بھٹکل کی سڑکیں اور فُل ٹرافک جام : پیدل سواروں اور راہ گیروں کے لئے راستوں پر چلنا دشوار

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 1st October 2016, 9:48 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:یکم اکتوبر(ایس او نیوز) دن بدن  راکٹ کی رفتار سے ترقی کی طرف گامزن شہر بھٹکل میں فُل ٹرافک جام ، اتنا جام ہوتاہے کہ بعض دفعہ عورتوں، عمررسیدہ بزرگوں اور بچوں کو سڑک پار کرنا محال ہوجاتا ہے۔ سمندر کنارے کھڑے ہوکر دیکھیں تو حد نگاہ تک جس طرح پانی ہی پانی نظرآتاہے بالکل اسی طرح بھٹکل شہر میں جہاں دیکھو وہاں سواریوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ایک طرف بس اسٹانڈ، بالکل اس کے روبرو پرائیوٹ بس کی بھاگ دوڑ، آس پاس آٹو رکشا اسٹانڈ، سڑک کے اس پار ٹمپو اسٹانڈ ، ان سب جھمیلوں کے بیچ میں سے گزرنے والی قومی شاہراہ پر ممبئی ، گوا سمیت ملک کے مختلف مقامات کو جانے والی سوپر اسپیڈ سواریوں کا گذر، اس  منظر سے ہی پتہ چل جاتاہے کہ شہر بھٹکل کی سڑکیں کتنی مصروف ہیں۔

سواریوں کا ذکرکریں تو بھٹکل میں ایک اندازے کے مطابق 500آٹو رکشا ہیں، سیکڑوں نجی ٹمپو ہیں،سیکڑوں کے ایس آر ٹی سی کی بسیں اور یکے بعد دیگرے پرائیوٹ بسوں کی آمد ورفت اور    سیاحوں کی سواریاں ۔ اگر بھٹکل باشندوں کی بات کریں تو اکثر گھروں میں چار پہیہ کاریں ، 50ہزار سے زائد بائک ہونے کا اندازا لگایا گیا ہے۔

جب روزانہ اتنی ساری بے شمار سواریاں سڑک پر اترتی ہیں تو پھر ٹرافک جام نہیں ہوگا تو کیاہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی سواری نہ خریدے ۔ بلکہ مقصود یہ ہے کہ سواریوں میں اضافہ کے ساتھ سڑکوں پر ہونے والے ٹرافک جام سے پیدل چلنے والے  ، راہ گیراور بائک سوارہر لمحہ خطرے میں محسوس کررہے ہیں۔ حالات تقاضا کررہے ہیں کہ موجودہ ٹرافک جام سے پیش آنے والی مشکلات کو دورکرتے ہوئے مناسب کارروائی کرنا متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اچانک سڑک پر کبھی حادثہ پیش آتاہے تو دونوں طرف کئی کلومیٹر لمبی سواریوں کی لائن لگ جاتی ہے۔

صبح سویرے اسکول ، کالج، دفاتر جانےاور شام میں گھر لوٹنے کے دوران بھٹکل کے قلب شہر شمس الدین سرکل سمیت کئی ایک مقامات پر ٹرافک جام معمولی بات ہوگئی ہے۔ خاص کر شمس الدین سرکل پر طلبا اور عوام کو سڑک پار کرنا دشوار ہونے کے علاوہ سڑک پار کرنا ہی ایک جرأت مندی کاکام ہوگیاہے، اور اگر کسی نے سڑک پار کرنے کے لئے جلد بازی کی تو حادثہ یقینی ہونے جیسے حالات ہیں۔ جیسے جیسے شہر میں سواریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اسی مناسبت  سے حادثات میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ اگر یومیہ شرح نکالیں تو روزانہ پانچ چھ حادثات کی تعداد نکلتی ہے۔ ان سڑک حادثات کے نتیجے میں کئی لوگ ہاتھ پیر توڑلیتے ہیں ، قسمت خراب ہے توجان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں، ویسے بھٹکل میں بائک سواریوں کی تیز رفتار ی حیران کردینے والی ہوتی ہےکرتب بازی اور کٹ رائیڈنگ بائک سواروں کے ساتھ معصوم عوام کے لئے بھی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے۔ سواریوں کی رفتار شہری حدود میں 20سے 30 کے درمیان   ہونی چائیے ،  لیکن بھٹکل میں عام رفتار ہی 60-70ہوتی ہے ، اس سے کم ہونے کا کوئی چانس ہی نہیں ہے ، اچانک کوئی سڑک کے درمیان آجاتاہے تورائڈر کے توازن کا  اللہ ہی حافظ۔ ان حالات میں کون مرا ، کون بچا، کون زخمی ہوا، کہنے کی بات نہیں ہے۔

