آئندہ ودھان سبھاالیکشن کے پیش نظر بھٹکل کے سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوششیں شروع

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th March 2017, 5:11 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 26؍مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل میں آنے والے ودھان سبھا الیکشن کے پیش نظر سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوششیں رفتار پکڑنے لگی ہیں۔اس ضمن میں پارٹیوں کے لئے آکسیجن کی طرح ضروری" دل بدلی" کا پہلا دور ختم ہوگیا ہے، جس میں چند چھوٹے بڑے لیڈروں نے کانگریس سے ہاتھ چھڑا کر بی جے پی کے دامن میں پناہ لے لی ہے۔دوسری طرف کانگریس کی قیادت نے پارٹی کے اندر مختلف عہدوں پر اپنے لیڈروں اور اراکین کو بھرتی کرنے کے احکامات جاری کردئے ہیں ، جس پر عمل کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں تنظیمی سرگرمیاں تیز ہونے کی خبریں مل رہی ہیں۔ مگر یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال کانگریس سے مقابلے میں بی جے پی دو قدم آگے نکل گئی ہے۔

جے ڈی نائک کی سرگرمیاں:  خاص بات یہ دیکھی جارہی ہے کہ سابق ایم ایل اے جے ڈی نائک نے جب سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے تب سے بھٹکل ہوناور حلقے میں بی جے پی کی پارٹی سطح پر سرگرمیوں میں نئی تیزی آگئی ہے۔کیونکہ ابھی سے جے ڈی نائک نے گرام پنچایت سطح پر لوگوں سے ملاقاتیں کرنے اور اپنے پرانے کانگریسی حمایتی رضاکاروں کو بی جے پی کے پالے میں کھینچ لانے کی کوششوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔بوتھ سطح پر اپنے کاریہ کرتاؤں کو منظم کرنا بھی ان کے پروگرام میں شامل ہے، اور وہ اس طرف بہت ہی زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

بی جے پی کا عظیم الشان اجلاس:  اسی  دوران بعض ذرائع سے  یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ بی جے پی کی طرف سے برسات کا موسم شروع ہونے سے پہلے بھٹکل میں پچھڑے طبقات کے نام پر ایک زبردست اجلاس منعقد کرنے پر غور وخوض کیا جارہا ہے۔توقع ہے کہ اپریل کے آخر یا مئی کے اوائل میں یہ اجلاس منعقد ہوگا۔جس میں بی جے پی کے ریاستی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کرناٹکا یڈی یورپا اور ایشورپا کے علاوہ نیشنل لیول کے بی جے پی قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں بھی دیگر سیاسی پارٹیوں سے لیڈران اور رضاکاروں کو بی جے پی میں شامل کرنے کے علاوہ بی جے پی کی قوت کا مظاہرہ (شکتی پردرشن) کرناپارٹی کا اہم مقصد ہے۔برسات کے موسم سے پہلے ہی اس اجلاس کے انعقاد کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ برسات ختم ہوتے ہی دیپاولی تہوار کے بعد انتخابات کی تشہیری مہم شروع ہوجائے گی اور اس وقت بڑے سیاسی لیڈروں کو اجلا س میں شرکت پر آمادہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔فی الحال چونکہ ریاستی سطح کے لیڈران ننجنگوڈاورگونڈلوپیٹے کے ضمنی الیکشن میں مصروف ہیں اس لئے اجلاس کو تھوڑا مؤخر کردیا گیا ہے۔

اجلاس بھٹکل ہی میں کیوں؟:  آخر اس عظیم الشان اجلاس کے لئے بی جے پی نے بھٹکل کو ہی کیوں چنا ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ساحلی پٹّی میں بی جے پی کے لئے بھٹکل ہی مستحکم مقام ہے۔یہاں پرسن 93کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے شروع ہونے والا بی جے پی کا زور اب پوری طرح مضبوط ہوگیا ہے۔ اور یہیں سے بی جے پی نے کانگریس کے خلاف اس پورے علاقے میں قدم جمانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔اس کے علاوہ ضلع شمالی کینرا میں اکثریت رکھنے والے نامدھاریوں اور برہمن کے ووٹوں کو اپنے حق میں کرلینے والے اننت کمار ہیگڈے بھی ایک اہم عنصرہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس وقت میں بی جے پی میں موجود نامدھاری طبقے کے دو بڑے سیاسی لیڈران سابق وزیر شیوانند نائک اورسابق ایم ایل اے جے ڈی نائک اسی بھٹکل ہوناور اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔لہٰذا بی جے پی کی چال یہ ہے کہ انہی لیڈروں کو آگے رکھ کرضلع کے پچھڑے طبقات کو اپنے قریب کرنے اور کانگریس کے ووٹ بینک کو کمزور کرنے کی مکمل تیاری کرلی جائے۔، اور اس کے لئے بی جے پی کے پاس بھٹکل سے زیادہ موزوں کوئی اور مقام ہو نہیں سکتا تھا!

