ریاست کے 28 ہزار سے زائد اسکولوں کو بند کرنے کی بات سامنے آنے کے بعد 58سرکاری پی یوکالجس بھی بند کئے جانے کا خدشہ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 11th July 2018, 6:50 PM | ریاستی خبریں |

بنگلور:11/ جولائی (ایس او نیوز)ایک طرف  ریاستی حکومت نے طلبہ کی کمی کو دیکھتے ہوئے  28,847 اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے  تو دوسری طرف 58  سرکاری پی یوکالجوں کو بھی قفل ڈالنے کے لئے  قدم بڑھانے کی بات  سامنے آئی ہے۔

منگل کو ودھان سبھا میں سوال جواب سیشن کے دوران کانگریس کے ایس ٹی سوم شیکھر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے بنیادی ،پرائمری  اور ثانوی تعلیمات این مہیش نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’متعلقہ کالجوں میں 10سے کم طلبا نے داخلہ لیا ہے، جس کو دیکھتے ہوئے  موجودہ اصول وضوابط کے مطابق ان کالجوں کو منتقل کیا جائےگا‘‘۔ وزیر موصوف نےکہاکہ گذشتہ دو برسوں میں 19پی یو کالجس منتقل کئے گئے ہیں۔

کالج منتقلی کے فیصلے کا دفاع  کرتے ہوئے ایک آفیسر نے بتایا کہ کئی کالجس ایسے ہیں، جہاں  ایک طالب علم نے بھی داخلہ نہیں لیا ہے تو کچھ کالجوں میں ہزاروں طلبا نے داخلہ لیا ہے  مگر اُن کالجس میں  مناسب شرح کے مطابق اساتذہ نہیں ہیں۔ آفیسر کے مطابق اگر کالجس منتقل کئے جاتے ہیں   تو کچھ حد تک اساتذہ کی قلت کامسئلہ حل کیا جاسکتاہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق فی الحال 58 ایسے کالجس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں دس سے کم طلبہ نے داخلہ لیا ہے، بتایا جارہا ہے کہ  ایس ایس ایل سی سپلمنٹری امتحان کے اختتام کے بعد اب پی یو میں داخلے جاری ہیں، رواں ماہ کے آخر تک واضح تصویر سامنے آئے گی کہ کن کن کالجوں میں طلبہ کی قلت ہے اور اُسی مناسبت سے متعلقہ کالجس کو بند کرکے طلبہ کو دوسری کالجوں میں  منتقل کیا جائے گا۔  سرکاری آفیسر نے بتایا کہ یہ ہرسال کا معمول ہے  اور  ایسی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔

ایک کلومیٹر کے حدود میں واقع اور کم داخلہ والے 28,847سرکاری اور امدادی اسکولوں کو قریب کے 8530 اسکولوں میں ضم کردیا جائے گا ،یاد رہے کہ  حال ہی میں ریاستی بجٹ پیش کرنے کے دوران وزیراعلیٰ کماراسوامی نے کہا  تھا کہ  اس  میعاد میں 1000سرکاری اسکولوں میں انگریزی میڈیم  کلاسس تجرباتی طورپر شروع کئے جائیں گے، مگر  بجٹ کے   فوری بعد طلبہ کے داخلوں میں  کمی کی  وجہ سے  پی یوکالجوں میں  قفل لگانے کی تیاری میں بھی محکمہ نظر آرہا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سرکاری ہائی اسکولوں کو ترقی دے کر 19سرکاری پی یوکالج اورسات  نئے سرکاری پی یو کالجوں کو منظوری دی گئی ہے۔ صفراور کم داخلہ والے کالجوں کے لیکچرروں یا دیگر عہدیداروں  کو دیگر   کالجوں  میں منتقل کیاجائے گا اور کچھ عہدوں پر  لیکچرر یا اسٹاف کا  نئے سرے سے بھرتی کرایا  جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