بھٹکل کے لذیذ سالن کی فہرست میں جگہ بناتا آلِیب بے :خریداری کے لئے گاہکوں کی بھاگ دوڑ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th August 2017, 8:27 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:6/اگست (ایس اؤنیوز)سال بہ سال بھٹکل چمیلی کی طرح مشروم المعروف آلیِب بے کی فروخت کاری میں اضافہ دیکھا جارہاہے، گذشتہ ہفتہ سے مین روڈ کے کناروں پر مشروم کابیوپار زوروں پر ہے، نورمسجد، پرانے بس اسٹانڈ کے قریب والی مارکیٹ اور ساگر روڈ پر دیہاتیوں کو الیب بے فروخت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔  جب بائک سوار، ان راستوں سے گذرتے ہیں تو مشروم کو دیکھتے ہوئے بائک کے بریک لگ جاتے ہیں، رکشہ پر گذرنے والی خواتین مشروم کو دیکھتے ہی اپنا رکشہ سڑک کنارے مشروم کی طرف لے جانے پر مجبورہوجاتی ہیں۔ اس بار ہفتہ ،عشرہ روز قبل جیسے ہی مشروم کی بھٹکل میں آمد ہوئی، سو عدد مشروم کے لئے 600 اور 800 روپیہ  میں فروخت کی گئی، مگر آج کافی بڑی تعداد میں مشروم بازار میں دیکھی گئی جس کی وجہ سے دام سیدھے تین سو اور ڈھائی سو پر پہنچ گئے۔

تعلقہ کے اطراف کے دیہاتوں سے مارکیٹ پہنچنے والی مشروم (الیب بے )کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بہت ہی مقوی اور لذید  غذا ہے ، بھٹکل کے مشروم کی زمانے سے مانگ رہی ہے۔ اس دیہی مشروم کوقیمت اور لذت ادا کرنے میں اہل نوائط کا بڑا رول رہا ہے ، ان ہی  کا طفیل ہے کہ آج کل’’الیب بے بریانی ‘‘بھی مشہور ہوتی جارہی ہے۔ یہ مشروم صرف ہندوستانی غذاؤں میں ہی نہیں بلکہ چینیز کھانوں میں بھی استعمال ہوتارہتاہے۔

یہاں کے لوگ مشروم کا سالن بناتے ہیں،  اسے مسالے دار بنا کر سمندر پار خلیجی ممالک دبئی، قطر ، عمان اور سعودی عرب سمیت اندرون ملک کے مختلف مقامات کو بھی پارسل کرتے ہیں۔ بھٹکل میں مشروم کی مانگ دیکھتے ہوئے ہوناور، منکی علاقے سے بھی مشروم لائی جارہی ہے۔ دیہی عوام جنگلات میں گھوم گھام کرمشروم تلاش کرکے بھٹکل میں بیچ کر ہزاروں روپئے کماتے ہیں۔

سال بہ سال مشروم کی فروخت کاری میں اضافہ دیکھتے ہوئے کئی ایجنٹ بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ دلال بائک کے ذریعے دیہاتوں کا سفر کرتے ہوئے وہاں سے راست الیب بے خریدتے ہیں پھر اپنی قیمت پر مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔ کچھ دنوں تک ہی فطری طورپر اگنے والی یہ مشروم دو تین ہفتوں تک ہی اپنی دھوم رکھتی ہے۔

اس سلسلے میں ایک مشروم کے بیوپار ی نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہم لوگ جنگل میں ملنے والی مشروم کو گھر لاکر خود کھاتے تھے، اس کی کہانی وہیں ختم ہوجاتی تھی چونکہ اس کی قیمت اب آسمان کو چھو رہی ہے تو ہم اس کو کھانے کے بجائے مارکیٹ میں لاکر کچھ کمائی کرلیتے ہیں، امسال مشروم دیر سے باہر نکلی ہے۔ بھٹکل میں اس کی زبردست مانگ ہے اور منہ مانگی قیمت بھی ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ جنگلات میں اس کی تلاش کرنے کے لئے ہم دیہاتیوں کے درمیان مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ سورج طلوع ہونے سےپہلے جنگل کا رخ کرتے ہوئے مشروم کی تلاش شروع کرتے ہیں، اگر معاملہ ایسا ہی رہاتو آئندہ کے حالات بھگوان جانے‘‘۔ کلی طورپربھٹکل کی مشہور و معروف فہرست میں چمیلی، حلوہ ، لنگی ،بریانی جیسی مشہور اشیاء کے ساتھ حالیہ دنوں میں بھٹکل کے الیب بے ،مشروم بھی اپنی جگہ بنانا آنکھوں کے سامنے والا سچ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کو لے کر منکولی اور موڈ بھٹکل کے عوام کو نہیں مل رہا ہے کسی بھی مسئلہ کا حل؛ پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ ہمارے سوالات کا کون دے گا جواب ؟

