موسم باراں ان کے لئے عید کی سوغات ہے۔

انڈر گرائونڈ کیبل نظام : سال کے 4مہینے کھمبوں اور تاروں کو  کھڑے رہنے کی سکت نہیں ہے تو ان بدترین حالات کے نیتجےمیں کم سے کم اب تو انتظامیہ کو سرکار کو نئے نظام کے متعلق سوچنا چاہئے۔ لٹکنے والی تاروں کو کیبل کے ذریعے انڈر گراونڈ  بچھانے  کی کوشش کی جانی چاہئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کھمبوں اور تاروں کی لاگت کا کیبل سے موازنہ کریں تو 7-8گنا خرچ زائد ہوگا، لیکن ہر سال درستگی  و مرمت کے لئے ہونے والے اخراجات اور نقصانات کے عوض سوچیں تو یہی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اتنا ہی نہیں ، جانی نقصان کا خوف بھی نہیں رہے گا، ابتداء میں ساحلی پٹری کے شہروں کو منتخب کرکے منصوبے کو نافذکرنے کے لئے محکمہ مضبوط قدم رکھے تو توقع کی جاسکتی ہے کہ دس منٹ تک چلنے والی ہوائیں ہی نہیں طوفانی بارش  سے بھی نقصانات پر قابو پایا جاسکے گا۔ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہےکہ عوام کی طرف سے دئے جانے والے مشوروں،  مطالبوں اور اُن کی درخواستوں پر توجہ دیں اور  ودھان سبھا میں آواز اُٹھاتے ہوئے تبدیلی لائیں۔ ہوسکتا ہے کہ دکھ بھری قسمت کے سہارے جینے والے ساحلی عوام کے خاتمہ کے لئے موسم باراں ہی موزوں ثابت ہو۔

کیبل نظام کے متعلق ہیسکام بھٹکل کے معاون انجنئیر منجوناتھ سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے  کہا کہ ساحلی پٹی پر کیبل کے ذریعے بجلی کے تاروں کو جوڑنابہترین منصوبہ ہے ،لیکن اس کے لئےزیادہ  سرمائے کی ضرورت ہوگی،  البتہ نگرانی کا خرچ کافی کم ہوجائے گا۔ چونکہ یہ مالیات کا معاملہ ہے محکمہ کو اس کا فیصلہ لینا ہوگا۔

اس سلسلے میں ہبلی بجلی سپلائی کمپنی کے ساحلی ڈائرکٹر منجوناتھ نائک سے اس تعلق سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ اسی ماہ 18تاریخ کو ہیسکام کی میٹنگ ہے ، ساحلی پٹری پر بجلی کے حادثات سے تحفظ فراہم کرنےکے لئے کیبل نظام کی ضرورت کو لےکروہ  میٹنگ میں اس تجویز کو  ضرور پیش کریں گے۔ انہوں نے قبول کیا کہ شروعاتی خرچ زیادہ ہوسکتاہے لیکن کیبل کی نصب کاری کا منصوبہ بہت ہی بہترین ہے اور اس کام کے لئے اُن کی  مکمل حمایت حاصل ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں چاند نظر آگیا؛ بھٹکل سمیت کنداپور، اُڈپی ، مینگلور اور کمٹہ میں کل اتوار کو منائی جائے گی عید؛ سعودی عریبہ اور دبئی میں بھی عید کا اعلان

آج سنیچر نماز مغرب کے فوری بعدچاند نظر آنے کے بعد نہ صرف بھٹکل بلکہ پڑوسی علاقوں شیرور، بیندور، گنگولی، کنڈلور، کنداپور، اُڈپی اور مینگلور میں عید الفطر کا اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھٹکل کی مسجد خالد بن ولید (گول مسجد) میں ایک عالم دین مولانا یونس برماور ندوی اور ...

عیدالفطر کی رات کو ہوگی مسقط میں بھٹکل مسلم جماعت کی عید ملن تقریب؛ بچوں کےہوں گے رنگا رنگ اور دلچسپ پروگرام

بھٹکل مسلم جماعت مسقط کی جانب سے گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی شاندار عید ملن تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں بچوں کے رنگا پروگرام ہوں گے۔ عیدملن کی یہ خوبصورت تقریب عیدالفطر کی رات یعنی یکم شوال کو بعد نماز عشاء رامی  ڈریم ریسارٹ، سیب میں رکھی گئی ہے۔

سی بی ایس ای میں بھٹکل کی عائشہ ربیحہ اور ریحانہ مریم کی شاندار کامیابی؛ قطر اور مینگلور میں بھی بھٹکلی طلبہ کا شاندار پرفارمینس

ہر سال کی طرح امسال بھی میٹرک کے  CBSE میں بھٹکل اور اطراف کے طلبہ کے نتائج نہایت اطمینان بخش رہے ہیں اور بالخصوص گلف میں بھٹکلی طلبہ نے بہترین پرفارمینس کا اپنا ریکارڈ بحال رکھا ہے۔

بھٹکل رمضان بازار پر عوام کا ہجوم؛ بھٹکل سمیت پاس پڑوس کے علاقوں کی لوگ بھی خریداری کے لئے اُمڈ پڑے (29 ویں رمضان رات کی وڈیو جھلکیاں)

رمضان المبارک کے موقع پر آخری 10دنوں کے لئے مین روڈ پر لگائے جانے والا رمضان باکڑا بازار غریبوں اور متوسط طبقہ کے لئے بڑی اہمیت رکھتاہے۔ خاص کر آخر کے دو چاردن یہاں کپڑوں اور دیگر گھریلو اشیاء کی کروڑوں کی خریداری ہوتی ہے، اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ رمضان بازار صرف مسلمانوں کے لئے ...

