عدلیہ کے تاریخی بحران پربارکونسل نے بنائی 7 رکنی کمیٹی، 4فاضل ججوں کی چیف جسٹس سے ہوسکتی ہے ملاقات

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2018, 12:30 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 13جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ تنازع فی الحال کھنچتا دکھ رہاہے،حالانکہ بار کونسل نے اسے جلد ختم کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ہفتے کے روز شام ہوئی بار کونسل میٹنگ میں4فاضل ججوں کے معاملات کو حل کرنے کے لیے 7ارکان کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔اس کمیٹی کے ارکان تمام ججوں سے باری باری مل کر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بتادیں کہ اس تنازعہ پر بار کونسل کے تمام ارکان نے ہفتہ شام کو میٹنگ کی۔اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عدالتی نظام کو کسی بھی طرح ٹھیس نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔بار کونسل نے اس معاملے میں بارکونسل نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں سے تعان کی اپیل کی ہے۔بار کونسل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نصف ججوں سے ملنے کا وقت مل گیاہے۔اس تنازع کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہیں بار کونسل نے اس معاملے میں سیاست کرنے سے بچنے کی رہنماؤں کو صلاح بھی دی۔ساتھ ہی بار کونسل میٹنگ میں مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی تعریف بھی کی، جس میں حکومت نے دخل نہ دینے کی بات کہی ہے۔بار کونسل کے چیئرمین منن کمار مشرا نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشراتوار شام کوکے چار ججوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔جسٹس چیلمیشور کے آفس کے ذرائع کے مطابق جمعہ کو جسٹس چیلمیشور کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے والے باقی کے تین جج دہلی سے باہر ہیں، ایسے میں جسٹس چیلمیشور چیف جسٹس سے ملنے کے خواہش مند نہیں ہیں اور یہ ملاقات کل شام کو ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس اپنی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی کے پرنسپل سیکرٹری نوپندر مشراکو ہفتے کے صبح چیف جسٹس کی رہائش گاہ کے باہر اپنی گاڑی میں دیکھا گیا۔بتایا جا رہا ہے کہ پرنسپل سکریٹری کا ایک اسسٹنٹ سی جے آئی کے کیمپ آفس گیا اور منٹ بعد ہی واپس آ گیا، اس کے بعد نوپیندر مشرا کی کار وہاں سے روانہ ہو گئی۔نوپیندر مشرا نے کہا کہ دفتر جانے کے دوران وہ سی جے آئی ہاؤسنگ گیٹ میں نئے سال کاتہنیتی کارڈ دینے کے لئے رکے تھے۔بتا دیں کہ سوال اٹھانے والے سپریم کے چار ججوں میں جسٹس چیلمیشور، جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزف شامل تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

سواتی مالیوال نے ہڑتال ختم کی، آرڈیننس کو تاریخی جیت قرار دیا 

دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے 12 سال سے کم عمر کی لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے قصورواروں کو سزائے موت سمیت ایسے جرائم کے لئے سخت سزا کی فراہمی سے متعلق آرڈیننس کے متعلق صدرجمہوریہ کی طرف سے اعلان کیے جانے کے بعد آج اپنی بھوک ہڑتال ختم کر لی۔