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں سنیل نائک کی جیت پر بی جے پی ورکروں اور لیڈروں کا شکریہ ادا کرنے خصوصی پروگرام

بھٹکل میں بی جے پی لیڈروں اور ورکروں کی کوششوں سے نوجوان چہرہ اور پہلی بار کسی انتخابات میں حصہ لینے والے  سنیل نائک کی اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت ہوئی ہے، ان کی جیت میں اہم رول ادا کرنے والوں  کا شکریہ ادا کرنے ایک اہم پروگرام یہاں کے ایک پروگرام ہال میں  منعقد کیا گیا

منگلورو سب جیل میں قیدیوں کے بیچ مارپیٹ

کوڈیال بیل میں واقع سب جیل میں قیدیوں کے بیچ مارپیٹ کی واردات پیش آئی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ایک سے زیادہ جرائم میں ملوث جلیل اور امتیاز نامی دو ملزم اس سب جیل میں قید ہیں اور یہ مار پیٹ ان دونوں کے درمیان پیش آئی ہے۔

بی جے پی کیخلاف کانگریس کا جاری کردہ ٹیپ جعلی، کرناٹک کانگریس رکن اسمبلی کابیان، کانگریس پریشان 

بی جے پی کے خلاف کانگریس کے ایک جاری کردہ ٹیپ سے کانگریس کی ٹکٹ پر جیت درج کرنے والے یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹیپ کو جعلی قرار دیاہے۔ اور اس بات کو غلط قرار دیا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں رقم کی پیشکش کی گئی تھی اور وزارتی عہدہ دینے کا بھی ...

فتح کے جشن میں پاکستان نواز نعرے بازی کا جھوٹا ویڈیو۔ مینگلور پولس اسٹیشن میں کانگریس کی طرف سے شکایت درج

بی جے پی کے وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کے استعفیٰ دینے اور کانگریس جے ڈی ایس محاذ کے لئے حکومت سازی کی راہ ہموار ہونے کی خوشی میں منگلور و کے کانگریس دفتر میں جشن فتح منایاگیاتھا۔ لیکن اس تعلق سے ایک ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر عام ہواتھا جس میں جشن کے دوران پاکستان نواز نعرے بازی ...

کرناٹک کا پیغام: جہد وجہد سے ہی کامیابی ملتی ہے ........ تیشہ فکر عابد انور

کہاوت ہے’ جیسے راجہ ویسے پرجا‘ اس کا نظارہ ہندوستان میں خوب دیکھنے کو مل رہا ہے۔لوگوں نے سر عام اور سوشل میڈیا پر گالیاں دینا سیکھ لیا ہے، عورتوں کی عزت و عصمت اور اس کے وقار کو کیسے مجروح کیا جاتا ہے یہ بھی سیکھ لیا ہے، فراٹے سے جھوٹ کیسے بولا جانا ہے اس  فن میں حکمرانوں کی طرح ...

کرناٹک اسمبلی الیکشن طے کرے گا پارلیمانی الیکشن کی سمت؛ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے اِس پار یا اُس پار کی جنگ

کرناٹک میں 12 مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں جس کے لئے پوری ریاست میں انتخابی ماحول گرم ہوچکا ہے، ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ کرناٹک کا الیکشن  ایک سال بعد آنےو الے پارلیمانی انتخابات  کی سمت طے کرے گا اور ملک کی ہوا کا رُخ کس سمت میں ہے، اُسے صاف طور پر ...

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا! ۔۔۔۔۔ از: ندیم احمد انصاری

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔

ہندوستانی فوجی جنرل نے جمہوری لائن آف کنٹرول کو پھلانگ دیا .... تحریر: مولانا محمد برہان الدین قاسمی

ہندوستانی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سیاسی جماعتوں پر تبصرہ کر کے ۲۱ فروری، بروز بدھ ملک میں ایک غیر ضروری طوفان برپا کر دیا۔ مولانا بدرالدین اجمل کی نگرانی میں چلنے والی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ آسام کی ایک مقبول سیاسی جماعت ہے۔ جنرل بپن راوت نے دعوی کیاہے کہ ...

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...