بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 25th November 2018, 2:15 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:24؍نومبر (ایس او نیوز)   تعلیمی سال 2018-2019 کا آدھا تعلیمی سال گذر چکاہے اور اگلے دو تین مہینوں میں سالانہ امتحانات ہونے والے ہیں، لیکن بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں میں سرکار کی جانب سے دئے جانے والے شوز کی تقسیم ابھی تک نہیں ہوپائی ہے، جس پر عوام سوالات اُٹھارہے ہیں کہ آخر شوز کی رقم کہاں ہے ؟

بھٹکل تعلقہ کےہائی اسکولوں میں 1000سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ریاستی حکومت نے طلبا میں شو اور ساکس کی تقسیم کےلئے  متعلقہ اسکولوں کو رقم منظور کرچکی ہے مگر ابھی  تک شوز کی خریداری مکمل نہیں ہوئی ہے۔ (قومی پرائمری تعلیمی منصوبے کے ماتحت آنے والے 4اسکول شوز مسئلہ سے پار ہوگئے ہیں) ۔ مقامی سطح پر کم قیمت پر معیاری شوز خریدنے کاسبق پڑھاتے ہوئے اساتذہ، افسران  تعلیمی سال  مکمل   ہونے کے انتظار میں ہیں۔ اگلے دو تین مہینوں میں سالانہ امتحانات شروع  ہوجائیں گے،ایسے میں طلبا اور سرپرستوں کے سوال  کا کوئی جواب نہیں مل پارہاہے کہ سرکاری منصوبے سے منظور شدہ شو اور  ساکس کی تقسیم کاری کب ہوگی؟ اسی طرح عوامی سطح پر چہ مئگوئیاں بھی ہوری ہیں کہ کیا  کہیں سرکارکی طرف سے منظور شدہ رقم کا غلط استعمال تو نہیں ہورہا ہے یا پھر سیاسی مداخلت وجہ سبب بنی ہے؟۔

اس تعلق سے جب  افسران سے دریافت کیا گیا تو ان کا جواب یہ تھا کہ  بھٹکل سرکاری ہائی اسکولوں کے بینک کا کھاتہ نمبر غلط درج ہونے کی بنا پر رقم منتقلی کا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے طلبا شوز اورساکس سے محرو م رہ گئے ہیں۔ اسکول اکاؤنٹ نمبر متعلقہ اسکولوں کے صدور مدرس ہی دیتے ہیں ، رجسٹرڈ کرنے والے محکمہ تعلیمات کے  سرکاری افسران ہوتے ہیں ، جب آفسران سے پوچھا گیا کہ  ان دونوں میں  غلطی کس کی طرف سے ہوئی  ہے تو جواب نہیں دیا گیا۔  اس دوران 3-4 اسکولوں کو شو دئیے گئے ہیں مگر ابھی تک تقسیم نہیں کئے گئے  ہیں، جب  پوچھا گیا کہ طلبا میں شوز کب تقسیم ہوں  گے تو جواب ملا  کہ ابھی اس کی قسمت نہیں کھلی ہے۔

حکومت اعلان کرتی ہے کہ تعلیمی سال کے شروع میں ہی طلبا کو ضروری اشیاءمہیا کئے جاچکے  ہیں۔ لیکن عوام پوچھ رہے ہیں کہ  عوامی نمائندے ، اساتذہ ، افسران کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے پورا نظام ٹھپ ہورہاہے  آخر اس کو  کیسے  برداشت کریں۔

معاملے کو لے کر بھٹکل بی ای اؤ دفتر کی وسائل آفیسر یلما سے بات کی گئی تو انہوں نےقبول کیا کہ  اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کے طلبا میں شو ز اورساکس تقسیم ہوجانے چاہئے تھے۔ سرکار نیفٹ کے ذریعے متعلقہ اسکولوں کے کھاتوں کو رقم جمع کرتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ  شو تقسیم کیوں نہیں ہوئے اس سلسلے میں وہ متعلقہ  ہائی اسکولوں کے صدور اور مدرسین  سے تحریر ی جواب مانگیں گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...