مدھیہ پردیش: بھیو مہاراج نے کی خود کشی، شیوراج نے دیا تھا وزیر مملکت کا درجہ 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th June 2018, 11:42 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،12جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بھیوجی مہاراج انّا ہزارے کی تحریک کے دوران اس وقت زیر بحث آئے تھے جب انہوں نے حکومت اور مظاہرین کے بیچ ثالثی کی تھی۔ ان کے پرستاروں میں مودی سے لے کر بھاگوت تک شامل ہیں۔مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو روحانی گروابھیو جی مہاراج نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد انہیں اندور کے بامبے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ان کے اس قدم کی وجہ گھریلو رنجش بتائی جا رہی ہے، انہوں نے حال ہی میں شادی کی تھی۔بھیو مہاراج کا اصل نام ادے سنگھ دیشمکھ ہے اور ان کی پیدائش 1968 میں ہوئی تھی وہ شجالپور کے زمیندار گھرانے سے آتے تھے۔ بھیوجی مہاراج پہلے ایک فیشن ڈیزائنر ہوا کرتے تھے بعد میں ان کا جھکاو روحانیت کی طرف ہو گیا، انہوں نے کپڑوں کے ایک برانڈ کے لئے ماڈلنگ بھی کی ہے۔ بھیو جی مہاراج کا سدگورو دت دھارمک ٹرسٹ نامی ایک ٹرسٹ بھی چل رہا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ بچوں کو اسکالرشپ بانٹا کرتے تھے اور قیدیوں کے بچوں کو پڑھانے بھی جایا کرتے تھے۔ بھیو جی مہاراج اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب دہلی میں انّا ہزارے نے بدعنوانی کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ انہوں نے مظاہرین اور حکومت کے بیچ ثالثی کی تھی۔ 2011 میں انّا ہزارے کے مظاہرہ کو ختم کرانے کے لئے اس وقت کی مرکزی حکومت نے انہیں اپنا پیامبر بناکر بھیجا تھا۔ انا ہزارے نے ان کے ہاتھ سے جوس پی کر اپنا انشن توڑ دیا تھا۔وزیر اعظم بننے سے قبل گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی نے جب سد بھاؤنا اُپواس کیا تھا تو اس اُپواس کو تڑوانے کے لئے انہوں نے بھیو جی مہاراج کو مدعو کیا تھا۔ بھیو جی مہاراج کے شیدائیوں میں کئی مشہورومعروف ہستیاں شامل ہیں۔ حال ہی میں شیوراج حکومت نے انہیں وزیر مملکت کا درجہ دیا تھا۔ ان کے پرستاروں میں مودی سے لے کر بھاگوت تک شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک کے مفادمیں متحد رہنے کانگریس جے ڈی ایس قائدین کا فیصلہ،14سال بعد دیوے گوڈا اور سدرامیا کی ایک ساتھ اخباری کانفرنس

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں سیکولر سیاسی طاقتوں کو مضبوط کرنے کی غیر معمولی پہل کرتے ہوئے آج کانگریس اور جے ڈی ایس قیادت نے اتحاد کا غیر معمولی پیغام دیا۔

حکومت یونیورسیٹیوں میں اساتذہ کی اظہاررائے کی آزادی پربندش نہیں لگائے گی

فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیرپرکاش جاویڈیکر نے دہلی یونیورسٹی میں لازمی خدمات فراہمی ایکٹ ( ا یسما) لگانے کے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا ارادہ اساتذہ کے اظہار رائے کی آزادی کو روکنے کا نہیں ہے۔