بی بی ایم پی کی اشتہاری پالیسی بغیر بحث کے منظور کرانے کی کوشش، افسروں کی حرکت پر کونسل میٹنگ میں سخت اعتراض

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th August 2018, 10:59 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،28؍اگست(ایس او نیوز) بنگلور مہانگر پالیکے کو ہائی کورٹ کی طرف سے نئی اشتہاری پالیسی وضع کرنے کے لئے سخت ہدایت کے بعد اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں بی بی ایم پی نے اشتہاری بائی لا کی تیاری میں ایک بار پھر کوتاہی برتی ہے۔ کسی کے ذہن میں لائے بغیر بی بی ایم پی نے کونسل میٹنگ میں اس بائی لا کو منظور کرانے کی کوشش کی جس پر آج کونسل میٹنگ میں کارپوریٹروں نے سخت اعتراض کیا۔ ان کارپوریٹروں نے مطالبہ کیا کہ اس پالیسی پر کونسل میں بحث ہونی چاہئے۔

بنگلور میں غیر قانونی اشتہاروں کی بھرمار پر ہائی کورٹ کی لتاڑ کے بعد شہر بھر میں فلیکس اور بینروں کو جنگی پیمانے پر ہٹاکر اب شہر کو پاک وصاف کیا گیا ہے، عدالت کی ہدایت کے مطابق بی بی ایم پی نے نئی اشتہاری پالیسی اپنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حلف نامہ دائر کیا اور اسی بنیاد پر اشتہاری پالیسی وضع کی۔ اس پالیسی پر کونسل میں بحث کے بغیر آج اسے خاموشی سے منظور کرانے کے لئے کی گئی پہل پر کئی کارپوریٹروں نے شکوک وشبہات کا اظہار کیا۔ اور کہاکہ جب تک اس پر تفصیلی بحث نہیں ہوجاتی اس پالیسی کو ایسے ہی منظور نہیں کیا جاسکتا۔

کارپوریٹروں نے کہاکہ اس پالیسی کے تمام پہلوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایسے مرحلے میں جبکہ عدالت کی لتاڑ کے بعد یہ پالیسی وضع کی گئی ہے ، جب تک اس کے تمام ضوابط سمجھائے نہیں جاتے ، کارپوریٹر اسے منظور کرکے دوبارہ عدالت کی نظرمیں معتوب نہیں ہونا چاہتے۔میٹنگ میں مطالبہ کیا گیا کہ اشتہاری پالیسی پر بحث کے لئے کونسل کی ایک خصوصی میٹنگ طلب کی جائے۔ کارپوریٹروں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں جس طرح غیر قانونی فلیکس اور بینروں کو جنگی پیمانے پر ہٹایا گیا اسی طرز پر شہر بھر میں سر اٹھانے والے غیر قانونی موبائل ٹاوروں کو ہٹانے کی کارروائی کی جائے ۔

بی بی ایم پی کی طرف سے جن غیر قانونی موبائل ٹاوروں کو ہٹانے کی پہل کی گئی ان پر ڈھائی لاکھ روپیوں کا جرمانہ عائد کیا گیا اور سالانہ 20ہزار روپے فیس وصول کرنے کا فیصلہ لیا گیا لیکن اس بارے میں کارپوریٹروں کو کبھی اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ کارپوریٹروں نے پارٹی امتیازات سے بالا تر ہوکر مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر بھی نظر ثانی ہونی چاہئے۔ غیر قانونی طور پر جو موبائل ٹاورس کھڑے کئے گئے ہیں فوری طور پر ان ٹاوروں کو ہٹایا جائے اور جرمانے کے عوض انہیں چھوٹ دینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اسے منسوخ کیاجائے۔ 

ایک نظر اس پر بھی