بابری مسجد کی شہادت کو26 سال مکمل، امت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ کیونکہ اب تک نہیں مل سکا ہے انصاف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2018, 11:06 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،6؍دسمبر (ایس او نیوز ؍خصوصی رپورٹ)  آج 6 دسمبرہے، آج سے 26 سال قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا، جس کے زخم ملت اسلامیہ آج بھی نہیں بھول پائی ہے۔ 26 سال گزرجانے کے بعد بھی بابری مسجد اورپوری دنیا کے مسلمان انصاف اورامید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک بابری مسجد کے قاتلوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچاکرانہیں سزا نہیں دی گئی ہے، ساتھ ہی ہندو شدت پسند تنظیموں اوربابری مسجد شہید کرنے والے لیڈران کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔

بابری مسجد کی 26 ویں برسی پردارالحکومت دہلی میں مختلف ملی وسماجی تنظیموں اورسرکردہ شخصیات کی جانب "یوم سیاہ" کےطورپرمنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل دارالحکومت دہلی کے علاوہ مختلف شہروں میں بابری مسجد کی یوم شہادت کو"یوم سیاہ" کے طورپرمناتی رہی ہیں۔ وہیں ہندو شدت پسند تنظیمیں جس میں بالخصوص وشو ہندو پریشد اوربجرنگ دل شامل ہیں یوم شجاعت (سوریہ دیوس) کے طورپرمناکرمسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہیں۔

اجودھیا میں 6 دسمبر 1992 کوکارسیوکوں، شیو سینکوں اوربجرنگ دل اوروشو ہندوپریشد کے لوگوں نے مل کربابری مسجد کو شہید کردیا تھا اوراس وقت کی مرکزمیں نرسمہا راو کی حکومت اوراترپردیش میں کلیان سنگھ حکومت نے خاموش تماشائی بن کرملک کے وقاروجذبات اورآئین کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے سپریم کورٹ سے بابری مسجد کو بچانے کے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے شہید ہوجانے دیا تھا۔

دراصل یہ معاملہ ابھی عدالت عظمیٰ میں زیرغورہے، لیکن مختلف شدت پسند ہندو تنظیموں اوربرسراقتدارجماعت بی جے پی اورشیو سینا کے کئی لیڈران کی جانب سے سپریم کورٹ کو درکنارکرتے ہوئے رام مندرتعمیرکئے جانے کا مطالبہ حالیہ دنوں میں زوروشورسے اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اجودھیا میں کب کیا ہوا؟

سن 1528 : ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر نے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی ، جس کی وجہ سے اس کو بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا۔

سن 1853 : ہندوؤں کا الزام کہ بھگوان رام کے مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس کو لے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی مرتبہ تنازع ہوا۔

سن 1859:  برطانوی حکومت نے تاروں کی ایک باڑ کھڑی کرکے اندرونی اور بیرونی احاطہ میں مسلمانوں اور ہندووں کو الگ الگ عبادت کی اجازت دے دی۔

سن 1885:  پہلی بار معاملہ عدالت میں پہنچا۔ مہنت رگھوبر داس نے فیض آباد عدالت میں بابری مسجد سے متصل ایک رام مندر کی تعمیر کی اجازت کیلئے عرضی دائر کی۔

سن 1949 ، 23 دسمبر :  تقریبا 50 ہندوؤں نے مسجد کے مرکزی مقام پر بھگوان رام کی مورتی رکھ دی۔ اس کے بعد اس مقام پر ہندو وں نے پوجا ارچنا شروع کردی ، جبکہ مسلمانوں نے نماز پڑھنی بند کر دی۔

سن 1950 ، 16 جنوری :  گوپال سنگھ وشارد نے فیض آباد عدالت میں ایک اپیل دائر کر کے رام للا کی پوجا کی خصوصی اجازت مانگی۔ انہوں نے وہاں سے مورتی ہٹانے پر عدالتی روک کی بھی کوشش کی۔

سن 1950 ، 5 دسمبر:  مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے پوجا جاری رکھنے اور بابری مسجد میں رام مورتی رکھنے کے لئے عرضی داخل کی ۔ مسجد کو 'ڈھانچہ کا نام دیا گیا۔

سن 1959 ، 17 دسمبر:  نرموہی اکھاڑا نے بابری مسجد کی منتقلی کا مقدمہ دائر کیا۔

سن 1962 ، 18 دسمبر:  اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ دائر کیا۔

سن 1984:  وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بابری مسجد کا تالا کھولنے اور مندر کی تعمیر کے لئے مہم شروع کی۔ ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

یکم فروری، 1986:   فیض آباد ضلع جج نے ہندووں کو پوجا کی اجازت دی۔ تالا دوبارہ کھولا گیا۔ مسلمانوں نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام کیا۔

جون 1989:  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وی ایچ پی کی باضابطہ حمایت کرنی شروع کردی ۔

یکم جولائی 1989: بھگوان رام للا براجمان نام سے پانچواں مقدمہ دائر کیا گیا۔

9؍ نومبر 1989: اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے بابری مسجد کے نزدیک سنگ بنیاد کی اجازت دی۔

25؍ستمبر 1990: بی جے پی صدر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اتر پردیش کے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔

نومبر 1990: اڈوانی کو بہار کے سمستی پور میں گرفتار کر لیا گیا۔ بی جے پی نے اس وقت کے وزیر اعظم وی پي سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔ سنگھ نے بائیں بازو کی جماعتوں اور بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنائی تھی، بعد میں انہوں نے استعفی دے دیا۔

