ماہی گیری کشتیوں پر لائٹنگ کا استعمال بند؛ بھٹکل کے ماہی گیر پریشان

Source: S.O. News Service | By V. D. Bhatkal | Published on 4th May 2017, 10:48 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:4/ مئی (ایس اؤنیوز)موسم گرماکی وجہ سے سمندرمیں مچھلیوں کا شکار نہ کرپانے پر ماہی گیر پہلے سے ہی پریشان تھے، مگر اب بوٹوں پر لائٹنگ پر پابندی عائد کرنے کے بعد ماہی گیروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور شکار کے لئے جانے والے ماہی گیروں کو خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ 

گذشتہ ایک دہے سے ماہی گیری کسی ایک خاص طبقہ کا پیشہ نہیں رہا، صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلمان، عیسائی بھی زیادہ تعداد میں ماہی گیر کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ تعلقہ میں خواتین اور بچے سمیت کل 76،000ماہی گیر ہیں، مچھلی شکار سے لے کر فروخت کاری ، برآمد، سپلائی پر مشتمل ایک بڑی صنعت کے روپ میں جاری ہے اسی کے زیر اثر کئی چھوٹے موٹے روزگار کے مواقع پید اہوئے ہیں جس سے ہزاروں لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن انسان بڑا حریص اور لالچی واقع ہوا ہے، کم مدت میں سمندر سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی لالچ میں ماہی گیروں نے جو سازشی جال بُنا تھا وہ خود اسی میں پھنستے نظر آرہے ہیں، گل اور جال سے مچھلی شکار کرنے والا ماہی گیر مطمئن نہ ہوکر گہرے سمندر میں لائٹنگ کے ذریعے مچھلیوں کا شکار کرنے چلا تو مچھلیوں کی نسلیں بربادہونے لگی، کیونکہ لائٹوں کو دیکھ کر مچھلیاں بوٹو ں کی طرف لپکتی تھی اور موٹروں سے ٹکراکر ہلاک ہوجاتی تھیں، اس طرح لائٹنگ سے سینکڑوں مچھلیوں کی نسلوں کو سخت نقصان پہنچا۔  ویسے اب لائٹنگ کے ذریعے ماہی گیر ی پر پابندی عائدکی گئی ہے، مگر  ایک مہینے سے روشنی بند کرنے کے ساتھ ہی سمندر میں مچھلیاں بھی غائب ہوگئی ہیں ، اور ماہی گیر بوٹوں پر رات بھر سمندر کے بیچ پہنچ کر خالی ہاتھ واپس  لوٹ رہے ہیں۔

تعلقہ میں 136فشنگ بوٹ، 20پرشین بوٹ، 60گہرے سمندرمیں اُتر کر ماہی گیری کرنے والے بوٹ سمیت کل 226بوٹ مچھلیوں کے شکار کے لئے مختص ہیں۔ گذشتہ دسمبر میں گہرے سمندر میں روشنی (لائٹنگ) کے ذریعے ماہی گیری ہورہی تھی جس پر محکمہ ماہی گیر نے مارچ تک ختم کرنے کی سخت ہدایات دی تھیں، اس کو دیکھتے ہوئے جنریٹر ، لائٹس وغیرہ ساحل پر پہنچ گئے ۔امسال کچھ پرشین بوٹوں کی بہتر کمائی کے علاوہ بقیہ تمام بوٹ والے مشکلات میں ہیں۔ مچھلی ملے نہ ملے بوٹ چلتی رہنی چاہئے ، خالی لوٹی تو ہزاروں روپئے کے ڈیزل کا نقصان یقینی ہے۔ کچھ ماہی گیر مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے بوٹ سے اترکر خود چھوٹی چھوٹی مشینی بوٹوں کے ذریعے مچھلیوں کے شکار میں مگن ہیں، یہاں بھی کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ ایک طرف  بینکوں سے قرضہ لے کر بوٹ خرید کر مچھلیوں کے شکار کے لئے اُترتے ہیں، مگر اب مچھلیاں نہیں مل رہی ہیں تو بینک اُن کے  پیچھے پڑگئے ہیں۔ ماہی گیروں کے لئے مچھلیوں کے بزنس کے علاوہ  کمائی کا کوئی  دوسرا ذریعہ بھی نہیں ہے،اب صرف ماہی گیری کے لئے صرف ایک ماہ باقی ہے، ماہی گیروں نے بتایا کہ  اُنہیں خود سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ  کیا کریں ،کام چھوڑ کر دوسرے شہر بھاگ جائیں یا اپنی بغلیں اٹھائیں۔

محکمہ ماہی گیر کے معاون ڈائرکٹر روی نے بتایا کہ امسال مچھلیوں کے شکار میں کافی کمی آئی ہے، پرشین بوٹ لائٹننگ کے ذریعے کچھ کمانے کے علاوہ سب کے سب مصیبت میں ہیں، روایتی ماہی گیر ی پر زبردست مار پڑی ہے۔انہوں نے صلاح دی کہ  لائٹننگ ماہی گیری پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہئے، ورنہ پرشین بوٹ لائٹنگ کے ذریعے سمندر میں اُتریں گی تو  مچھلیوں کی نسل کشی میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

پتور: سڑک حادثے میں ولیج اکاؤنٹنٹ ہلاک

پتور کے پونجا گاؤں میں ولیج اکاؤنٹنٹ کے فرائض انجام دینے والاسدیش رائے بالنجا(32سال) اس وقت ہلاک ہوگیا جب وہ اپنی موٹر بائک پر کہیں جارہاتھا تو ایک کار نے اسے ٹکر ماردی۔

ساحلی علاقے میں موسلادھار بارش۔ آسمانی بجلیوں کے نقصانات

ساحلی علاقے میں اور خاص کر جنوبی کینرا ضلع میں اتوار کی شام سے رات دیر گئے تک زبردست بارش ہوئی ہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بجلیوں کے کڑکنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بعض مقامات پر بجلی گرنے سے گھروں کونقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بھٹکل میں زائد منافع کالالچ دے کر 100کروڑ سے زائد رقم کی دھوکہ دہی کا الزام : کمپنی مالکان کے گھروں کا گھیراؤ اور احتجاج

شہر کے آزاد نگر میں واقع فلالیس نامی کمپنی کے مالکان  پر سو کروڑ سے زائد رقم لے کر فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سینکڑوں لوگوں نے آج اُن  کے مکانوں  کا گھیراو کیا اور اپنی رقم واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔  احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ   فلالیس نامی جعلی کمپنی ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...