بھٹکل بس اسٹائنڈ کی عمارت گرنے کے بعد متبادل انتظام نہ ہونے سے مسافر پریشان؛ قومی شاہراہ کا کنارہ ہی عوام کے لئے بس اسٹائنڈ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 18th July 2018, 8:53 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل :18/جولائی (ایس اؤ نیوز)بھٹکل بس اسٹانڈ کی عمارت منہدم ہوکر دو دن  گزرنے کے بعد بھی بسوں کے ٹھہرنے اور مسافروں کے لئے متبادل انتظام نہ ہونے کی وجہ سے قومی شاہراہ کا کنارہ ہی مسافروں کے لئے بس اسٹانڈ بن گیا ہے۔

روزانہ سیکڑوں طلبا اور عوام بسوں کے انتظار میں قومی شاہراہ کے کنارے کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔ موسلادھار برستی بارش، ٹھہرنے کی جگہ پر گڑھے اور اس میں جمع  بارش کا گندہ پانی ، ان سب سے مسافروں کو جوجنا پڑ رہا ہے۔  جس کے نتیجے  میں مسافر کافی پریشان ہیں۔بالخصوص ہر روز اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول جانے والے طلبا کو بہت زیادہ پریشانی ہورہی ہے، بارش آتے ہی وہ نیشنل ہائی وے پر سے بھاگتے ہوئے بس اسٹائنڈ کے بالمقابل واقع ہوٹلوں اور دکانوں میں گھس جاتے ہیں تاکہ بارش سے بچا جاسکے۔  دور دراز کے مقامات کا سفر کرنے والے انجان مسافروں کو سمجھ میں ہی نہیں آرہاہے کہ اُنہیں سفر کے لئے ٹہرنا کہاں ہے،  بسیں آخر کہاں ٹھہرتی ہیں ، بارش آنے پر کہاں جاکر بارش سے بچنا ہے ۔ ایسے میں مسافر اگر اپنے با ل بچوں اور سامان کے ساتھ آتے ہیں تو پھر کیا پوچھنے ! جگہ بھی اتنی تنگ ہے کہ وہاں ایک سے زائد بس رک بھی نہیں سکتی ، ایک بس رکنے پر ہی قومی شاہراہ پر ٹرافک جام ہورہی ہے تو دو تین بسیں رک جاتی ہیں تو سب کچھ گڈمڈ ہوجاتا  ہے۔

سرکاری بس جب  مسافروں کو سوار کرنے  کے لئے ہائی وے پر رُکتی ہے تو  پورا ٹریفک نظام بھی رک سا جاتا ہے۔ بچوں اور معمرلوگوں کو سڑک پار کرنے کے لئے جان ہتھیلی پر لے کر چلنا پڑرہا ہے۔ ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے لئے بسیں ہی بس اسٹانڈ بن گئی ہیں۔ بس اسٹانڈ کی بوسیدہ عمارت کا انہدام کرتے ہوئے خطرے کو ٹال کر افسران اپنی جگہ خامو ش ہوگئے ہیں،کم سے کم پرانے بس اسٹانڈ میں میسر جگہ پر ہی سہی متبادل انتظام کا فیصلہ افسران لے سکتے تھے وہ بھی نہیں لے رہے ہیں ۔ ادھر بس اسٹانڈ کی عمارت  ڈھا دی گئی لیکن ملبہ ابھی تک صاف نہیں کیا گیا ہے ،  متبادل انتظام کاسوال  موسلا دھار بارش کے پانی میں بہتا نظر آرہاہے۔ افسران سے اس تعلق سے پوچھیں تو  آج کل میں متبادل انتظام  کرنے کا جواب ملتا ہے۔ اس تعلق سے بس ڈپو مینجر بانووالیکر نے عمارت کے گرنے کے دوسرے دن یعنی  منگل کو ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے  بتایا تھا کہ اگلے ہی روز یعنی آج بدھ کو  پورے ملبے کو ہٹا کر تمام بسوں کو بس اسٹائنڈ کے کمپائونڈ میں ہی ٹہرایا جائے گا اور فوری طور پر متبادل انتظام کے طور پر گاڑیوں کی پارکنگ والی جگہ پر عارضی شیڈ ڈالا جائے گا۔ مگر  ڈھائی ہوئی عمارت کے ملبے میں لاکھوں روپئے کے گجری سامان کھلے میدان میں ہی پڑا ہوا  ہے،  عوامی سطح پر اس کے چوری کے متعلق بھی شبہ جتایاجارہاہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ  مسافروں کو مزید کتنے  دنوں سے  اس طرح کی پریشانیوں سے جوجتے رہنا  پڑے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