بنگلوروشہر کے تمام نالوں کی مرمت کا کام مکمل کرنے میں پالیکے ناکام نشیبی علاقوں کے لوگ ابھی بھی خوف زدہ ، گاڑی سواروں کو پریشانی لاحق ہونے کا امکان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th July 2018, 10:57 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو10؍جولائی (ایس او نیوز) سلیکان سٹی بنگلورو میں گزشتہ سال ریکارڈ بارش ہوئی تھی ۔ جس کے سبب کئی نشیبی علاقہ زیر آب ہوگئے تھے ، کئی جانیں بھی تلف ہوئیں اور کافی نقصانات بھی ہوئے ۔ اس کے لئے بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی ) نے معاوضہ بھی دیا اور تعمیری کام شروع کرنے کا بیڑا بھی اٹھایا لیکن کئی علاقوں میں اب تک تعمیری کام مکمل نہیں ہوا ہے ۔

باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق بی بی ایم پی کی حدود میں جملہ 842 کلو میٹر نالے موجود ہیں ۔ ان میں سے 296.35 کلو میٹر کے نالوں کے اطراف دیواروں کی تعمیر ، پاکی صفائی سمیت دیگر کام مکمل کئے جاچکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی92.35 کلو میٹر طویل نالوں کی مرمت کا کام چل رہا ہے، مزید 453 کلو میٹر نالوں کے اطراف دیوار وں کی تعمیر اور مرمت کا کام ابھی باقی ہے ۔ گزشتہ سال شہر میں جو زبردست بارش ہوئی تھی اس موقع پر نالوں کا پانی سڑکوں پر بہہ جانے کے سبب نشیبی علاقے تالاب میں تبدیل ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی 3 افراد پانی میں بہہ کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ حادثات پیش آنے کے بعد بی بی ایم پی نے شہر کے شنکر مٹھ، ایچ ایس آر لے آؤٹ ، کمبارگنڈی ، آنے پالیہ ، پائی لے آؤٹ سمیت 52 علاقوں میں تعمیری کام شروع کیا گیا ۔ اس کے بعد پالیکے نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بارش کے موسم میں ان علاقوں میں مسائل درپیش نہیں ہوں گے ۔ جن علاقوں میں تعمیری کام مکمل نہیں ہوا ہے ان علاقوں کے مکینوں میں ڈر و خوف کا ماحول شروع ہوگیا ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے نائنڈہلی جنکشن میٹرو اسٹیشن کے قریب ہر سال بارش کے موسم میں بھاری مقدار میں پانی جمع ہوجاتا ہے ۔ گزشتہ سال زیادہ پانی جمع ہونے کے سبب کاریں تیرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ میسور روڈ ساؤتھ اور راجہ راجیشوری نگر زون میں شامل ہونے کے باوجود یہا ں کے نالوں کا کام ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا ہے ۔ ورشابھاوتی نالے میں بہنے والے پانی کا بہاؤ نائنڈہلی جنکشن میں کم ہوتا ہے ۔ اس سے ورشابھاوتی اور نائنڈہلی جنکشن سے گزرنے والے گاڑی سواروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بی بی ایم پی ذرائع کے مطابق ایچ ایس آر لے آؤٹ کے ایس ٹی بیڈ ، ایچ ایس آر 5، 6 اور7 ویں سیکٹر س دو سالوں میں 17 مرتبہ زیر آب ہوچکے ہیں ۔ جس کے سبب 21کروڑ روپیوں کے اخراجات سے سڑکوں کو اونچا کرکے وہاں پر چھوٹے نالے تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں سلک بورڈ کے نالے سے بہہ کر ایچ ایس آر لے آؤٹ کے نالے میں چلا جائے گا اس سے اس علاقہ میں پانی داخل ہونے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ اسی طرح شہر کے جے سی روڈ کے قریب واقع کمبارگنڈی لے آؤٹ میں 2 کروڑ روپیوں کے اخراجات سے نالے کے اطراف دیوار تعمیر کی گئی ہے ۔لیکن نالے پر تعمیر کردہ مکانات ہٹانے کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے وزیر اعلیٰ اور وزراء کے ان مقامات پردورہ کرنے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

شرورمٹھ کے سوامی کی موت کثرت شراب نوشی اور ناجائز تعلقات کا نتیجہ ؟معاملہ کی تحقیقات اور جانچ کیلئے 7ٹیمیں تشکیل 

اڈپی شرورمٹھ کے سوامی لکشمی ورتیرتھ سوامی جی کی مشتبہ حالات میں ہوئی موت پر انہیں قتل کیے جانے کاشبہ ظاہر کیاگیاتھا جس کے نتیجہ میں اڈپی ضلع ایس پی نے اس معاملہ کی ہر زاویہ سے جانچ کے لیے پولیس کی 7ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ شرور علاقہ میں یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ سوامی ...

کورگ میں ویڈیو بناکر مرکز توجہ بننے والے،عبدالفتح سے کمار سوامی کی ملاقات

کورگ میں موسلادھار بارش اور سیلاب کی صورتحال کے دوران وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کو متوجہ کرانے کے لئے سوشیل میڈیا پر آنے والے ویڈیو میں جو بچہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کو صورتحال پر متوجہ کروارہاتھا، آج کورگ میں وزیراعلیٰ کمار سوامی نے اس بچے عبدالفتح سے ملاقات کی۔