ہندو گرنتھوں کے مطابق، گائے کا گوشت کھانا جرم نہیں:این سی پی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 20th April 2017, 10:44 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 19؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)کے ایک لیڈر نے منگل کو کہا کہ ہندوگرنتھوں میں بیف کھانے کو جرم نہیں بتایا گیا ہے اور انہوں نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو اس معاملے پر بحث کرنے کا چیلنج دیا ۔غورطلب ہے کہ بھاگوت نے حال ہی میں گؤ کشی پر پورے ملک میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔این سی پی کے جنرل سکریٹری ڈی پی ترپاٹھی نے گؤ رکشک تنظیموں کی سرگرمیوں کو ہندو مخالف بتایا۔انہوں نے دعوی کیا کہ سوامی وویکانند، جن کے وزیر اعظم نریندر مودی عقیدت مند ہیں، وہ نہ صرف گوشت کھاتے تھے، بلکہ گوشت پکاتے بھی تھے، کیا ان لوگوں (گؤ رکشکوں )کے لیے ان مشہور شخصیات کو جیل بھیجنا ممکن تھا۔راجیہ سبھا رکن ترپاٹھی نے کہا کہ ویدوں میں کہیں نہیں لکھا کہ بیف کھانا جرم ہے۔گرنتھوں میں، ویدوں میں یہ کہیں نہیں لکھاہے ، میں بھاگوت یا ان کسی بھی نمائندے کو سبھی ہندو گرنتھوں کی بنیاد پر مباحثہ کا چیلنج دیتا ہوں۔ترپاٹھی نے دعوی کیا کہ بڑی تعداد میں ہندو سمیت 80فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں ۔گؤ کشی پر پابندی لگانے کی بھاگوت کی تجویز آئین کی روح کے منافی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوگی حکومت اب اتر پردیش میں غیر قانونی پٹاخہ فیکٹریوں پر سخت کارروائی کرے گی 

اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد کی پٹاخہ فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سبھی ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں غیر قانونی پٹاخہ فیکٹریوں کی نشاندہی کرکے قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں ۔