بھٹکل:جھوٹی یقین دہانیوں میں ہی بوسیدگی کا شکار پلی ندی کا پُل: عوامی نمائندوں کا منتظر

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 25th September 2016, 9:28 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل  :۲۵/ستمبر (ایس او نیوز)  یہاں عوام مسجد کو کنڑی زبان میں ’’پَلیِّ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ، تعلقہ کے شرالی سے الویکوڑی جانے کے لئے سفر کرتے ہیں تو وہاں ایک ندی بہتی نظر آئے گی ، ندی کے بالکل پاس ہی مسجد ہونے کی وجہ سےیہ  ندی ’’ پلی ندی ‘‘کے نام سے معروف و مشہور ہے۔ ندی کو پار کرنے کے لئے زمانہ قدیم پہلے جو برج تعمیر کیا گیاتھا وہ بوسیدہ ہوگیا ہے ، سیاست دانوں کے جھوٹی یقین دہانیوں کی بدولت  یہ پُل خطرے میں ہے اور اس پر گزرنے والے مسافر جان مٹھی میں باندھ کر گزرنے کی شکایت کررہے ہیں۔

1971-72کے قریب تعمیر کردہ یہ برج صرف سواریوں کے لئے ہی نہیں بلکہ راہ گیروں کے لئے بھی خطرہ بنا ہواہے۔ پُل کانپتاہے، پل کے ستون (پلرس )  ٹکڑے ٹکڑے ہوکر ندی کے حوالے ہوتے جارہے ہیں، پل پر گڑھوں کا راج ہے، پل کی تعمیر کے وقت  سواریوں کی آمد و رفت پیش نظر نہیں تھی ۔ اس قدیم برج کی وسعت بہت ہی کم ہے، لیکن عوام مجبور ہیں کہ اپنے گھر پہنچنے کے لئے اسی پل سے انہیں گزرنا ہے، متبادل راستوں کی تلاش کریں تو 10-12کلومیٹر کی دوری طئے کرنی ہوتی ہے۔ تعلقہ کے الویکوڑی ، تٹی ہکل ، سنبھاوی سمیت اطراف کی دیہات میں 1000گھر ہیں ، 4000سے زائد کی آ بادی ہے، موٹر بائک، آٹور کشا بھی قابل ذکر تعداد میں ہیں۔ اس کے علاوہ ہر گھنٹے کے بعد سرکاری بس بھی اسی پل سے گزرتی ہے، روزانہ سیکڑوں طلبا یہاں سے گزرتے ہیں، حالیہ دنوں میں  الویکوڑی کے علاقے میں کچھ ترقیاں نظر آرہی ہیں، سمندر کنارے درگاپرمیشوری مندر ضلع کی  مشہور مندرہے، ریاست کے مختلف علاقوں سے مندر کے درشن کے لئے بھگت آتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کروڑوں روپئے کی لاگت سے بندرگاہ کی تعمیر کی گئی ہے، بہت تھوڑا سا کام باقی ہے اس کے بعد سیکڑوں ماہی گیر ی کی کشتیاں لنگر ڈالیں گی ۔ راستے پر دوڑنے والی سواریوں کی تعداد میں 5دگنی ہوگی ۔ اس سے متصل بھٹکل سے شرالی ، الویکوڑی ، سنبھاوی ، مرڈیشور ، منکی  ہوتے ہوئے اپسرکونڈا تک ماہی گیروں  اور مسافروں کی سہولت کے لئے سرکاری بس دوڑانے کابھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بہت جلد پہلے مرحلے میں بھٹکل سے شرالی ، الویکوڑی سے ہوتے ہوئے مرڈیشور تک بس چلے گی ۔ ایسی تمام سواریوں کے لئے پلی برج ہی قریبی راستہ ہے، اگر خدانخواستہ پل گرگیا تو علاقہ کے عوام کا خدا ہی حافظ۔ یہ عام لوگوں کی مانگ ہے۔ لیکن عوامی نمائندوں کے غفلت کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ گذشتہ 8سالوں سے یہاں کے عوام سرکار کو توجہ دلاتے رہے ہیں، بی جے پی حکومت کے سامنے جو مانگ رکھی گئی تھی وہی مانگ پلی ندی میں  بہہ کر کانگریس کے سامنے آگئی ہے۔5-6سال پہلے پل کی تعمیر کی لاگت 2-3کروڑ روپئے تھی تو اب وہ 5کروڑ پار کر رہی ہے۔ پل کب کانپتا ہے ، کب گرتاہے کہہ نہیں سکتے ۔ بھٹکل میں ترقی کی کوئی کمی نہیں ہے، شہرمیں نئے نئے منصوبہ جات جاری ہوتے رہتے ہیں۔ علاقہ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ تعمیراتی کی فہرست میں ہمارے اس خواب کو بھی شامل کرکے پل کی تعمیر کی جاتی ہے تو علاقہ کی قسمت  چمکے گی۔

