جی ایس ٹی اب بنگلور یونیورسٹی کے نصاب میں داخل امید ہے کہ ٹیکس کا یہ نظام آئندہ 40سال تک قائم رہے گا:منی نارائن اپا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th November 2017, 11:05 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11/نومبر(ایس او نیوز) ملک بھر میں بحث کا موضوع بناہوا فروخت اور خدمات محصول ، گوڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی ) کو بنگلور یونیورسٹی کے بی کام اور بی بی یم کے 5ویں سمسٹر کے نصاب میں شامل کیاگیاہے۔ بنگلور یونیورسٹی کامرس شعبہ کے صدر پروفیسر منی نارائن اپا نے بتایا کہ جی یس ٹی ایک ضروری موضوع ہے اسلئے ہم نے نصاب میں تبدیلی کرتے ہوئے اسی سال سے اس موضوع کو نصاب میں متعارف کرایا ہے۔ چونکہ اس موضوع میں مہارت رکھنے والے اساتذہ کی کمی ہے بنگلور یونیورسٹی نے اساتذہ کی تربیت کا انتظام کیا ہے۔ انسی ٹیوٹ آف کمپنی سکریٹریز آف انڈیا کے تعاون سے 220اساتذہ تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ تربیت کے دوسرے مرحلے کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے تمام کالجوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے کامرس اساتذہ کو تربیت کے لئے روانہ کریں۔ ایک سرکاری کالج کے کامرس لکچرر بنکاراجو نے بتایا کہ 22؍نومبر سے امتحانات شروع ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود کالجوں میں جی ایس ٹی کے موضوع پر تعلیم نہیں ہوئی۔ کیوں کہ کالجز کے بہت اساتذہ کو اس سلسلہ میں تربیت فراہم نہیں کی جاسکی ہے۔پروفیسر منی نارائن اپا نے بتایا کہ بنگلور یونیورسٹی کا منصوبہ ہے کہ اگلے تعلیمی سال سے جی ایس ٹی ایک علاحدہ سبجیکٹ کے طور پر پڑھا جائے۔ کامرس شعبہ میں اس کا نصاب تیار کیا جارہا ہے۔ حکومت کی منظوری حاصل کرنے کے بعد یہ نصاب شروع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیکس کا یہ نظام آئندہ 30تا 40 سال تک جاری رہے گا۔ جس کی توقع کی جاری ہے۔ لہٰذا اس موضوع پر مہارت کا حصول ضروری ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ہوناور میں مہلوک پریش میستا کے والد کے بیان پر کانگریس کے جگدیپ کا پلٹ وار؛ کہا کانگریس والے ڈاکٹر نہیں ہیں کہ وہ پریش میستا کی موت کو فطری موت کہیں

پریش میستا کی مشتبہ ہلاکت کے سلسلے میں ہورہی سست رفتار تحقیقات کے خلاف  ہوناور بلاک کانگریس  کی جانب سے کی گئی  بھوک ہڑتال کے ساتھ احتجاج  کرنے پر مہلوک پریش کے والد کملاکر میستا نے بھوک ہڑتال کو  فریبی چال اور دکھاوا قرار دیا تھا، ان کے  الزام سے صریح انکار کرتے ہوئے ہوناور ...

آئی اے ایس افسروں کی قلت ،حکمرانی میں رکاوٹ ریاست میں کئی افسروں پر افزود ذمہ داریاں۔ مزید 8؍ماہ انتظارکرنا ہوگا

ریاست کے اعلیٰ سطحی انتظامیہ میں افسرشاہوں کی 20؍فیصد قلت حکمرانی میں ایک بحران پیدا کررہی ہے۔ آئی اے ایس کے 61؍فیصد خالی عہدوں پر ریاست میں دستیاب 253افسروں کے ساتھ کام چلارہی ہے جن میں سے زیادہ ترکو افزود ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

کرناٹکا ریزرو پولیس کی خواتین خاکی شرٹ اور پتلون پہنیں گی

کرناٹکا ریزرو پولیس کے خواتین اہلکاروں کو سخت پولیس والوں کی شکل ملے گی جو اپنے مرد ساتھیوں جیسے خاکی شرٹ ،خاکی پتلون ،بیلٹ اور شو پہنیں گی۔ کے یس آر پی کی خواتین کو زیادہ ذمہ دار بنانے کے نظریہ سے یہ تبدیلی سوچی گئی ہے تاکہ وہ اپنے مرکزی ہم منصوبوں کی طرح لگیں جو ایرپورٹوں کی ...