پاڈ ٹیکسی منصوبے کیلئے بی بی ایم پی کونسل میٹنگ میں منظوری بحث کئے بغیر منظوری حاصل کرنے پر اپوزیشن برہم ، پُرزور احتجاج کی دھمکی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th August 2018, 12:39 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 26 ؍اگست (ایس او  نیوز) پاڈ ٹیکسی منصوبے کی بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی ) کے اپوزیشن پارٹی کارپوریٹروں نے سخت مخالفت کی ہے ۔ کونسل میٹنگ میں بحث کے بغیر ہی منصوبے کیلئے منظوری حاصل کرلی گئی ہے ۔

بی بی ایم پی میں اپوزیشن لیڈر پدمانابھ ریڈی کے مطابق پاڈ ٹیکسی کیلئے کونسل میٹنگ میں بحث نہیں ہوئی ہے اس کے باوجود جو منظوری حاصل کی گئی ہے وہ ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے اپوزیشن پارٹی لیڈران اس کی مخالفت کرتے ہوئے پُرزور احتجاج کریں گے ۔

انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ پرسنل ریپڈ ٹرانسٹ سسٹم پرائیویٹ لمیٹڈ، الٹرا پی آر ٹی لمیٹڈ ، ایمبسی پراپرٹی ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی اشتراک والی کمپنیاں پاڈ ٹیکسی منصوبے کا کنٹراکٹ حاصل کئے ہیں ۔ یہ کمپنیاں پالیکے کو سالانہ 6.55 کروڑ روپئے فیس کے طور پر ادا کریں گی ۔ اس کے لئے کونسل میٹنگ میں منظوری مل گئی ہے ، صرف حکومت کی طرف سے منظوری ملنی باقی ہے ۔ حکومت سے منظوری ملنے کے فوری بعد کنٹراکٹروں کو تعمیری کام شروع کرنے کیلئے فرمان جاری ہوگا ۔

انہوں نے بتایا کہ کانگریس ۔ جے ڈی ایس کی مخلوط انتظامیہ پارٹی نے کونسل میٹنگ میں بحث کا موقع فراہم کئے بغیر ہی پاڈ ٹیکسی منصوبے کے لئے منظوری حاصل کرلی ہے ۔ ریاستی وزیر کے جے جارج کی پارٹنرشپ والی کمپنی کو جو ٹنڈر دیاگیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔ فی الحال یہ فائل حکومت کی منظوری کیلئے روانہ کی گئی ہے ۔ اگر ریاستی حکومت کی طرف سے اس منصوبے کو منظوری ملنے کی صورت میں بی جے پی لیڈران اس پروجیکٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے پُرزور احتجاج کریں گے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بی بی ایم پی نے جملہ 5 روٹ پر 35 کلو میٹر کی مسافت پر پاڈ ٹیکسی کیلئے تعمیری کام شروع کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ پہلے مرحلے میں 43 ؍ اسٹیشن تعمیر ہوں گے ۔ ایم جی روڈ کے ٹرینٹی سرکل تا لیلا پیالیس (4 کلو میٹر)، لیلا پیالیس سے مارتہلی جنکشن (6کلو میٹر) ، مارتہلی جنکشن سے اے پی آئی پی گرافائٹ انڈیا روڈ (6.50 کلو میٹر)، ٹرینٹی میٹرو اسٹیشن سے ایچ ایس آر لے آؤٹ (7.10 کلو میٹر) اور جئے نگر ففتھ بلاک سے جے پی نگر 6 واں بلاک (5.30 کلو میٹر) تک پاڈ ٹیکسی سرویس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-