اکتوبر 1991: اترپردیش میں کلیان سنگھ حکومت نے بابری مسجد کے آس پاس کی 2.77 ایکڑ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

6؍دسمبر 1992:  ہزاروں کی تعداد میں کار سیکوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد شہید کردی ، جس کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔

16 دسمبر 1992:  مسجد کے انہدام کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن کی تشکیل عمل میں آئی۔

جنوری 2002:  وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے دفتر میں ایک ایودھیا محکمہ شروع کیا ، جس کا کام تنازع کو حل کرنے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں سے گفت و شنید کرنا تھا۔

اپریل 2002:  ایودھیا کے متنازع مقام پر مالکانہ حق کو لے کر ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سماعت شروع کی۔

مارچ اگست 2003:  الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پرمحکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی شروع کی ۔

ستمبر 2003:  عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مسجد کو منہدم کرنے کیلئے اکسانے والے سات ہندو لیڈروں کو سماعت کے لئے بلایا جائے۔

اکتوبر 2004: اڈوانی نے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی بی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔

جولائی 2009:  لبراہن کمیشن نے قیام کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔

28 ستمبر 2010: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو متنازع معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کی راہ ہموار کردی ۔

30؍ستمبر 2010: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس میں زمین کا بندر بانٹ کردیا گیا ۔ فی الحال یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ریاستیں کشمیری شہریوں کو تحفظ فراہم کرائیں،مرکز نے مشاورت جاری کی

پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے پیش نظر ملک کے مختلف حصوں میں جموں کشمیر سے متعلق لوگوں پر حملے کی خبروں کے درمیان مرکزنے جمعہ کی رات تمام ریاستوں کو جموں کشمیر سے متعلق لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

پی چدمبرم کا طنز، مودی کے رہتے بی جے پی کو کسی کی صلاح کی کیا ضرورت

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈی ایس ہڈا کو کانگریس کی جانب سے قومی سلامتی پرمشاورت تیار کرنے کی ذمہ داری دئے جانے کو لے کر وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے حملے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ہفتہ کو طنز کیا

رابرٹ واڈرا نے عدالت میں عرضی داخل کر معاملے سے منسلک دستاویزات کی کاپیاں مانگی

منی لانڈرنگ کے معاملات میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانچ کا سامنا کر رہے رابرٹ واڈرا نے ہفتہ کو دہلی کی ایک عدالت میں عرضی داخل کر جانچ ایجنسی سے کیس سے منسلک دستاویزات کی کاپیاں مانگی۔

ہماری حکومت بنی تو نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو ملے گا شہید کا درجہ: راہل گاندھی

کانگریس صدر راہل گاندھی نے سنیچر کو کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ان کی پارٹی کی حکومت بننے پرملک کے لیے جان نچھاور کرنے والے نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو بھی ’شہید‘ کا درجہ دینے کا بندوبست کیا جائے گا۔

آننت کمار ہیگڈے۔ جو صرف ہندووادی ہونے کی اداکاری کرتا ہے ’کراولی منجاؤ‘کے چیف ایڈیٹر گنگا دھر ہیرے گُتّی کے قلم سے

اُترکنڑا کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے جو عین انتخابات کے موقعوں پر متنازعہ بیانات دے کر اخبارات کی سُرخیاں بٹورتے ہوئے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے، اُس کے تعلق سے کاروار سے شائع ہونے والے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو کے ایڈیٹر نے  اپنے اتوار کے ایڈیشن میں اپنے ...

کیا جے ڈی نائک کی جلد ہوگی کانگریس میں واپسی؟!۔دیشپانڈے کی طرف سے ہری جھنڈی۔ کانگریس کر رہی ہے انتخابی تیاری

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات سے چند مہینے پہلے کانگریس سے روٹھ کر بی جے پی کا دامن تھامنے اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر فہرست میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کی جلد ہی دوبارہ کانگریس میں واپسی تقریباً یقینی ہوگئی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق اس کے لئے ضلع ...

ضلع شمالی کینرا میں پیش آ سکتا ہے پینے کے پانی کابحران۔بھٹکل سمیت 11تعلقہ جات کے 423 دیہات نشانے پر

امسال گرمی کے موسم میں ضلع شمالی کینرا میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہونے کے آثار نظر آر ہے ہیں۔ کیونکہ ضلع انتظامیہ نے 11تعلقہ جات میں 428دیہاتوں کی نشاندہی کرلی ہے، جہاں پر پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2019؛ کرناٹک میں نئے مسلم انتخابی حلقہ جات کی تلاش ۔۔۔۔۔۔ آز: قاضی ارشد علی

جاریہ 16ویں لوک سبھا کی میعاد3؍جون2019ء کو ختم ہونے جارہی ہے ۔ا س طرح جون سے قبل نئی لوک سبھا کا تشکیل ہونا ضروری ہے۔ انداز ہ ہے کہ مارچ کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہوجائے گا‘ اور مئی کے تیسرے ہفتے تک نتائج کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 17ویں ...

2002گجرات فسادات: جج پی بی دیسائی نے ثبوتوں کو نظر انداز کردیا: سابق IAS افسر و سماجی کارکن ہرش مندرکا انکشاف

 خصوصی تفتیشی ٹیم عدالت کے جج پی ۔بی۔ دیسائی نے ان موجود ثبوتوں کو نظر انداز کیاکہ کانگریس ممبر اسمبلی احسان جعفری جنہیں ہجوم نے احمدآباد کی گلمرگ سوسائٹی میں فساد کے دوران قتل کردیا تھا انہوں نے مسلمانوں کو ہجوم سے بچانے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی سے فساد پر قابو ...