بھٹکل شمس الدین سرکل پر انڈر پاس کی تعمیر : قومی شاہراہ فلائی اوور سے گذرے گی؛ سرکل پر 80 سے 85 میٹر زمین ہائی وے کی نذر

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 13th August 2017, 1:10 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:12/اگست (ایس اؤنیوز)بارش کا موسم شروع ہوکر  دو مہینے گزرنے کے بعد قومی شاہراہ 66کی توسیع کا کام پھر سے اپنی رفتار پکڑنے کو ہے، اسی کے ساتھ شاہراہ توسیع کو لے کر 30میٹر یا 45میٹر کا تنازعہ بھی تقریباً حل کرلیا گیا ہے، متعینہ پیمانے کے مطابق توسیع کا کام شروع کئے جانے کے لئے نشاندہی کی جارہی ہے۔

قلبِ شہر شمس الدین سرکل سے گزرنے والی قومی شاہراہ کی فلائی اوؤ رکو دیکھتے ہوئے ساگر روڈ اور بندرروڈ کو بہتر انداز میں جوڑنے کے لئے انڈر پاس تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔نیشنل ہائی وے آفسران کے مطابق فلائی اوور کے ساتھ ساتھ یہاںسرویس روڈ کی بھی ضرورت ہے جس کے لئے متعینہ علاقے سے  زمین کی زائدحصولیابی کرنے پر ہم مجبور ہیں۔ ہائی ولے آفسران کے مطابق شمس الدین سرکلکے لئے نئی شاہراہ کے درمیان سے 85 سے 80میٹر کی زمین کو استعمال کیا جانا یقینی ہے۔

 آفسران کی بات کو مان کر چلیں تو  بھٹکل فاریسٹ دفتر کی عمارت، اس کے روبرو واقع  ستکار ہوٹل ، بس ڈپو کے کمپاؤنڈ کی دیوار، اس کے سامنے والی تجارتی کامپلکس کی عمارتیں سب ہائی وے کی نذر ہوجائیں گی۔ تعلقہ کے پرانے چلیز سے لے کر رنگین کٹہ  تک اور شرالی کوآپریٹیو بینک سے اگلی صراف بلڈنگ تک قومی شاہراہ کی چوڑائی 30میٹر تک محدود کی گئی ہے۔ بقیہ مقامی شاہراہ کی چوڑائی 45میٹر ہوگی۔ قومی شاہراہ کی توسیع کے لئے کل 19.82 ہیکٹرزمین حاصل کی جائے گی ۔ جس میں 1.44ہیکٹر سرکاری زمین ہے۔آفسران نے بتایا کہ  زمین کھونے والے 4053 خاندانوں میں 4001 خاندانوں کو معاوضہ دیا جاچکاہے۔ آفسران کے مطابق  شاہراہ کی توسیع کو لے کر جاری تنازعہ کی وجہ سے دستاویزات متعلقہ افسران کو سونپنے میں ہوئی دیری اور دیگر وجوہات کی بنا پر بقیہ 52خاندانوں کو بہت جلد معاوضہ دے کر زمین کو اپنی تحویل میں لیا جائے گا۔

اُدھر شمس الدین سرکل کے اطراف کے دکاندار اور مکینوں میں 80 سے 85  میٹر زمین ہائی وے کی نذر ہونے کو لے کر سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اس تعلق سے خبر موصول ہوئی ہے کہ الگ الگ اداروں کی جانب سے  لوگوں نے دستخطی مہم چلاکر قومی و سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کو درخواستیں روانہ کی ہیں۔ اس تعلق سے تنظیم کیا فیصلہ کرے گی یہ دیکھنا باقی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل:مٹھلی میں شراب دکان کے خلاف خواتین سمیت سیکڑوں دیہی عوام کا احتجاج: بند نہیں کیا گیا تو سخت احتجاج کی دھمکی

تعلقہ کے مٹھلی گرام پنچایت حدود کے ریلوے اسٹیشن کے قریب شروع کی گئی نئی شراب کی دکان بند کرنے کی مانگ لے کر دیہات کے سیکڑوں مرد وخواتین بدھ کی شام دکان کا گھیراؤ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

شرالی :فورلین کی تعمیر 30میٹر کے بجائے 45میٹر کی چوڑائی کے ساتھ تعمیر کرنےکا مطالبہ لے کر میمورنڈم

تعلقہ کے شرالی سے گزرنے والی قومی شاہراہ 66کو فورلین میں منتقل کئے جانے والے توسیعی تعمیری کام کو 45میٹر کی چوڑائی کے ساتھ ہی کئے جانے کا مطالبہ لے کر شرالی گرام پنچایت صدر وینکٹیش نائک کی قیادت میں گاؤں کے عوام نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم سونپا۔

بھٹکل: کے ایف ڈی سی کے ذریعے ماہی گیروں کے قرضے معاف :راجیندرنائک

ریاستی ماہی گیر ترقی بورڈ (کے ایف ڈی سی )گذشتہ 47سالوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نفع بخش راہ پر گامزن ہے ، بورڈ سے قرضہ لے کر گذشتہ 10-15سالوں سے ادا نہ کرتے ہوئے قرضہ نادہندوں کا 6057937روپئے قرضہ مکمل طورپر معاف کرنے کا بورڈ کے صدر راجیندر نائک نے اعلان کیا۔

کاروار :آئندہ ودھان سبھا انتخابات میں ضلع کے کسی بھی حلقہ سے امیدوار : اننت کمار ہیگڈے

آئندہ ودھان سبھا انتخابات سےپہلے ریاستی کانگریس کے دگج لیڈر اور وزیر برائے بڑی صنعت آر وی دیش پانڈے بی جے پی میں شامل ہونگے اور میں ودھان سبھا انتخابات کے میدان میں اترنے والا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے کیا۔

کمٹہ:پابندی کے باوجود بغیر کسی رکاوٹ کے غیر قانونی ریت سپلائی جاری:معاملے میں افسران بھی ملوث ہونے کا الزام

ریت سپلائی پر پابندی عائد ہونےکے باوجود افسران کی شمولیت کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے ریت سپلائی جاری رہنے کا پتہ چلاہے۔تعلقہ کے ہیگڈے اور ماسور نامی مقامات پر بے دریغ ریت سپلائی جاری ہے، 407سواریوں ، آٹو رکشاکے ذریعے غیر قانونی طورپر ریت سپلائی ہورہی ہے، پابندی کے باوجود کسی خوف ...