جو اپنی ماں اور بیوی کا نہ ہوسکا ملک کا کیا ہوگا؟نوٹ بندی کے خلاف بنگلورو میں کانگریس کے احتجاجی مظاہرہ سے روشن بیگ کا خطاب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th January 2017, 11:51 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو۔10؍جنوری(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے لاگو نوٹ بندی کے خلاف آج کانگریس نے ملک بھر میں سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔ بنگلور ضلع کانگریس کی طرف سے بھی ٹاؤن ہال کے روبرو ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ منظم کیاگیا، جس میں کثیر تعداد میں کانگریس کارکنوں نے جمع ہوکر نوٹ بندی کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے کہاکہ مودی نے نوٹ بندی کے بعد کیش لیس انڈیا کے نام پر بڑی بڑی بین الاقو امی کمپنیوں ، ویزا ، ماسٹر کارڈ، امریکن ایکسپریس وغیرہ کو فائدہ پہنچایا۔ عوام کی طرف سے ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ان کمپنیوں کو فائدہ پہنچتا ہے،جبکہ ملک کے عوام کو اپنے ہی پیسوں کو بینکوں سے نکالنے کیلئے گھنٹوں بینکوں کے باہر قطارمیں کھڑے ہونا پڑ رہا ہے۔ملک کے ہزاروں دیہاتوں میں آج بھی اے ٹی ایم نہیں ہیں۔ان دیہاتوں میں نوٹ بندی کا بہت گہرا اثر مرتب ہوا ہے۔جب تک ملک میں مکمل طور پر اے ٹی ایم نیٹ ورک قائم نہیں ہوجاتا اس وقت تک کیش لیس انڈیا کا تصور فضول ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی میں اپنی بیوی کی پرورش کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے برسوں پہلے ہی وہ اپنی بیوی کو چھوڑ چکے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد دہلی میں اتنے بڑے بنگلہ میں رہنے کے باوجود مودی نے آج تک اپنی ماں کو اپنے گھر نہیں بلایا ۔ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ مودی پر جو تنقید کرتا ہے اسے غدار قرار دیاجاتا ہے۔ وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وہ ایک اچھے کانگریسی اور سچے محب وطن ہیں۔ کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے دو سالوں سے مودی حکومت نے ملک کے عوام کیلئے کوئی اچھا کام نہیں کیا، دنیا بھر گھومنے کے بعد مودی نے ملک کے عوام پر نوٹ بندی کا خطرناک وار کیا۔ نوٹ بندی کی وجہ سے غریب طبقہ سڑکوں پر آچکا ہے۔ بنگلور میں کام نہ ملنے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ دیہاتوں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد اب تک 65 دنوں میں چار مرتبہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہٹلر کی مانند مودی صبح میں کچھ اور شام میں کچھ اور حکم جاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد کبھی مودی نے غریبوں کو درپیش مشکلات کا احساس تک نہیں کیا، ان کے آمرانہ رویہ کی وجہ سے ملک کے عوام کو دشواریاں جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ کے پی سی سی کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ نوٹ بندی لاگو کرتے وقت وزیراعظم نے اعلان کیا تھاکہ ، کالا دھن ، کرپشن اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے نوٹ بندی کی جارہی ہے۔ لیکن کشمیر میں مسلسل دہشت گردی جارہی ہے۔ نوٹ بندی کی وجہ سے وہاں حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کالادھن رکھنے والے امیر سکون سے جی رہے ہیں اور رشوت خور افسران اپنا کام برابر کررہے ہیں تو پھر نوٹ بندی کا فائدہ کس کو پہنچا۔ وزیر اعظم نے ملک کے سبھی حالات سدھارنے کیلئے عوام سے پچاس دن کی مہلت طلب کی تھی، اب 65 دن ہوچکے ہیں ، لیکن نوٹ بندی کے بعد سے پیدا شدہ مسائل نہ صرف جوں کے توں بلکہ اور پیچیدہ ہوکر برقرار ہیں۔ عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سہارا اور برلا کمپنیوں سے 52کروڑ روپیوں کی رشوت خوری کا الزام مودی پر ہے، لیکن جب بھی یہ بات اٹھائی جاتی ہے تو ملک دشمنی کا الزام لگاکر لوگوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہاکہ نوٹ بندی سے جی ڈی پی شرح میں ایک فیصد کمی آئی ہے، دو کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے شہر میں نظم وضبط کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ شہر کی پولیس بہترین طریقے سے کام کررہی ہے، خواتین کو تحفظ بھی مناسب طریقے سے فراہم کیا جارہا ہے۔ سال نو کے موقع پر بے قابو ہجوم کی شرارت سے نمٹنے میں بھی پولیس نے کافی جدوجہد کی ہے۔اس کے باوجود بھی بنگلور کی پولیس کو بدنام کرنے اور شہر کی ساکھ کو مجروح کرنے کیلئے کچھ عناصر کی طرف سے منظم سازشیں رچائی جارہی ہیں۔ یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر رضوان ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کی نوٹ بندی کا علم پہلے ہی مودی نواز صنعت کاروں کو ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ سے امیر طبقہ بڑے سکون واطمینان سے ہے۔ بی جے پی لیڈروں کے پاس نقد ہی نقد ہے، اور عوام بے نقد ہوچکے ہیں۔ رکن اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر ، بنگلور ضلع کانگریس صدر جی شیکھرن ، رکن اسمبلی بائرتی بسوراج ، آروی دیوراج، نارائن سوامی، اے آئی سی سی مشاہد ناگیندرا، منوہر اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کمیونسٹوں کو سبق سکھانا جانتی ہے؛ کیرالہ میں ایم پی نلین کمار کٹیل کا خطاب