بھٹکل میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کا کام تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، مگر ہائی وے اہلکاروں کی طرف سے عوام کو کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری نہ دئے جانے سے عوام تذبذب کا شکار ہیں اور کئی ایک مسائل کو لے کر پریشانی میں بھی مبتلا ہیں۔ عوام میونسپالٹی حکام سے سوال کرتے ہیں تو  ...

بھٹکل کے ہیبلے میں ناراض عوام نے لیا رکن اسمبلی کو آڑے ہاتھ؛ احتجاج کے باوجود رکھا گیا دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد

بھٹکل رکن اسمبلی سُنیل نائک کو آج اتوار کو ہیبلے کے لوگوں نے اُس وقت آڑے ہاتھ لیتے ہوئے احتجاج کیا جب وہ وہاں سرکاری ہاڈی زمین پر دو اسکولوں اور دو کالجوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پہنچے تھے۔ 

بے کار پڑا ہے بھٹکل بندر پر پینے کے صاف پانی کا مرکز۔ 12لاکھ روپے کا تخمینہ۔ ادھورا پڑا ہے منصوبہ

بھٹکل تعلقہ کے ماوین کوروے علاقے میں واقع بندرگاہ پر پینے کے صاف پانی کا ایک مرکز 12لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع ہوئے دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ ٹھیکے دار کی غفلت اور افسران کے کاہلی کی وجہ سے ابھی تک یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا ہے اور عوامی استعمال کے لئے دستیاب ...

ہائی اسکول او رکالجوں کے امتحانات مقررہ وقت پر ہوں۔سرسی میں اے بی وی پی نے دیا میمورنڈم

ریاستی سرکار کی طرف سے ابھی تک وزیر تعلیم کا قلمدان کسی کو نہ دینے اور طلبہ کی تعلیمی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے اراکین نے تحصیلدار کی معرفت میمورنڈم دیا اورمطالبہ کیا ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری محکمہ تعلیمات کو تباہ ہونے سے ...

کاروار: کائیگا اٹامک اینرجی پلانٹ توسیعی منصوبہ۔ عوامی اجلاس ملتوی کرنے کے لئے دیا گیا میمورنڈم

کائیگا میں واقع جوہری توانائی کے مرکز میں مزید دو نئے یونٹس قائم کرنے کا جو منصوبہ زیرغور ہے اس کے سلسلے میں عوامی شکایات اور احوال جاننے کے لئے 15دسمبر کو عوامی اجلاس منعقد ہوناطے تھا۔ لیکن سابق رکن اسمبلی ستیش سائیل کی قیادت میں عوام کی طرف سے ایڈیشنل ڈی سی ڈاکٹر سریش ایٹنال ...

بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

آخر اس  نظام ،انتظام کو کیا کہیں ،سمجھ سے باہر ہے! تعلیمی سال 2018-2019نصف گزر کر دو تین مہینے میں سالانہ امتحان ہونے ہیں۔ اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کو سرکاری شو بھاگیہ میسر نہیں ، نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ  سننے والا۔شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم شو، ساکس کی تقسیم کا ...

سوشیل میڈیا اور ہماراسماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از: سید سالک برماور ندوی)

اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔ جدید دنیا کی حیرت انگیزترقیات کا کرشمہ ہے کہ مہینوں کا فاصلہ میلوں میں اورمیلوں کا،منٹوں میں جبکہ منٹ کامعاملہ اب سیکنڈ میں طےپاتا ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...