بھٹکل میں موگیر سماج کا زبردست احتجاجی مظاہرہ؛ شیڈولڈ کاسٹ کی سرٹفکیٹ دینے میں ہورہی کوتاہیوں کے خلاف نکالی گئی ریلی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th August 2018, 8:51 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل  :13/ اگست (ایس اؤ نیوز) موگیر سماج کو ’شیڈولڈ کاسٹ‘ سرٹی فیکیٹ اور ویلیڈیٹی سرٹی فیکیٹ  جاری کرنے میں افسران کی جانب سے ہورہی کوتاہیوں اور رکاوٹوں کے خلاف وینکٹاپور کے شرینواس میٹنگ ہال سے بڑے پیمانے پر ایک پُر امن ریلی  نکالی گئی اور بھٹکل تحصیلداردفتر پہنچ کرضلع ڈپٹی کمشنرکی معرفت وزیراعلیٰ کو میمورنڈم دیا گیا۔ موگیر سماج کے لیڈران کا کہنا ہے کہ  موگیر طبقہ پسماندہ ذات میں شامل ہے،ان کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامےمیں اس کو واضح کیا ہے۔ لیکن حکومت کرناٹکا کے محکمہ سماجی فلاح وبہبودی کے چیف سکریٹری اور اترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے موگیر سماج کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ لیڈران نے مطالبہ کیا کہ موگیر  سماج کے عوام کو پسماندہ ذات کی سند اور تصدیق نامہ دینے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

پیر کے دن ماہی گیری اور مچھلیوں کی فروخت کاری سمیت اپنے تمام کام کاج کو بند رکھ کر تعلقہ ہزاروں کی تعداد میں موگیرسماج کے لوگ  وینکٹاپور مندر کے صحن میں  جمع ہوئے اوروہیں سے تحصیلدار دفتر تک  بہت بڑی ریلی نکالی۔ریلی میں ضلع   کے ڈپٹی کمشنر  کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ پھر تحصیلدار دفتر کا گھیراؤ کرتے ہوئے  احتجاجیوں نے اس بات کا مطالبہ  کیا کہ  ڈپٹی کمشنر خود جائے وقوع پر پہنچ کر میمورنڈم حاصل کریں۔

ڈی وائی ایس پی ولینٹائن ڈیسوزا، سی پی آئی گنیش سمیت پولس کے حکام نے  جائے وقوع پر پہنچ کر احتجاجیوں کو مطمئن کرنےکی کوشش کی۔ اس کے بعد تحصیلدار وی این باڈکر احتجاجیوں کے پاس پہنچ کر میمورنڈم کو وصول کیا۔ اس موقع پر بھٹکل موگیر سماج کے صدر کے ایم کرکی اور اعزازی صدر راما موگیر نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پسماندہ ذات کی سرٹیفکٹ حاصل کرنا موگیر سماج کا حق ہے۔ لیکن گذشتہ 10برسوں سے ہمارے سماج کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، قومی پسماندہ ذات جانچ کمیشن  اور کرناٹکا اڈوکیٹ جنرل نے موگیر کو پسماندہ ذات کی سند دینے کو کہاہے، مگر افسران  دستور کا احترام  نہیں کررہے ہیں، یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی بھی افسرقانون سے بالاتر  نہیں ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ فی الحال موگیر  سماج کی طرف سے صرف علامتی احتجاج کیا گیا ہے، اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تو آئندہ دنوں میں مزید سخت احتجاج  کیا  جائے گا ۔ موگیر طبقہ کی طرف سے وکیل ناگراج ای ایچ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر بھاسکر موگیر، موگیر سماج کے نائب صدر پنڈلک ہیبلے ، ناگپا موگیر، سکریٹری نارائن دئیمنے، جٹگا موگیر ، رامپا ایس،  شری موگیر وغیرہ موجود تھے۔

کیا ہے پورا معاملہ: وزیراعلیٰ کے نام دئے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ 1976 میں دستوری ترمیم کے بعد کرناٹکا حکومت نے 1978میں موگیر سماج کو ’پسماندہ طبقات‘(بیک  ورڈ کلاس) کی فہرست سے نکال کر’ درج فہرست ذات‘ (شیڈولڈ کاسٹ ) میں شامل کرلیاتھا اور اس زمرے کی تمام سہولتیں حاصل کرنے کا اہل قرار دیا تھا۔جس کی وجہ سے ضلع شمالی کینرا میں رہنے والے موگیر سماج کے افراد بھی درج فہرست ذات کی سہولتیں پانے کے اہل ٹھہرے تھے۔مگر 1994میں چینپّا ریڈّی کمیشن نے دستور، قانون اور ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پھر سے موگیر سماج کوپسماندہ طبقات (بیک ورڈ کلاس) کی فہرست میں شامل کردیا۔ اسی کو بنیاد بناکر ضلع شمالی کینرا کے موگیر سماج کوسرکاری افسران پسماندہ طبقے میں ہی رکھتے ہوئے انہیں درج فہرست ذات کی سہولتوں سے محروم کررہے ہیں ۔حالانکہ اس مسئلے پر ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور حکومت کی طرف سے بارہا واضح کیا گیا ہے کہ ضلع شمالی کینرا کے موگیر سماج کے افراد درج فہرست ذات کی سہولتیں پانے کے اہل ہیں۔مگر کچھ مفاد پرست افسران اسے غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سوشیل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ بنگلورو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دی گئی ایڈوکیٹ جنرل کی رپورٹ کا جائزہ لیے بغیر 31 جولائی 2018کو ایک الجھن پیدا کرنے والانوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت ضلع شمالی کینرا کے موگیر سماج کو درج فہرست ذات کی سہولتیں پانے کے لئے نااہل قرار دیا گیا ہے اور اسی کو بنیاد بناکرضلع انتظامیہ نے یہاں کے موگیروں کوجاری کی گئی سرٹفکیٹس کو رد کرنے کی طرف قدم بڑھا یا ہے۔ کچھ لوگوں کے اسناد کو رد کردینے کی وجہ سے فوجداری مقدمات دائر کرنے کی نوبت بھی آ گئی ہے۔ 

میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ موگیر سماج کو’درج فہرست ذات‘ ہونے کا جو دستوری اور قانونی حق حاصل ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔سوشیل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کوواپس لیتے ہوئے سپریم کورٹ، نیشنل شیڈولڈ کاسٹ کمیشن، ہائی کورٹ اور ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے دئے گئے فیصلے کی روشنی میں تازہ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔ دستوری اور قانونی جواز کے باوجود ضلع شمالی کینرا کے موگیر سماج کو ہراساں کیے جانے کے خلاف اور اس کی روک تھام کے لئے اقدام کیا جائے۔موگیر سماج کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرتے ہوئے موگیر سماج کو پسماندہ طبقات کی فہرست سے خارج کرنے کے لیے متعلقہ کمیشن کو ہدایت جاری کی جائے۔درج فہرست ذات کا سرٹفکیٹ حاصل کرنے والوں کے خلاف ضلع انتظامیہ کی طرف سے دائر کیے گئے فوجداری مقدمات واپس لیے جائیں۔گزشتہ دس برسوں سے موگیر سماج کو درج فہرست ذات کے طور پر ملنے والی جن سہولتوں کو غیر دستوری اور غیر قانونی طور پر روک لیا گیا ہے انہیں حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔

مچھلی مارکیٹ میں سناٹا: موگیر طبقہ کے احتجاج کی وجہ سے ہرروز عوام سے بھری رہنے والی مچھلی مارکیٹ میں پیر کی صبح سے ہی سناٹا چھایا ہوا تھا ، روزانہ مچھلی بیچنے کے لئے مچھلی مارکیٹ کا رخ کرنےو الی خواتین بھی احتجاج میں شامل ہوگئی تھیں۔ پسماندہ ذات کی سند نہ  ملنے سے تعلیمی وظائف  اور روزگارسےمحروم  ہورہے بے شمار نوجوان اور طلباو طالبات احتجاج کا اہم حصہ بنے تھے۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولس سکیورٹی کامناسب انتظام کیا گیا تھا۔موسلادھار بارش کے بائوجود احتجاجی چھتریوں کو ہاتھوں میں پکڑے ریلی میں شریک ہوئے۔

ایک نظر اس پر بھی

مینگلور کے قریب بنٹوال میں نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش : تین ملزم گرفتار

چہارم جماعت میں زیر تعلیم نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش کئے جانے کا واقعہ بنٹوال تعلقہ پانے منگلورو کے قریب گوڈینبلی میں پیش آیاہے۔ اس سلسلے میں بنٹوال شہری تھانہ پولس نےمعاملے کو لےکر تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے۔

ہانگل کے ہیرور میں ہوئے تشدد کے واقعات اور غریب مسلمانوں کی گرفتاریوں کے بعد اے پی سی آر ٹیم نے کیا ہانگل دورہ؛ ایس پی سے کی ملاقات

ضلع ہاویری کے ہانگل تعلقہ کے ہیرور میں گنیش تہوار کے دوران ہوئے تشدد کے واقعات کے بعد  کئی غریب مسلمانوں کی گرفتاریوں نیز کئی مسلمانوں کے  تشدد میں زخمی ہونے  کی اطلاعات کے بعد  اے پی سی آر (اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس) کی ایک ٹیم  ہانگل پہنچی اور متاثرہ علاقہ کا ...

کیا یلاپور کے رکن اسمبلی ہیبار کودی جائے گی وزارت ؟ کیا دیش پانڈے کو ملے گا لوک سبھا کاٹکٹ ؟ ضلع کی سیات میں ہورہی ہے زبردست ہلچل

یلاپور کے کانگریس رکن اسمبلی شیورام ہیبار وزارت کے لئے شروع کی گئی کسرت کے نتیجے میں ضلع کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری مرتبہ رکن اسمبلی کے طورپر منتخب ہونے والے شیورام ہیبار ، وزارت کے لئے بضد معلوم ہوتےہیں۔ انہیں مطمئن کرنے کےلئے کانگریس کے سنئیر وزیر دیش پانڈے کو ...