کچھ دنوں پہلے منگلورو میں احتجاجی مظاہرے کے دوران ہندتوا کارکن کے قتل میں ملوث ملزموں کو گرفتار نہ کئے جانے کی صورت میں جنوبی کینر ضلع کو آگ لگادینے جیسا متنازعہ اوربھڑکاؤ بھاشن دے کر سرخیوں میں رہنے والے رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے اب کیرالہ میں ایک میٹنگ کے دوران ...

یوٹی قادر کو چامراج نگر کا ضلع انچارج بنایا گیا

ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے جاری کیے گئے حکم کے مطابق فوڈ اینڈ سول سپلائی منسٹر جناب یو ٹی قادر کو اب چامراج نگر کا ضلع انچارج وزیر بنایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے مسٹر قادر کولار ضلع کے انچارج وزیر کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

چنتامنی میں غٖیر قانونی رسوئی گیس فروخت:ایک گرفتار

حال ہی میں شہر کے مضافات میں واقع نائن ہلی کے قریب ایچ پی گیس ایجنسی کے گودام میں پیش آئے رسوئی گیس سلنڈر حادثہ کے بعد تعلقہ بھر میں غیر قانونی رسوئی گیس فروخت کرنے والوں کا پتہ لگانے کیلئے چکبالاپور ضلع سپر ٹنڈنٹ آف پولیس چائترا ڈی وائی ایس پی کرشنامورتی کے زیر نگرانی میں ...

چنتامنی: اساتذہ کے مسائل حل کرانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہوں:ر ایل رام کرشناریڈی

ریاست کے اساتذہ کے مختلف مسائل ہے ان مسائل کو حل کرانے میں حکومتیں ناکام ہے حکومتیں اعلیٰ اورعمدہ تعلیم کا نعرہ ضرور دے رہے ہیں لیکن ان نعروں سے اساتذہ کے بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں ہوگا عمدہ تعلیم صرف کے نعرے کی حد تک محدو رہ جائیگی یہ بات آزاد امیدوار را یل رام کرشناریڈی نے ...

قومی سیاسی جماعتوں سے ملک مشکل میں: مانک سرکار

ملک کی 58 فیصد دولت پر محض ایک فیصد طبقہ قابض ہے۔ اس سے ملک میں معاشی مساوات کے قیام کا تصور کبھی مکمل نہیں ہوسکے گا۔ یہ بات آج منی پور کے وزیراعلیٰ مانک سرکار نے کہی۔ پریس کلب کے احاطہ میں منعقدہ پریس سے ملئے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں آج بھی 70 سے زائد فیصد ...

سائنس وٹیکنالوجی کے فروغ پر حکومت مکمل متوجہ: سدرامیا

ریاستی حکومت شعبہئ تعلیم وسائنس کو زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے اور فنڈز مہیا کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ خاص طور پر سائنس کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کرنے تیار ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ جواہر لال نہرو پلانیٹوریم میں 12.5 کروڑ روپیوں کی لاگت ...