ریاستی ضمنی انتخابات کے نتائج : آج سے بی جے پی کی ہار شروع ،بلاری قلعہ کا کیا ہوا؟ سدرامیا اور دیوے گوڈا پر امید

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 6th November 2018, 9:31 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو:6؍نومبر (ایس او نیوز)  ریاست کے ضمنی انتخابات میں کانگریس ،جے ڈی ایس مخلوط حکومت شاندار جیت حاصل کرنےکے بعد سیاسی لیڈران   کے بیان  2019کے لوک سبھا انتخابات کا بگل بجاتے ہوئے بی جےپی کو چوطرفہ گھیرنے کی تیار ی میں نظر آر ہے ہیں۔

ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی  سابق وزیرا علیٰ سدرامیا  نے ٹویٹ کرتے ہوئے آج سے ہوئے بی جے پی  کے ہار کی شروعات کہا ہے۔  انہوں نے پُر اعتماد لہجے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ سلسلہ 2019کے لوک سبھا انتخابات می بھی جاری رہے گا۔ ضمنی انتخابات میں مخلوط حکومت کی جیت کو دیوالی کا تحفہ قرار دیا ہے۔

سدرمیاکا کہنا ہے کہ میں نےپہلے ہی پیش گوئی کی تھی بلاری کا قلعہ ہمارے ہاتھ میں ہے وہاں ہمارے امیدوار اُگرپا 2لاکھ سے زائد ووٹوں سے جیت حاصل کریں گے۔  حلقہ میں دور کرنے کے بعد مجھے اچھی طرح پتہ تھا کہ عوام کا رجحان کس طرف ہے ۔ آج میری بات سچ ہوگئی ہے۔ بی جےپی والے بار بارعوام کو یہ باور کرارہے تھے کہ مخلوط حکومت ختم ہوجائے گی ، آج عوام نے ثابت کیا ہے کہ کانگریس بہت مضبوط ہے اور آئندہ لوک سبھا انتخابا ت میں مشترکہ الیکشن لڑنے کی بات کہی۔

سابق وزیراعظم ، جے ڈی ایس کے سپریمو ایچ ڈی دیوے گوڈا نے پدمنابھ نگر کے اپنے مکان میں ضمنی انتخابات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے لیڈران اور کارکنا ن کی متحدہ کوششوں کا نتیجہ 4حلقوں میں جیت کے طورپر ملا ہے۔ جس کے لئے ہم رائے دہندگان کا شکریہ اداکرتے ہیں۔ سابق وزیرا عظم نے کہاکہ اپنے اختلافات کو بھول کر ہم نئی شروعات کریں گے متحدہ کام کریں گےاورآئندہ لوک سبھا انتخابات میں بھی کانگریس کے ساتھ الیکشن لڑنے کی بات کہی۔  

دیوے گوڈا نے بی جےپی والوں پر طنز کستے ہوئے کہاکہ بلاری قلعہ کا کیاہوا؟ ۔ جس حلقے کو بی جےپی مضبوط قلعہ مان رہی تھی وہاں کانگریس کی جیت ثابت کرتی ہے وہ قلعہ سے باہر ہوگئے ہیں۔ شیموگہ کی ہار پر کہاکہ امیدوار کو طئے کرنے میں دیری ہوئی اگر وقت سے پہلے امیدوار کھڑا کرتے تو ہم یقینی طورپر جیت جاتے کیونکہ ہار کا فاصلہ صرف 52ہزار ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