ٹرافک جام کنٹرول کیسے کرسکتے ہیں: بھٹکل میں سردرد بنے ٹرافک جام کاکنڑول اور حادثات میں کمی لانے کے لئے متعلقہ محکمہ جات سنجیدگی سے غورو فکر کریں تو یقیناً حل مل سکتاہے۔ سب سے پہلے بھٹکل میں ٹرافک پولس تھانے کا قیام ہو، اس کے ذریعے ٹرافک پولس متعینہ مقامات پر نگرانی کرتے ہوئے ٹرافک جام ہونے نہ دیں۔ جہاں ضروری ہے وہاں سگنل لائٹ کی نصب کاری ہو، فورلین تعمیری کام میں تیزی لائیں، جتنا جلد ہو اس کام کو مکمل کریں ، فلائی اوور کا کام بھی شروع ہوجاناچاہئے۔ جس کے نتیجے میں کئی ایک سواریاں فلائی اوور کے ذریعےباہر سے ہی  نکل جائیں گی ۔

اسی طرح یہ بتایا جاتاہے کہ بھٹکل میں کئی سواریاں دستاویزات اور لائسنس کے بغیر چلائی جاتی ہیں، پولس محکمہ شفافیت کے ساتھ سواریوں کی جانچ کرے۔ 50سے زائد رفتاروالی سواریوں پر جرمانہ عائد کرے۔ اس طرح کے دیگراقدامات بھی کئے جاتے ہیں تو حادثات میں کمی ہونے اور قیمتی جانیں محفوظ ہونے کی امید عوام لگارہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ریت کی سپلائی کا مستقل حل ڈھونڈ نکالنے بھٹکل رکن اسمبلی کی وزیراعلیٰ سے ملاقات؛ تعمیراتی کام ٹھپ پڑنے سے مزدوربھی پریشان

منگل کی شام بنگلورو کے ودھان سبھا ہال میں وزیرا علیٰ کمار سوامی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے اترکنڑا، اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع میں ریت سپلائی شروع نہیں  کئے جانے سے پیش آنے والے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے خوشگوار طورپر حل کرنے  کے لئے ریاستی ...

ہیلمٹ اور کاغذات نہ ہونے پربھٹکل پولس نے وصولا ایک ماہ میں 85 ہزار روپیہ جرمانہ؛ بائک اور کار کے بعد اب آئی آٹو کی شامت

شہر میں نئے آنے والے پولس سب انسپکٹر " کے کوسومادھر" جگہ جگہ گاڑیوں کی چیکنگ کرنے  میں لگے ہوئے ہیں اور ہیلمیٹ نہ پہننے ، گاڑی کے ضروری دستاویزات نہ ہونے، بغیر لائسنس گاڑی چلانے وغیرہ پر جرمانہ عائد کررہے ہیں۔  اب تک موٹر بائک اور کار وغیرہ کو روک کر چیکنگ کی جارہی تھی، مگر آج ...

کاروار: کرناٹکا اوپن یونیورسٹی کے لئے بی اے ، بی کام، ایم اے ، ایم کام داخلے کے لئے عرضیاں مطلوب: خواہش مند طلبا توجہ دیں

کرناٹکا اوپن یونیورسٹی کے  2018-2019کے تعلیمی سال سے لے کر 2022-2023تک یوجی سی کی طرف سے تصدیق کردہ بی اے ،بی کام ، بی لب،اور ایم اے کے مختلف کورسس کے لئے عرضیاں مطلوب ہیں۔ داخلے کے لئے بغیر جرمانہ کے 1اکتوبر آخری تاریخ  ہونے کی پریس ریلیز میں جانکاری دی گئی ہے۔

بھٹکل انجمن پی یوکالج  طلبا کی 3ٹیمیں ’آئی ٹی کوئز ‘مقابلے  میں ریجنل لیول کے لئے منتخب

انجمن پی یو کالج بھٹکل کی 3طلبا ٹیمیں کاروار  کے بال مندر ہائی اسکول میں منعقدہ ٹاٹا کنسلٹنسی انٹرکالج ابتدائی  آئی ٹی کوئز مقابلے میں  اپنی بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہوئے ریجنل لیول کے لئے منتخب ہوئی ہیں۔ 10 اکتوبر کو دھارواڑ میں منعقد ہونے والے ریجنل لیول میں کالج کی ...

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ؟ کاروار میٹنگ میں کئی اہم آفسران کی غیر حاضری پر دیش پانڈے گرم

کیا جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ مسائل حل کرنے میں ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی  دیش پانڈے ہورہے ہیں ناکام ثابت ہورہے ہیں ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہورہا ہے کہ پیر کو کاروار کے  ضلع پنچایت میٹنگ ہال میں منعقدہ کرناٹکا ڈیولپمنٹ پروگرام (کے ڈی پی) کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...