ماہی گیر لیڈر راماموگیر نے اس سلسلے میں خیال ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ 8-7سالوں سے پلی ندی برج کے لئے مسلسل مطالبہ اور مانگ کی جاتی رہی ہے، لیکن یہ صدا بصحرا  ثابت ہورہی ہے۔ سال بہ سال تعمیر ی لاگت میں اضافہ ہوتے جارہاہے، ضلع نگراں کار وزیر آر وی دیش پانڈے کو بھی توجہ دلائی گئی ہے، ضروری اقدام کرنے کا تیقن دئیے ہیں، ہمیں پوری امید ہے کہ موجودہ حکومت اپنی میعاد مکمل کرنے سے پہلے ہماری مانگ پوری کرے گی۔

:SahilOnline Coastal news bulletin in URDU dated 26 September 2016

 

ایک نظر اس پر بھی

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

ہلیال میں جے ڈی ایس لیڈر کے گھر پر انتخابی افسران کا چھاپہ ۔تلاشی کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹے افسران؛ کیا بی جےپی کو شکست کا خوف ہے؟

پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر چیک پوسٹس پر تلاشی مہم کے علاوہ ہلیال شہر کے گوداموں، شراب کی دکانوں، موٹر گاڑیوں کی بھی مسلسل تلاشیاں لے رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بی جے پی اور مودی پر راست حملہ، کہا؛ پسماندہ طبقات کومزید کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی ہے

بی جے پی بھلے ہی اپنے آپ کو اقلیت مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہو، مگر  دیکھا جائے تو یہ پارٹی حقیقتاً پسماندہ طبقات، دلت اور ادیواسیوں کو  مزید  کمزور کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے اور صرف ایک طبقہ کو برسراقتدار پر لانے میں کوشاں ہے۔ یہ بات  آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی ...

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

کرناٹک کا سب سے اہم حلقہ گلبرگہ؛ کیا ا س بار کانگریس اپنا قلعہ بچا پائے گی..؟ (آز: قاضی ارشد علی)

ملک بھر میں چل رہے 17ویں لوک سبھا کے انتخابات کے دو مراحل مکمل ہوچکے ہیں ۔تیسرا مرحلہ 23؍اپریل کو مکمل ہوگا ۔ریاستِ کرناٹک کے28پارلیمانی حلقہ جات میں سے14حلقہ جات میں رائے دہی مکمل ہوچکی ہے ۔باقی رہ گئے14حلقہ جات میں الیکشن پروپگنڈہ زوروں پر ہے۔18؍اپریل کو ہوئے14حلقہ جات میں ...

مرڈیشورمیں گندگی اور آلودگی کی بھرمار : عوام سمیت سیاح بھی پریشان؛ قریب میں پولنگ بوتھ ہونے سے ووٹروں کو بھی ہوسکتی ہے بڑی پریشانی

مشہور سیاحتی مرکز مرڈیشور فی الحال یتیمی کی صورت حال سے دوچار ہے، انتظامیہ کی بدنظمی سے مرڈیشور کا ماحول خراب حالت کو پہنچا ہواہے، کچرے میں لگاتار اضافہ ہونے سے مرڈیشور میں عوام کا  چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوگیا ہے۔ 

کیا مخلوط حکومت کے تقاضے پورے کرنے میں کانگریس پارٹی ناکام رہے گی۔ ضلع شمالی کینرا میں ظاہری خاموشی کے باوجود اندرونی طوفان موجود ہے

ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ پر انتخاب کے لئے ابھی صرف کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں لیکن انتخابی پارہ پوری طرح اوپر کی طرف چڑھتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی کسرت : کیا ہیگڈے کو شکست دینا آسان ہوگا ؟

ضلع اترکنڑا  میں   کانگریسی لیڈران کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہے جیسے بغیر رنگ روپ والے فن کار کی ہوتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے بالکل ایک دو دن پہلے تک الگ الگ تین گروہوں میں تقسیم ہوکر  من موجی میں مصروف ضلع کانگریسی لیڈران  مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق  ان کی بھاگم بھاگ کو دیکھیں ...

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...