بھٹکلی احباب کی کمپنی ’’کونفی بیگ ‘‘ میں اب آرہی ہے خصوصی چِپ، موبائل کے ذریعے بچوں کی ٹریکنگ ممکن ہوگی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 4th March 2017, 12:57 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 3/مارچ (ایس او نیوز):   مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے 2000نئے نوٹوں میں چپ نصب کئے جانے اور نوٹوں کی گڈیوں کا پتہ لگانے کو لے کر بہت ساری افواہیں پھیلائی گئیں وہ سب خبریں اب پرانی ہوچکی ہیں ۔ آربی آئی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹوں میں ایسا کچھ نہیں ہے ، اس خبر کے جھوٹی ہونے کی بات بھی پرانی ہوچکی ہے ۔ لیکن تازہ خبر یہ ہے کہ بھٹکل میں اسکول بیگوں میں چِپ نصب کئے جانے کو لے کر جدید تخلیق سامنے آئی ہے، جو صرف شہر بھٹکل کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے ایک تجسس بھری تخلیق ہوسکتی ہے۔

یہ اسکول بیگ اب  بچوں کو پہنانے کے بعد والدین اپنے بچوں کے تئیں بے فکر ہوسکتے ہیں، کیونکہ اس بیگ میں موجود چِپ کی مدد سے گھروالے یہ جان سکیں گے کہ بچہ کس جگہ موجود ہے۔ اگر بچہ کو اسکول ٹمپو اسکول میں ہی چھوڑ کر آگئی تو بھی پتہ چلے گا، بچہ کہیں اور چلا گیا تو بھی معلوم ہوجائےگا اور بچہ کو خدانخواستہ بیگ کے ساتھ اغوا بھی کرلیا گیا تو بھی بیگ میں موجود چِپ والدین کے موبائل پر موجود ایک ایپ کے ذریعے اپنے لوکیشن کی جانکاری فراہم کرتی رہے گی۔

اسکول اور دیگر بیگوں کی تیار ی  اور مارکیٹنگ کا بڑا نام ’’ کونفی ‘‘ بنگلورو سے لے کر چنئی تک ، پھر وہاں سے سات سمندر پار دبئی وغیرہ میں بھی اچھی مارکیٹنگ کے ذریعے اب کافی نام کمارہاہے۔ "کونفی" کمپنی کے تعارف کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ دنیا کی مشہور ومعروف سافٹ وئیر کمپنیاں اپنی پسند کی ڈیزائن اور رنگ کو لے کر 'کونفی' کمپنی کو اپنی من پسند اور اپنی کمپنی کے مارک کے ساتھ بیگوں  کی تیاری کا آرڈر دیتے  ہیں۔

بھٹکلیوں کی وطن دوستی اور وطنی فکر کے لئے اتنا کافی ہے کہ "کونفی" کمپنی کی فیکٹری بنگلورو میں ہے لیکن اس کے مالک امان اللہ کولا کا تعلق بھٹکل سے ہے۔ وہ گذشتہ 15سالوں سے مختلف ڈیزائن اور رنگوں پر مشتمل بیگوں کی تیاری میں' کونفی'  کو ایک منفرد مقام دلا چکے ہیں۔  بنگلورو میں مزدورں کی تنخواہوں میں حد سے زیادہ مانگ کو دیکھتے ہوئےامان اللہ اور اس کے بھائی نے نئی جگہوں کی تلاش کرنے کے بجائے اپنے شہر بھٹکل کو ترجیح دی اور  حنیف آباد علاقہ میں چھوٹی فیکٹری قائم کرتے ہوئے کئی بے روزگاروں کو روزگار فراہم کیاہے۔ بھٹکل کی فیکٹری میں تیار کردہ بیگ   ملک کے بڑے بڑے شہروں ، مختلف مقامات سمیت بیرونی ممالک کو بھی درآمد  کی جارہی ہیں۔

مگر اب جدیدزمانے کے تقاضوں کے تحت "کونفی "کمپنی نے بھی قدم ملاتے ہوئے نئی بیگ کی تیار ی میں نئی تخلیق کو راہ دینے سے پھر ایک بارمارکیٹنگ کی دنیا میں متعارف ہوگئی ہے۔ آئیے ! دیکھیں کہ کونفی  نے بیگ کی تیاری میں کون  سی نئی تخلیق کو جنم دیاہے۔

