بھٹکل سب جیل کی خستہ حالت۔ زیر سماعت قیدیوں کے لئے اضافی مصیبت

Source: S.O. News Service | By Vasanth Devadig | Published on 12th August 2018, 7:14 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل12؍اگست (ایس او نیوز) زیرسماعت قیدیوں کے لئے مختصر عرصے تک قیام کی سہولت کے طور پر جو ذیلی قید خانہ ( سب جیل) تھا اس کی خستہ حالت کی وجہ سے دو سال قبل اسے بندکردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایک یا دو دن کی عدالتی حراست میں دئے جانے والے قیدیوں کو تین گھنٹے کا سفر کرکے کاروار لے جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے قیدیوں کے ساتھ بطور سیکیوریٹی جانے والے پولیس عملے کو بھی مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھٹکل کے ریوینیو دفتر کے احاطے میں موجود اس سب جیل کے کمروں کی حالت بہت ہی خستہ ہوگئی ہے اور اس کی پچھلی دیوار گرجانے کے بعد اس ذیلی قید خانے کومرمت ہونے تک کے لئے بند کردیا گیاتھا۔ اس بات کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، مگر سب جیل کو درست کرنے کی طرف افسران توجہ نہیں دے رہے ہیں۔جس کے نتیجے میں سب جیل کے لئے مختص دو کمرے یونہی ویران پڑے ہوئے ہیں اور وہاں ٹریژری کی حفاظت پر ماموربینچ پر بیٹھے ہوئے ایک پولیس کانسٹیبل کے علاوہ کوئی انسان نظر نہیں آتا ۔


بھٹکل میں سب جیل کی سہولت مہیا نہ ہونے کی وجہ سے ہر زیر سماعت قیدی کوبس کے ذریعے تین گھنٹوں کا سفر کرکے کاروار لے جانا اور عدالت میں دوبار ہ پیش کرنے کے لئے بھٹکل لانا پڑتا ہے۔ قیدیوں کے لئے اضافی مصیبت تو یہ ہوجاتی ہے کہ اگر عدالت شام کے آخری وقت میں کسی قیدی کو رہا کرنے کا فیصلہ سناتی ہے تو اس کی تصدیق شدہ نقل حاصل کرکے کاروار جیل کے افسران تک پہنچانے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اور اکثر اوقات جیل کا عملہ دفتری وقت ختم ہونے کی وجہ بتاکر قیدی کے رشتے داروں کو دوسرے دن آنے کی ہدایت کے ساتھ واپس بھیج دیتا ہے۔ اس طرح قیدی کو عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود مزید ایک رات اور دوسرے دن کا کچھ حصہ اضافی سزا کے طور پر جیل میں گزارنا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے پولیس کوبھی بڑی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ 

اس سلسلے میں ایڈوکیٹ ایم جے نائک نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھٹکل سب جیل کا مسئلہ شروع ہوکر دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں کسی کوبھی کوئی فکر نہیں ہے۔اس سے عام لوگوں کو بڑی تکلیف ہورہی ہے۔ اس تعلق سے عوامی منتخب نمائندوں کو توجہ دیتے ہوئے مناسب اقدام کرنا چاہیے۔جبکہ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے سررشتہ دار سنتوش بھنڈاری نے بتایا کہ سب جیل کی پچھلی دیوار گرجانے کی وجہ سے اسے بندکردیاگیا ہے۔ اس کی مرمت کے لئے پی ڈبلیو ڈی سے مطالبہ کیا گیا ہے۔لیکن فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک یہ تجویز یوں ہی التوا میں پڑی ہوئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...