قطر کا صرف بائیکاٹ کیا جارہا ہے:بحرینی وزیر خارجہ کا بیان

Source: S.O. News Service | Published on 7th August 2017, 9:56 PM | خلیجی خبریں |

منامہ،7اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے سے نمٹنے کے لیے اپنے ملک کی جانب سے حمایت کا ا عادہ کیا ہے اور قطر کی جانب سے اس سال حج کو سیاسی بنانے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ قطر کا کوئی محاصرہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ محاصرے کی اصطلاح کے استعمال کے سنگین بین الاقوامی مضمرات ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ قطر کے خلاف کیے گئے اقدامات سادہ الفاظ میں بائیکاٹ ہیں اور اس کا مقصد ہماری اقوام کی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ کرنا تھا۔

خالد آل خلیفہ نے کہا کہ  ہم قطر کے ساتھ تیرہ مطالبات پر کوئی مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ ہم صرف اس موضوع پر گفتگو کریں گے کہ ان پر کیسے عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔

چار خلیجی عرب ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے گذشتہ دو ماہ سے قطر کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات او ر زمینی وفضائی رابطے منقطع کر رکھے ہیں۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی مالی اور سیاسی حمایت اور خلیجی ممالک کے مفادات کی قیمت پر ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے الزامات عاید کیے تھے لیکن قطر نے  ان کو مسترد کردیا تھا۔

ان چاروں عرب ممالک نے بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے قطر کو تیرہ مطالبات پر مشتمل ایک فہرست پیش کی تھی۔انھوں نے قطر سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر لے، اپنے ہاں ترکی کے ایک فوجی اڈے کے قیام کا عمل روک دے اور الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو بند کردے۔

قطر کے مخالف خلیجی عرب ممالک الجزیرہ کو انتہا پسندوں کا پلیٹ فارم اور اپنے داخلی امور میں مداخلت کے لیے ایک آلہ قرار دیتے ہیں لیکن اس ٹیلی ویژن چینل نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی ادارتی آزادی کو برقرار رکھے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