ایس ایس ایل سی جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ کے بعد بھٹکل کے شریانک شیٹھ تعلقہ میں دوسرے رینک کے حقدار

ایس ایس ایل سی کے نتائج اعلان کئے جانے کے بعد طلبا کی طرف سے اپنے جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کئے جانے سے تعلقہ اور ضلعی رینکنگ میں لگاتار تبدیلی ہورہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تعلقہ کی شرالی چتراپور کے شریانک شری دھر سیٹھ کے سماجی سائنس کا پرچہ دوبارہ جانچ کرنے کے ...

بھٹکل کے ایم ڈی میاتھیو کی چھتیس گڑھ میں دستکاری کی تربیتی ورکشاپ میں شرکت

تعلقہ کے بینگرے میں اُسیرا انڈسٹریز کا قیام کرکے گذشتہ 25سالوں سے دستکاری اشیاء کی تیاری کرتےہوئے ملک و بیرون ملک فروخت کرنے والے کامیاب صنعت کا رخطاب پانے والے ایم ڈی میاتھیو کو چھتیس گڑھ کی حکومت نے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوتوا فاشزم کا ہتھکنڈا "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" ملک کے کئی حصوں میں خفیہ طور پر جاری

آر ایس ایس کے ہندو فاشزم کے نظریے کو رو بہ عمل لانے کے لئے اس کی ذیلی تنظیمیں خاکے اور منصوبے بناتی رہتی ہیں جس میں سے ایک بڑا ایجنڈا اقلیتوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنا اور خوف و دہشت میں مبتلا رکھنا ہے۔ حال کے زمانے میں سنگھ پریوار کی تنازعات کھڑا کرنے کے لئے ...

بھٹکل میں اندرونی نالیوں کے ابترحالات ؛ حل کے منتظر عوام :پریشان عوام کا وزیرا علیٰ سے سوال،  کیا ہوا تیرا وعدہ  ؟؟

یہ بھٹکلی عوام کے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں ہے، گرچہ یہاں کے عوام کے سامنے چاند سورج لانے کے وعدے کرنےکے باوجود عوام کے بنیادی سہولیات کی حالت دگرگوں اور قابل تشویش  کی حدتک جاری ہے، خاص کر بھٹکل شہر میں اندرونی نالیوں کا نظام عوام کو ہر طرح سے پریشان کررکھاہے۔

بھٹکل کے سڑک حادثات پرایک نظر : بائک کا سفر کیا………………سفر ہے ؟ غور کریں

’’ مجھے بہت غرورتھا اپنی بائک پر، تیز رفتاری پر، توازن پر ، سمجھتاتھا کہ میں بائک چلانے میں ماہرہوں، جتنی بھی تیز رفتاری ہو اپنی بائک پر مجھے پورا کنڑول ہے ،کراس کٹنگ میں بھی میرا توازن نہیں جاتا، جب چاہے تب میں اپنی بائک کو اپنی پکڑ میں لاسکتاہوں۔ لیکن جب میرا حادثہ ہوا تو ...

ٹی وی، موبائیل اورسوشیل میڈیا کی چکاچوند سے اب کتب خانے ویران :بھٹکل سرکاری لائبریری میں27 ہزار سے زائد کتابیں مگرپڑھنے والا کوئی نہیں

جدید ٹکنالوجی کے دورمیں موبائیل ، لیپ ٹاپ، ٹیاب کی بھر مار ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کو موبائیل دور کہا جاتاہے۔ واٹس اپ کی کاپی پیسٹ تہذیب ، تخلیق ، جدت اور سنجیدگی کو قتل کرڈالا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ موبائیل کے ذریعے ہی ہرچیز حاصل کرنے کو ہی جب ...

آزادی ، جدوجہد، مسلمان ، تاریخی سچائی اور ملک کی ترقی یوم آزادی مبارک ہو۔

درختوں پر لٹکتی لاشیں ، سڑکوں پر سسکتی ، ٹرپتی جانیں، حد نگاہ سروں کا ڈھیر ، زمین کا چپہ چپہ خون سے لت پت، سرِبازار عصمتیں تارتار، گھر زنداں ، بازار مقتل،بے گور وکفن پڑی نعشیں ، قید و بند کی صعوبتوں کو خوش آمدید کہتے مجاہدین، تختہ دار پر انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیتے ہوئے ...