ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کی شنوائی 29جنوری تک ٹلی مسلم فریقوں کے وکیل نے بنچ کی تشکیل پر ہی اُٹھایا سوال

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th January 2019, 9:04 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 10جنوری (ایس او نیوز)  آج سپریم کورٹ کی دستوری بنچ جس کی صدارت خود چیف جسٹس کر رہے تھے ،نے اجودھیا معاملے کی شنوائی کا آغاز کیاتو مسلم فریقوں   ( مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علما ہند) کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے دستوری  بنچ کی تشکیل پر ہی سوال کھڑا کر دیا۔ اس بات کی جانکاری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔

ریلیز کے مطابق ڈاکٹر دھون کی دلیل یہ تھی کہ عدالت عظمی کی ایک دیرینہ روایت یہ ہے کہ بنچ میں کوئی ایسا جج نہیں ہو سکتا جو کسی بھی معاملے میں اس کیس میں کسی پارٹی کی طرف سے بطور وکیل پیش ہوا ہو۔کیونکہ جسٹس یو للت 1997میں اجودھیا مسئلہ سے متعلق ایک کیس میں کلیان سنگھ کی طرف سے وکیل تھے ۔لہذا وہ اس بنچ کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس پر جسٹس یو للت نے خود کو اس کیس سے الگ کر لیا اور چیف جسٹس نے یہ مانا کہ بنچ بنانے میں چوک ہوئی ہے ۔ لہذا فیصلہ دیا کہ بنچ دوبارہ بنائی جائے گی اور کیس سے متعلق تفصیلات طے کر نے کے لئے اگلی تاریخ 29جنوری ہوگی۔ اسی طرح چیف جسٹس نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ چونکہ اس کیس میں 19ہزار صفحات کی دستاویزات پر پارٹیوں نے انحصار کیا ہے اور اس کا ترجمعہ خود کروایا ہے لہذا رجسٹری یہ دیکھے گی کہ ترجمعہ درست ہے یا نہیں۔

آج کے فیصلے پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ نے بنچ سے متعلق اپنے سہو کو تسلیم کرتے ہوئے اسے درست کرنے کا فیصلہ کر لیا یہ مناسب اور خوش آئند بات ہے۔   بابری مسجد کمیٹی کے  کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہندو فریق خواہ مخواہ میڈیا کے ذریعہ یہ اشتعال پھیلا رہے ہیں کہ مسلم فریق کسی نہ کسی تکنیکی بنیاد پر مقدمہ کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔دراصل یہ افراد خود عدالت پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم نے تو صرف ایک سہو کی طرف اشارہ کیا تھا جسے کورٹ نے تسلیم کر لیا۔

مسلم فریقوں کی طرف سے تمام وکلا عدالت میں موجود تھے ۔یہاں تک کہ  ڈاکٹر راجیو دھون اپنی علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود پوری تیاری کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے اتحادکونشانہ بنایا

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ مودی حکومت کی مقبولیت سے خائف ہو کر اپوزیشن جماعتوں نے مہاگٹھ بندھن (عظیم اتحاد) بنایا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ عوامی حمایت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں ہی رہے گی۔

مایاوتی پر’غیر اخلاقی‘ تبصرہ کرنے والی بی جے پی ممبر اسمبلی سے خواتین کمیشن نے وضاحت طلب کی

بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا موازنہ مبینہ طور پر ہجڑوں سے کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے قومی خواتین کمیشن نے پیر کو بی جے پی ممبر اسمبلی سادھنا سنگھ کو نوٹس جاری کہا کہ وہ اپنی اس ’غیر اخلاقی، توہین اور غیر ذمہ دارانہ‘تبصرہ پر تسلی بخش وضاحت دیں۔

ملک نئے وزیراعظم کاانتظارکررہاہے،بی جے پی کے پاس کوئی اورہوتوبتائے،ہمارے پاس کئی چوائس ہیں:  اکھلیش یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے رہنما کے بارے میں سوال پوچھ کربی جے پی پر طنز کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ ملک کے عوام اگلے انتخابات کے بعد نیا وزیر اعظم چاہتی ہے.

مالیگاؤں2008 بم دھماکہ معاملہ؛ یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے خلاف داخل اپیل پر 28؍ جنوری کو ہائی کورٹ میں سماعت متوقع

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل پروہیت و دیگر ملزمین کی جانب سے یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے خلاف داخل اپیل پر 28؍ جنوری کو ہائی کورٹ میں سماعت ہوسکتی ہے ۔