بھٹکل: شرالی میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کو لےکر عوام کی سخت مخالفت؛ کام روک دیا گیا

Source: S.O. News Service | Published on 12th January 2019, 1:14 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:12؍ڈسمبر (ایس او نیوز)قومی شاہراہ 66 کی توسیع کو لے کر شرالی میں  عوامی سطح پر پھر ایک بار سخت  برہمی کا اظہار کیا جا رہاہے۔ جمعہ کو شاہراہ  کی توسیع کے کام کو انجام دینے کے لئے آئی آر بی کمپنی کا عملہ اور مزدور جب آگے بڑھے تو  اُنہیں  کو کام کرنے سے روکتے ہوئے عوام نے  کسی بھی حال میں  شاہراہ کی توسیع 30میٹر کرنے پر  سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کام میں رُکاوٹ پیدا کردی جس کی وجہ سے   ٹھیکیدار کمپنی کے مزدور جے سی بی مشینو ں کے ساتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔

جیسا کہ ساحل آن لائن سے 13 ڈسمبر کو خبر دی تھی کہ بھٹکل کوالٹی ہوٹل سے شیرور تک  نیشنل ہائی وے فورلین کو 45 میٹر کے بجائے 30 میٹر کی گئی ہے، اُسی حساب سے  شرالی بازار میں جب ہائی وے کا کام شروع کرنے کی کوشش کی گئی  تو عوام نے یہ کہہ کر کام کو روک دیا کہ  چوڑائی  45میٹر کے حساب سے ہی ہونی چاہئے۔ عوام کی طرف سے تعمیری کام میں رکاوٹ کی خبر ملتے ہی   اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا اور مضافاتی  پولیس تھانے کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور عوام کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی۔ 

30میٹر توسیع کی مخالفت کرنے والے عوام کاکہناتھا کہ اس سلسلے میں گرام پنچایت کی جانب سے تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ ضلع ڈپٹی کمشنر سے رجوع کیا گیا ہے اور چوڑائی کو 45میٹر تک رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈی سی کی طرف سے اس ضمن میں کوئی جواب آنے سے پہلے ہی ٹھیکیدار کمپنی کی طرف سے کام شروع کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر عوام نے خود ہی سڑک کی توسیع ناپ کر افسران کو دکھایا کہ آپ لوگوں نے چوڑائی 30میٹر سے بھی کم رکھا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر  ساجد ملا نے بتایا کہ مزید چوڑائی کے لئے جو زمین درکار ہے اس کے لئے زمین مالکان تحریری طور پر جب تک زمین تحویل میں دینے کی رضامندی ظاہر نہیں کرتے تب تک 45میٹر کی توسیع کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس پر عوام نے بتایا کہ اس سے پہلے گرام پنچایت کی جانب سے ڈی سی کو 8 زمین مالکان کی طرف سے رضامندی والی تحریر دی جاچکی ہے۔ اب اگر اس میں کچھ مزید افراد ہیں تو ہم ان سے ملاقات کرکے اس بات کے لئے راضی کروا لیں گے۔اس طرح تعمیری کام کو روک دیا گیا۔

 سنیچر کو اس تعلق سے  پھرایک بار میٹنگ منعقد کرنے کے بعد اگلی کارروائی کرنے کاتیقن دیا گیا ہے۔ سی پی آئی گنیش سمیت پولس کا کافی عملہ موقع پر موجود تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی ...

ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