بابری مسجد مقدمہ حتمی بحث کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء تیار؛ جارحانہ بیان بازی کرنے والوں کا عدالت ازخودنوٹس لے ؛ مولانا سید ارشدمدنی کا بیان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th March 2018, 8:33 PM | ملکی خبریں |

دہلی 12؍ مارچ  (ایس او نیوز/پریس ریلیز) بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت ۱۴؍ مارچ سے ایک بار پھر سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے سامنے شروع ہورہی ہے اور اس تعلق سے اس معاملے کی اہم فریق جمعیۃ علماء ہند نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں  اور اس کے وکلاء حتمی بحث کرنے کے لئے  تیار ہیں ۔ یہ اطلاع آج جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبارنویسوں کو دی۔

انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جس میں جسٹس عبدالنظیر اور جسٹس بھوشن شامل ہیں کہ روبرو14؍ مارچ یعنی  بدھ کے دن دو بجے بابری مسجد ہائی پروفائل مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجو دھون اور ایڈوکیٹ راجو رام چندرن اپنے دلائل پیش کریں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل کی سماعت پر چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشراء نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایگزیبیٹس A37 سے A40 اور 11,52/49,53,83,106کے ترجمے کراکر عدالت میں جمع کرائیں ، عدالت کی ہدایت پر ترجمے کرانے کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور معاملے کی سماعت پر اسے عدالت میں پیش کردیا جائے گا ۔واضح ہوکہ عدالت نے ہندو فریقین کوبھی حکم دیا تھا کہ سنسکرت اور دیگر زبانوں کی کتابوں کو جسے انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کیا تھا کے ترجمے کراکر مسلم فریقین اور عدالت کو دیئے جائیں، جس پر ہندو فریقین نے کیا کارروائی کی ہے اس کا خلاصہ تو 14؍ مارچ کو ہی ہوگاتاہم اگر فریقین کے دستاویزات مکمل ہوچکے ہیں تو اب اس معاملہ پر حتمی بحث شروع ہوسکتی ہے ۔

دریں اثنا تمام تر تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد جمعیۃعلماء ہندکے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہماری تیاریاں مکمل ہیں ہمارے وکلاء عدالت میں بحث کے لئے تیارہیں اور ہمیں یقین ہے کہ  تاریخی حقائق اور موجوددستاویزات کی بنیادپر ہی اس معاملہ میں عدالت اپنا فیصلہ دیے گی اس تنازع کو لے کر حالیہ دنوں میں شروع ہوئی بیان بازیوں  پر انہوں نے نہ صرف سخت تسویش کا اظہار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ معاملہ جب عدالت میں زیر سماعت ہے تو اس پر کچھ لوگ بلاجواز بیان بازی کیوں کررہے ہیں ، مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ مندرنہیں بننے کی صورت میں ہندوستان سیریا بن جائے گا تو بعض پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمہ داران وہاں مندربنوانے کی بات کہہ رہے ہیں ، ابھی ایک بڑی تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدارکا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ وہاں مندربنناطے ہے ، مولانامدنی نے سوال کیا کہ ابھی تو معاملہ پر بحث تک شروع نہیں ہوئی ہے فیصلہ تو بحث اور دوسری قانونی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد ہی آئے گا تو پھر کس بنیادپر کہا جارہاہے کہ وہاں مندرہی بنے گاَ ؟ انہوں نے سوال کیا کہ  کیا یہ عدالت کی توہین نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلہ سے قبل اس طرح کی بات کہنا نہ صرف عدالت بلکہ ملک کی آئین اور قانون کی بھی توہین ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے ایک ذمہ دار شہری ہے ہمیں عدلیہ پر مکمل یقین واعتماد ہے اور اسی بنیادپر ہم ابتداسے کہتے آئے ہیں کہ اس معاملہ میں عدالت کا جوبھی فیصلہ آئے گا وہ قابل قبول ہوگا ، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی جارحانہ بیان بازی درحقیقت اکثریت کے مذہبی جذبات کو اکسانے اور ملک بھر میں مندرکے نام پر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کے لئے کی جارہی ہے ، اس لئے فاضل عدالت کو ازخوداس کا نوٹس لینا چاہئے اور جو لوگ اس طرح کی بیان بازی کرکے ملک کا ماحول خراب کرنے کی سازشیں کررہے ہیں ان پر قدغن لگانا چاہئے ۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ پہلی سماعت عدالت یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ مداخلت کاروں جس میں رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور شیعہ وقف بورڈ چیرمین وسیم رضوی و دیگر شامل ہیں کو فی الحال اس معاملے میں کچھ بھی کہنے کی اجازت نہیں دے گی جس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ اب صرف عدالت میں جمعیۃ علماء ہند سمیت دیگر مسلم فریقین ہی اپنے دلائل پیش کرسکیں گے ۔پھر عدالت کے باہر جارحانہ نوعیت کی بیان بازیوں کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند نے صدر جمعیۃعلماء مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر 30؍ ستمبر2010ء؍ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو جس میں ا س نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا کے  خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا (10866-10867/2010 سول اپیل نمبر) پھر اس کے بعد دیگر مسلم تنظیموں نے بطور فریق اپنی عرضداشتیں داخل کی۔

خیال رہے کہ23؍ دسمبر 1949 ؁ء کی شب میں بابری مسجد میں مبینہ طور پر رام للا کے ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو دفعہ 145؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیرالدین فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ 30؍ ستمبر 2010ء؍ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر بدھ کو سماعت عمل میں آئے گی ۔

ایک نظر اس پر بھی