گوری لنکیش کی برسی پرترقی پسند دانشوروں ، ادیبوں اور مفکروں کا احتجاجی مظاہرہ۔ سناتن سنستھا پر پابندی لگانے کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th September 2018, 12:55 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 6؍ستمبر (ایس او نیوز) ترقی پسند دانشور اور سینئر صحافی گوری لنکیش سمیت دیگر دانشوروں کے قتل میں ملوث سناتن سنستھا پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے گوری لنکیش کے حامیوں اس کے قتل کی برسی کے موقع پر بنگلورومیں ’راج بھون چلو‘ احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔

راج بھون جانے سے قبل مظاہرین نے شہر کے موریا سرکل پر عام اجلاس منعقد کیا جس میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے جد وجہد کرنے والے سوامی اگنی ویش، تیستا سیٹلواڈ، جی کے گووند راؤ، رحمت تریکیرے، جے این یو کے طالب علم کنہیا کمار، عمر خالد، گجرات ایم ایل اے جگنیش میوانی، صحافی وجیمّا جیسے بہت سارے لیڈروں نے شرکت کی۔

فرقہ پرستوں کا روکنا عوام کی ذمہ داری ہے :معروف ادیب رحمت تریکیرے نے کہا کہ’’ فرقہ پرست طاقتیں صرف ادیبوں کو نشانہ بناکر حملہ اور قتل نہیں کررہی ہیں، بلکہ ملک میں عزت اور وقار کے ساتھ جینے والوں کو نیست و نابود کرنے پر تُل گئی ہیں۔کسی کو اپنی پسندغذا کھانے سے بھی محروم کرنے کے دن آ گئے ہیں۔ہماری نفرت کے بجائے محبت والا بھارت چاہیے۔کسی بھی حالت میں آپسی نفرت کو ہوا دینے والوں کے ہاتھ میں اس ملک کی لگام نہ جائے اس کے لئے جد وجہد کرنااور فرقہ پرستوں طاقتوں کی پیش رفت روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘‘

ہمہ لسانی فلم ایکٹر اور ایکٹیوسٹ پرکاش رائے نے کہا کہ ایک سال پہلے ہم نے گوری لنکیش کو گنوا دیا۔ تب ہم نے اس قتل کے لئے جن لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا ، اب تحقیقات کے بعد وہی باتیں ثابت ہورہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اس رجحان کو سمجھیں۔

ہم اربن نکسل بننے کے لئے تیار ہیں:مظلوموں کی حمایت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرنے والے سوامی اگنی ویش نے کہا کہ: جئے پرکاش نارائن نے کہا تھا ’’کہ اگر حق بات کہنا بغاوت ہے تو پھر ہمارا باغی ہونا ہی اچھا ہے۔‘‘اس لئے آج ہم سب لوگوں کو باغی ہوجانا چاہیے۔ ہمیں گوری کو زندہ رکھنا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ وہ مظلوموں کی آواز تھی۔ آج ایسے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔دلتوں، آدی واسیوں اور مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کرنے والوں کو ’اربن نکسل‘(شہری نکسل وادی) کا نام دے کر گرفتار کیا جارہاہے۔سوامی اگنی ویش نے کہا کہ ’’اگرمظلوموں کی حمایت کرنے کا مطلب نکسل بننا ہے تو پھر ایسا ہے تو پھر ہم نکسل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ‘‘

ایک گوری کاقتل۔کروڑوں گوریوں کاجنم :جے این یو کے طالب علم کنہیا کمار نے کہا کہ گوری لنکیش کے قتل کو ایک سال پورا ہوگیا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی میرے قریبی ساتھی عمر خالد پر فائرنگ کی گئی ہے۔ ہمیں سائنسی نظریے پر پورا بھروسہ ہے۔ اس لئے ہم جانتے ہیں کہ فرقہ پرست ہمیں جتنی طاقت سے دبانے کی کوشش کریں گے ، اتنی ہی تیزی سے ہم اور بلندی کی طرف ابھریں گے۔ایک اور طالب علم ایکٹیوسٹ عمر خالد نے کہا کہ ’’انہوں نے ایک گوری کو قتل کردیا ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں کروڑوں گوریوں کا جنم ہواہے۔ گوری کے خیالات سے اس کے مخالفین ڈرتے ہیں۔ اس کے سوالات کا جواب دینے کی سکت نہ رکھنے والوں نے اسے قتل کردیا ہے۔‘‘

ہندوتووادی تنظیموں پر پابندی کا مطالبہ:اس کے علاوہ کئی دیگر لیڈروں نے موجودہ حالات میں فرقہ پرستوں کی طرف سے کی جارہی غیر دستوری کوششوں اور ملک کو درپیش خطرات کے سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سناتن سنستھا اور ہندو جن جاگرتی سمیتی پر پابندی لگائی جائے۔ان تنظیموں کو مالی امداد فراہم کرنے اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کے تعلق سے تحقیقات کی جائے۔ فرقہ وارانہ اشتعال دلانے والی تنظیم سناتن سنستھا کی نشر و اشاعت اور عام جلسوں پر پابندی لگادی جائے۔

تحقیقات آخری مراحل میں: دوسری طرف گوری لنکیش قتل کی تحقیقات میں مصروف ایس آئی ٹی کے ایک اعلیٰ افسرایم این انوچیتن نے خلاصہ کیا ہے کہ تحقیقات بالکل آخری مرحلے میں ہے۔ آئندہ دومہینوں کے اندر عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔ خیال رہے کہ گوری لنکیش کو 5ستمبر 2017کی شام 8بجے راجہ راجیشوری علاقے میں واقع اس کے گھر کے باہر گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

سنجے دت کے ہاتھوں19نومبرکواڈاپٹ فٹنس کا افتتاح، بنگلورو کا بین الاقوامی معیار پر مشتمل سب سے بڑا فٹنس سنٹر عوام کے لئے دستیاب

شہر کے فریزر ٹاؤن میں صحت اور فٹنس کو عام کرنے کے لئے عالمی معیار کی سہولتوں سے لیس ہندوستان کی سب سے بڑی اور خوبصورت جم اڈاپٹ فٹنس کا افتتاح 19نومبر کی شام منعقد کیا گیا ہے۔