کشمیر میں بی ایس ایف کی فائرنگ میں زخمی طالب علم کی موت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2018, 12:24 PM | ملکی خبریں |

سری نگر12؍جولائی (ایس او نیوز؍یو ا ین آئی) شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے نادی ہل میں 25 جون کو بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا گیارہویں جماعت کا طالب علم 16 روز تک سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اسکمز) میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد منگل کی صبح دم توڑ گیا۔

مہلوک نوجوان کی شناخت عبید منظور لون ولد منظور احمد لون کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔25؍جون کو نادی ہل میں 149بٹالین بی ایس ایف کے اہلکاروں نے احتجاجی طلباء کے ایک گروپ پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں گیارہویں جماعت کا طالب علم عبید احمد گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوا تھا'۔عبید کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے اسکمز میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ 16 روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد منگل کی صبح دم توڑ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ  'پولیس نے واقعہ کی نسبت پہلے ہی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کرلیا ہے '۔ عبید منظور جس دن زخمی ہوا تھا اس دن وادی میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی اپیل پر شہری ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کے خلاف ہڑتال کی جارہی تھی۔

دریں اثنا بارہمولہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عبید منظور کو منگل کو دوپہر کے وقت اپنے آبائی علاقہ نادی ہل میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔ شرکائے جنازہ کی جانب سے آزادی حامی نعرے بازی بھی کی گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق عبید منظور کی موت واقع ہوجانے کے خلاف نادی ہل میں منگل کو مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھیم آرمی کے سربراہ کی مولانا ارشد مدنی سے خصوصی ملاقات؛ ریاستی سیاست میں ہلچل

جیل سے رہائی کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد نے دیوبند پہنچ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے صرف یہ کہا کہ دبے کچلے طبقات کو ایک ساتھ لانا اور انہیں متحد کرنا ان کا مقصد ہے اور اسی کے تحت وہ یہاں آئے ...