بھٹکل انجمن کی صدسالہ تقریبات: پروفیشنل کالجس کا شاندار گیٹ ٹوگیدر برائے مستورات : ہونہار طالبات کی تہنیت

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 8th March 2019, 12:19 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:7؍مارچ (ایس او نیوز)انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے زیر سرپرستی چلنے والے پروفیشنل کالجس انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ مینجمنٹ ، انجمن بی بی اے اینڈ بی سی اے، انجمن کالج آف ایجوکیشن  کا مشترکہ ’گیٹ ٹو گیدر ۔2019‘  برائے مستورات  خدیجہ سید علی کیمپس میں واقع انجمن کالج فار وویمنس بھٹکل میں بروز جمعرات 7مارچ کو انجمن لیڈیز اڈوائزری کمیٹی کی ممبر محترمہ سیما قاسمجی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

جلسہ کا آغاز انجمن انجنئیرنگ کالج کی طالبہ سُہا کی تلاوت قرآن سے ہوا ، جس کااسی کالج کی طالبات  ثویبہ اورفرشال نے بالترتیب اردو اور کنڑا میں ترجمہ پیش کیا۔ اے آئی ٹی ایم کی طالبہ  فوزیہ نے حمد اور بی بی اے کی طالبہ نے ترانہ انجمن پیش کیا۔ بی ایڈ کالج کی طالبہ غزالہ نے استقالیہ کے ساتھ مہمانوں کا تعارف کرایا۔ اے آئی ٹی ایم کے ریاضی کی پروفیسر قرۃ العین حلویگار ، بی ایڈ کالج کی پرنسپال ڈاکٹر زکیہ زرزری ، بی بی اے اور بی سی اے کالج کی اسسٹنٹ لکچرر بشریٰ میڈیم ، ایم بی اے کی اسسٹنٹ پروفیسر شمشاد نے اپنے اپنے کالجوں کی سالانہ رپورٹ کی خواندگی  کی۔

بنگلورو کی رامیا یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنس کی محترمہ این ایس چندن شری نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خواتین کو بااختیار ہونے کے تعلق سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عورت کو آزادی چاہئے ، اس کا یہ حق ہے کہ اس کو آزادی ملے ،  انہوں نےکہاکہ موجودہ دور میں خواتین ہرمیدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اعزازی مہمان کے طورپر ڈاکٹر شمس نور نے کہاکہ عورت کے لئے اخلاق سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور خواتین کو چاہئے کہ وہ اسی پیشہ کو اختیار کریں جس سے انہیں انسیت  اور پسندیدہ ہے۔ صدارتی کلمات اداکرتے ہوئے محترمہ سیما قاسمجی نے انجمن کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ عورت کے لئے تعلیم ازحد ضروری ہے کیونکہ کل کو وہ ایک اچھی ماں اور ایک بہتر مربی بن سکے۔ اس سلسلے میں انجمن نے لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں ایک تعلیمی میدان فراہم  کیا ہے۔  اے آئی ٹی ایم شعبہ ای این سی کی اسسٹنٹ پروفیسر انم میڈم نے شکریہ ادا کیا۔ طالبات گوری، اُمِّ فروا نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ جلسے میں مختلف امتحانات اور میدانوں  میں بہترین تعلیمی   و دیگر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی  تینوں کالجوں کی 19طالبات کی تہنیت کی گئی۔  جن کی تفصیل اورنام اس طرح ہیں۔

اے آئی ٹی ایم  :فاطمہ فروا ،کیمسٹری میں 100نمبرات ۔سنہیا نائک ریاضی میں 100نمبرات۔ نازش خانم ریاضی میں 100 نمبرات۔  فرشہ ایوب  اور وینا نائک انٹر ن شالہ انٹر شپ کے لئے منتخب۔دانیا رقیہ ، انفوس میں داخلہ۔ عائشہ رحینہ  اور روفیہ ،  مومنٹم انکریڈیا 2کے 19 میں رنراپ۔

بی بی اے اینڈ بی سی اے: مریم حرا ،بی بی اے میں 93فی صد نمبرات کے ساتھ یونیورسٹی سکینڈ رینک ۔ قادری فرزین ، بی بی اے 4سم میں 85.20فی صد نمبرات کے ساتھ کامیاب۔ التمش بی بی اے 2سم میں 88فی صدنمبرات اور 3سم 92.27فی صد نمبرات۔  روفیہ بی سی اے 4سم میں 78.14 فی صدنمبرات۔ شمس النساء بی بی اے 5سم میں 84.67فی صد نمبرات۔ ساریہ نسرین بی بی اے 1سم میں 80.33فی صد نمبرات۔ تعزین بی سی اے 5سم میں 85فی صد نمبرات۔ عائشہ سمرین بی سی اے 1سم میں 94فی صد نمبرات۔ ذیشان عرفان ،بی بی اے 2سم کے فائنانشیل مینجمنٹ میں 100نمبرات۔

بی ایڈ: قمرالنساء ، 4سم2017 کے امتحانات میں  86.55فی صدنمبرات کے ساتھ اول مقام۔ودیا شری رام کرشنا گانیگار  4سم 2018کے امتحانات  میں 85.79فی صد نمبرات کے ساتھ اول مقام۔ عاصمہ فیضان آرمار 2سم میں 85.5فی صد نمبرات کے ساتھ اول مقام ۔

ایک نظر اس پر بھی

مینگلور: مُلکی پولیس نے کیا بین الریاستی چوروں کو گرفتار۔40لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ مال ہوا بر آمد

مُلکی   پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس افسران نے ایک بین الریاستی چوروں کی ٹولی سے تعلق رکھنے والے دو ملزمین کوگرفتار کرنے کے بعدان کے قبضے سے 40لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ مال برآمد کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس ٹولی کے دیگر2دیگر اراکین بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

’ڈرائیوروں کے لئے آٹھویں تک کی تعلیم ہونے کی شرط ختم‘

 روڈٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے کہاکہ ملک میں کم تعلیم یافتہ لوگوں کو روزگار کے مواقع دستیاب کرانے کے لئے ڈرائیوروں کے لئے آٹھویں تک کی تعلیم کی کم از کم تعلیمی اہلیت کی لازمیت کو ختم کردیا گیا ہے۔

نچلی عدالت نے چار ملزمین کو عمر قید اور ایک ملزم کو باعزت بری کیا، جمعیۃ علماء نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی:گلزاراعظمی

14 سالوں کے طویل انتظار کے بعدآج الہ آباد کی خصوصی عدالت نے رام جنم بھومی (ایودھیا دہشت گردانہ حملہ) معاملے میں اپنا فیصلہ سنایا اور پانچ میں سے ایک جانب جہاں چار ملزمین کو عمر قید کی سزا دی وہیں ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر ایک ملزم کو باعزت بری کردیا۔