کونفی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ بیگ کے اندر خاص ٹکنالوجی کو اپنا کر چِپ، بلیوٹوتھ  اور پاور بینک ،اِن  بلٹ(In-built)نصب کیا گیا ہے، جد ید ٹکنالوجی کی یہ بیگ آپ کے لئے چوکنا اور تنبیہ کرنے والا آلہ  ثابت ہوسکتی ہے ۔ بیگ  میں ان بلٹ ٹکنکی اشیاء آپ کے موبائیل سے آپریٹ ہونگے۔اس کے لئے کونفی بیگ کی طرف سے آپ کو اپنے موبائل میں ایک اپلیکشن ڈائون لوڈ کرنا ہوگا، جس کی مدد سے آپ  جہاں کہیں بھی بیگ چھوڑ  کر آئیں گے، یا یہ بیگ کہیں بھی گم ہوجائے گی تو موبائل پر موجود ایپ کی مدد سے اس بات کا پتہ لگایا جاسکے گا کہ یہ بیگ کہاں پرہے اور کس علاقہ میں ہے بیگ میں موجود جی پی ایس لوکیشن کے تحت آپ کے موبائیل پر پیغام ارسال ہوتا رہے گا۔ متعلقہ نئی تخلیق سے بیگکی چوری کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ کونفی کی یہ بیگ تعلیمی میدان میں انقلاب برپا  کرنے کے امکانات ہیں۔

اسکولوں اور کالجوں سے طلبا کا اغواء ہونا، بعض کالج طلبا کی آوارہ گردی سے پریشان والدین کے لئے کونفی بیگ اس سلسلے میں پوری جانکاری اور معلومات فراہم کرے گی۔ والدین گھر بیٹھے اپنے بچوں کی بڑی آسانی کے ساتھ نگرانی کرسکیں گے، اور اسی طرح بیگ  میں نصب کردہ پاور بینک سے موبائیل اور لیپ ٹاپ کو رچارج  بھی کیا جاسکے گا۔

ٹکنکی سطح پر بہترین اور معیاری چِپ، بلیوٹوتھ، پاور بینک (ان بلٹ)تیاری کے لئے کونفی مالکان روس اور چین وغیرہ سے جدید ٹکنالوجی حاصل کررہے ہیں۔ متعلقہ ممالک میں ٹکنالوجی کو لے کر کمپنیوں سے بات چیت ہوچکی ہے، میک ان انڈیا کا نعرہ دینےو الوں کو بھلے ہی اس کی خبر ہویا نہ ہو ، مگر بھٹکل کے صنعت کاروں نے میک ان انڈیا منصوبے کے تحت عملی قدم اُٹھاتے ہوئےبھٹکل کے احباب ، بنگلورو کی ’’ایم آر ٹک‘‘ سے منسلک ہوگئے ہیں۔ اگر منصوبے کے مطابق کام جاری رہتاہے تو مجوزہ چِپ والی بیگ  اگلے 6مہینوں میں ملک کی مارکیٹ میں نظر آئیں گی۔

کونفی بیگ کے مالک امان اللہ کولا سےاس نمبر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے: 1919 313 966 91+

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...

کورگ میں بارش کی بھاری تباہی ، تین اموات،زمین کھسکنے کے متعدد واقعات 

جنوبی ہند کا کشمیر کہلانے والے ریاست کے کورگ ضلع میں بارش نے زبردست تباہی مچادی ہے۔ ایک طرف بارش کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے تو دوسری طرف پڑوسی ریاست کیرلا میں طوفانی بارش کے سبب وہاں کی ندیوں کا پانی بھی کرناٹک کی طرف بہادیا گیا ہے،

مہادائی ٹریبونل کے فیصلے کا چیلنج کرنے ریاستی حکومت تیار

ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے کہاکہ شمالی کرناٹک کے بعض اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں حال ہی میں ٹریبونل نے جو فیصلہ صادر کیا ہے ریاستی حکومت اس کا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