رام جنم بھومی:بابری مسجد مالکانہ حق معاملہ 5 دسمبرسے شروع ہوگی حتمی سماعت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th August 2017, 10:47 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11/اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے اجودھیا اراضی تنازعہ کیس کی حتمی سماعت آج پانچ دسمبر تک کے لئے ملتوی کر دی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختلف اپیلوں کی مشترکہ سماعت کے دوران جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر کی خصوصی بنچ نے کہا کہ پانچ دسمبر سے اس معاملے میں حتمی سماعت کی جائے گی۔کورٹ نے تمام متعلقہ فریقین کو آگاہ کر دیا کہ اس دوران سماعت ملتوی کرنے کی کسی کی بھی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ فریقین ضروری تیاریاں کر لیں۔معاملے کی سماعت شروع ہوتے ہی سنی وقف بورڈ نے کہا کہ بہت ساری دستاویزات کے ترجمے کا کام اب تک نہیں ہو پایا ہے۔یہ دستاویزات سنسکرت، فارسی، اردو، عربی اور دیگر زبانوں میں ہیں. ان کے ترجمے کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ عدالت نے سات برسوں تک دستاویزات کا ترجمہ نہیں ہونے پر ناراضی بھی ظاہر کی۔ عدالت نے اس کام کے لئے تمام فریقین کے وکلاء کو12ہفتے کی مہلت دی۔سپریم کورٹ میں سات سال کے وقفے کے بعد اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔اس معاملے میں کچھ وقت پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر سبرامنیم سوامی نے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی بنچ سے جلد سماعت کی فریاد کی تھی۔ عدالت نے گزشتہ ماہ مسٹر سوامی کو بھی معاملے میں فریق بننے کی اجازت دے دی تھی۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے2010میں متنازع مقام کے2.77ایکڑ علاقے کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان برابر۔برابر حصے میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔چند ماہ قبل کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملے کا عدالت سے باہر حل نکالنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے ۔ مختلف فریقین کی جانب سے اس رخ پرکوشش بھی کی گئی، لیکن کوئی حل نہیں نکل سکا۔ لہٰذا عدالت ابھی خوبی اور خامی کی بنیاد پر ہی اس تنازعہ کا تصفیہ کرے گی۔جمعہ کو شروع ہوئی سماعت میں یوپی حکومت کی طرف سے اسوسی ایٹ سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سب سے پہلے اپنا موقف پیش کیا ۔انہوں نے کیس کی سماعت جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔سنی وقف بورڈ نے اس بات پر اعتراض کیا کہ مناسب کارروائی کے بغیر یہ سماعت کی جارہی ہے ۔سبرامنیم سوامی نے متنازعہ مقام پر لوگوں کو پوجاکرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا جس پر سپریم کورٹ کی بنچ نے تمام فریقوں کو سب سے پہلے یہ واضح کرنے کیلئے کہاکہ کون کس کی جانب سے فریق ہے؟ اس پر سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیروی کررہے سینئر وکیل کپل سبل نے کہاکہ اس معاملے کے کئی فریقوں کا انتقال ہوچکا ہے ایسے میں ان کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔

دستاویزات کا ترجمہ ابھی باقی:سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش وکیل کپل سبل نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ اس معاملے سے وابستہ دستاویزات کئی زبانوں میں ہیں ایسے میں پہلے ان کا ترجمہ کرایا جاناچاہئے۔ عدالت نے اس کام کیلئے سبھی فریقوں کے وکلاء کو 12 ہفتے کی مہلت دی۔ 

سوامی کی عرضی مسترد:دریں اثناء بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا جس میں انہوں نے خود کو معاملہ کا فریق بتایا تھا۔ اس کے بعد سوامی نے ایک عرضی گزار کی حیثیت سے ان کو موقع دئے جانے کی درخواست کی جس پر عدالت نے کہاکہ وہ تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ان کو موقع دیں گے ۔ سماعت کے دوران سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ سے کہاکہ یہ کوئی دیوانی تنازعہ نہیں بلکہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ۔اس کے ساتھ ہی سوامی نے اسے دیوانی سے بدل کر عوامی مفاد کے کیس کی طرح دیکھے جانے کی بھی اپیل کی۔ سوامی کی اس دلیل پر سنی وقف بورڈ نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ یہ سوال تو سپریم کورٹ پہلے ہی حل کرچکا ہے ۔سبل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے 5ججوں کی بنچ نے 1994 میں ہی یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اس زمین کے مالکانہ حقوق سے وابستہ دیوانی معاملے کی الگ سے سماعت کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے اس بے حد اہم معاملے کے حل کے لئے تین ججوں جسٹس دیپک مشرا، اشوک بھوشن اورعبدالنظیر کی خصوصی بنچ قائم کی ہے ۔یہ بنچ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی درخواستوں اورمتنازعہ زمین کے مالکانہ حق پر فیصلہ کیلئے روزانہ سماعت کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیر اعلیٰ نتیش کمارکا کشن گنج کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ;ایم پی مولانااسرارالحق قاسمی نے میمورنڈم سونپ کر سیلاب متاثرین کی فوری بازآبادکاری کامطالبہ کیا

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آج کشن گنج کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اورراحت وامداد کے کاموں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر علاقے کے ایم مولانا اسرارالحق

حادثات سے دکھی پربھونے کہا;ریلوے کے لئے خون اور پسینہ ایک کیا، استعفی پرمودی نے انتظارکرنے کوکہا

گزشتہ پانچ دنوں میں اتر پردیش میں دو ٹرینوں کے حادثات کی اخلاقی ذمہ داری لے کر ریلوے وزیر سریش پربھو استعفی دینے کی پیشکش کی ہے،اگرچہ ان کا استعفی ابھی تک قبول نہیں ہوا تھا۔

حکومت ہماری خاموشی کو بزدلی نہ سمجھے: سید عالمگیر اشرف;رائے پور میں بورڈ کی ہنگامی میٹنگ طلب، ملک بھر میں جاری کیا پیغام،مذہب میں دخل اندازی نا قابل برداشت

مرکزی حکومت کی مسلسل مذہب میں غیر قانونی دخل اندازی حکومت کے لئے اچھا نہیں ہے۔ اپنی ناکامیوں اورمجرموں کو شہ دینے کی مجراانہ سازشوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ملک کے