اسمبلی انتخابات:3پارٹیوں کو نہ فائدہ پہنچا ہے اور نہ ہی نقصان کانگریس کو 16، بی جے پی کو 11 اور جے ڈی ایس کو 7 سیٹیں حاصل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 10:55 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 16؍مئی (ایس او  نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی مسلسل انتخابی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ سلیکان سٹی کے نام سے مشہور بنگلورو کو گاربیج سٹی کا نام دینے کے باوجود کانگریس پارٹی کے موجودہ ارکان اسمبلی شہر میں سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔بنگلورو زون کی حدود میں واقع 34 حلقوں میں سے 16 حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے کانگریس لیڈروں نے ایک ریکارڈ بنادیا ہے ۔ اسی طرح بی جے پی نے بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھتے ہوئے بنگلورو کے کئی حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ بی جے پی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صنعتکار کے بیٹے ودوت پر کانگریس کے رکن اسمبلی کے بیٹے کا حملہ ، کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی کے خلاف ووٹر شناختی کارڈ کے گھپلے کا الزام اور ہندومخالف انتظامیہ کا لیبل لگ جانے کی وجہ سے شہر کی عوام کانگریس سے بدظن ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میں ووٹرس بی جے پی کا ضرور ساتھ دیں گے لیکن کانگریس لیڈروں کے جیتنے کے بعد بی جے پی کو زبردست دھچکا لگا ہے ۔ انتخابی نتائج سے قبل بی جے پی کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ بھاری اکثریت پر کامیاب ہوگی اسی لئے بی جے پی لیڈروں نے جے ڈی ایس کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ لیا تھا ۔ لیکن بی جے پی کو اس وقت جھٹکا لگا جب کئی ایجنسیوں نے ایگزٹ پول میں اعلان کیا کہ اس بار کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی اس کے فوری بعد بی جے پی نے سابق وزیر اعلیٰ و جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی سے رابطہ کرکے حکومت سازی میں ان کی مدد کرنے کی اپیل کی لیکن کمار سوامی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق سال 2013 کے اسمبلی انتخابات میں 28حلقوں کے مقابلے کانگریس نے 13، بی جے پی 12 اور جے ڈی ایس نے 3 سیٹیں حاصل کی تھیں ۔ راجہ راجیشوری نگر اور جئے نگر اسمبلی حلقوں کے سوائے صرف 26 اسمبلی حلقوں میں اب تک انتخابات ہوئے ہیں ۔ 26 اسمبلی حلقوں کے مقابلے 13 حلقوں میں کانگریس کامیاب ہوئی ہے بقیہ 11 حلقوں میں بی جے پی اور 2 حلقوں میں جے ڈی ایس کامیاب ہوئی ہے ۔ مزید یہ کہ کئی وکلیگاؤں کے ووٹ جے ڈی ایس کی جھولی میں گرنے کے نتیجہ میں بنگلورو دیہی اور رام نگر ضلع کی حدود میں جے ڈی ایس کا بہترین مظاہرہ رہا ہے ۔ ان دونوں حلقوں میں بی جے پی کی کارکردگی صفر رہی ہے ۔ دیہی علاقے میں کانگریس اور جے ڈی ایس نے 2-2 اور رام نگر ضلع میں جے ڈی ایس نے 3 اور کانگریس نے ایک سیٹ حاصل کی ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بنگلورو زو ن کی حدود میں 34 حلقوں میں انتخابات منعقد ہوئے ان میں سے کانگریس 16، بی جے پی 11 اور جے ڈی ایس 7 حلقوں میں کامیاب ہوئی ہے ۔ سال 2013اور 2018 میں پارٹیوں کو جو نفع اور نقصان پہنچا ہے اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے 

ایک نظر اس پر بھی

اشتہاری مافیا کے بعد اب کچرا مافیا کو ختم کرنے بی بی ایم پی مستعد، دو ہفتوں میں شہر کے سبھی وارڈوں کے لئے گندگی کی نکاسی کے نئے کنٹراکٹ

برہت بنگلو رمہانگر پالیکے نے شہر میں اشتہاری مافیا پر روک لگانے کے لئے ہائی کورٹ کی یکے بعد دیگرے لتاڑ سے خوفزدہ ہوتے ہوئے اب کچرامافیاکو کچلنے کے لئے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے بی بی ایم پی کی مہم پر ہائی کورٹ برہم، 5؍ ستمبر تک مہلت دئے جانے کے اقدام پر عدالت نے بی بی ایم پی کو لیا آڑے ہاتھ

شہر بھر میں فلیکس اور بینر ہٹانے کے لئے برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی طرف سے جاری مہم کی رفتار میں اور تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کو تاکید کی ہے کہ آئندہ شہر میں فلیکس اور بینر لگاکر قانون شکنی کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی ...

کمار سوامی کی حلف برداری کے لئے میزبانی تنازعے کا شکار، حکومت کو برخاست کرنے گورنر کو مکتوب

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی تقریب حلف برداری میں مدعو مہمانان خصوصی کے اخراجات کو بنیاد بناکر سماجی کارکن بی ایس گوڈا نے گورنر واجو بھائی والا کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اپنے مہمانوں پر سرکاری خزانہ بے جا لٹانے والی کمار سوامی حکومت کو برخاست کیا جائے۔

مہادائی مسئلے پر کرناٹک سے ’’انصاف‘‘ ٹریبونل نے ریاست کو 13.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی فراہم کرنے کا دیا حکم، کسانوں میں جشن کا ماحول 

کرناٹک اور گوا کے درمیان دیرینہ مہادائی تنازعے کے سلسلے میں ٹریبونل نے آج اپنا قطعی فیصلہ سناتے ہوئے کرناٹک کو پینے کے لئے 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی ، آب پائی اور بجلی کی پیداوار کے لئے 8؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی دینے کا فیصلہ صادر کیا۔