بھٹکل میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کے دوران مرڈیشور میں  اتی کرم دکانوں کو ہٹادیا گیا : اتی کرم داروں کا احتجاج

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 4th December 2018, 9:32 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:4؍ڈسمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے مرڈیشور میں  قومی شاہراہ کی توسیع کولے کر قومی شاہراہ کنارے کی  دکانوں کونکال باہر کرنے کے بعد دکاندار جب متعلقہ جگہوں کے پیچھے موجودفاریسٹ زمین کو آتی کرم کرنے کی کوشش کی تو  محکمہ جنگلات نے اُسے بھی ناکام بنادیا جس کے بعد آتی کرم داروں نے محکمہ جنگلات کے آفسران کے روبرو سخت احتجاج کیا۔ واردات مرڈیشور کے بستی میں منگل کو پیش آئی۔

تعلقہ سے گزرنے والی قومی شاہراہ کی  فورلین تعمیر کاکام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ شاہراہ کے دونوں کناروں پر قبضہ جات کو ہٹانے کا کام بھی سرعت کے ساتھ کیا جارہاہے، ایسے میں اپنے گزارے کے لئے قومی شاہراہ کے کنارے کی زمینوں کو  اتی کرم کرتے ہوئے دکانات لگانے والوں کی زندگیاں درمیان میں ہی لٹک گئی ہیں اور وہ  نئی جگہوں کی تلاش میں ہیں۔ اس  دوران منگل کو شاہراہ کی توسیع کا کا م کرنے والی ٹھیکدار کمپنی آئی آر بی نے  بستی علاقے کی شاہراہ کنارے موجود دکانوں کو نکال باہر کیا  تو   دکانداروں نے   متعلقہ زمین کے پیچھے فاریسٹ علاقہ میں اپنی دکانوں کو منتقل کرکے ٹھکانہ تلاش کرلیا ۔

واقعے کی  اطلاع جب فاریسٹ افسران کو ملی تو اے سی ایف بال چندر کی رہنمائی میں افسران جائے وقوع پہنچ گئے اورنئے باکڑوں اور  دکانوں کو فاریسٹ زمین سے ہٹادیا۔

اس موقع پر  افسران نے پڑوس کی اتی کرم زمین پر تعمیر کی جارہی ایک عمارت کو بھی منہدم کرکے نکال باہر کردیا۔ فاریسٹ افسران کے رویہ سے ناراض اتی کرم داروں نے فاریسٹ افسران  اور  عملہ کے ساتھ سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے  اُنہیں یہ کہتے ہوئے آڑے ہاتھ لیا کہ آفسران غریب دکانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔  اتی کرم داروں کا  الزام تھا  کہ ہم لوگ پچھلے 30برسوں سے یہاں جگہ کو  اتی کرم کرکے  اپنا اور اپنے گھروالوں کا پیٹ پال رہے تھے مگر آفسران نے  قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے باکڑوں کو نکال دیا ہے ۔

واقعے کی جانکاری ملتے ہی بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک جائے وقوع پر پہنچے اور اتی کرم داروں کی شکایات کو سماعت کیا۔ اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے اے سی ایف بال چندر نے کہاکہ ہم کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا موقع  نہیں دیں گے۔ ہم نے کسی پرانے اتی کرم داروں کو نہیں ہٹایا ہے  اور نئے اتی کرم کو مطلق برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے اتی کرم داروں کو انتباہ دیا کہ  کسی  جنگلاتی زمین پر کوئی بھی نئی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی ...

ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