بابری مسجد مقدمہ؛ مسلم تنظیموں کے شدید احتجا ج کے بعد سماعت ۸؍ فروری تک ملتوی ؛ وکلاء معاملے کی سماعت جولائی ۲۰۱۹ء کے بعد کرانے کی حمایت میں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 5th December 2017, 6:19 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ۵؍دسمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز)  آج جیسے ہی سپریم کورٹ آف انڈیا میں بابری مسجد معاملے کی سماعت شروع ہوئی جمعیۃ علماء ہند سمیت دیگر مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے سامنے ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد کیئے جانے کی گذارش کی جس پر عدالت نے پہلے تو انکار کیا لیکن وکلاء کے شدید  احتجاج اور عدالت سے واک آؤٹ کرکے چلے جانے کی دھمکی دینے کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۸؍ فروری ۲۰۱۸ ء تک ملتوی تو کردی لیکن مسلم تنظیموں کے اس رویہ کی شکایت آج کی اپنی عدالتی کارروائی میں درج کی ۔

جمعیۃ علماء ہند کے پریس سکریٹری فضل الرحمن قاسمی نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعیۃ   کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کوبتایا کہ بابری مسجد کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالت کا فیصلہ آئندہ پارلیمانی و اسمبلی انتخابات پر نظر انداز ہوسکتا ہے لہذا عدالت کو معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے اسے اس کی سماعت فوراً ملتوی کردینا چاہئے ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ وہ مقدمہ کی میریٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور جب بھی مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی وہ عدالت میں اپنے دلائل پیش کریں گے نیز ابتک ۱۹؍ ہزار سے زائد صفحات عدالت کے ریکارڈ میں فریقین کیجانب سے داخل کیئے جاچکے ہیں جس کے مطالعے کے لیئے مزید وقت مطلوب ہے ۔

ڈاکٹرراجیو دھون کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور دوشن دوئے نے بھی عدالت کو بتایا کہ عدالت کو اپنے آپ کو اس مقدمہ کی سماعت سے دور رکھنا چاہئے کیونکہ اس کا اثر آنے والے انتخابات پر پڑے گا نیز اس معاملے کی سماعت میں مہینوں درکارہیں اور چیف جسٹس کو ریٹائرڈ ہونے میں کچھ ہی ماہ بچے ہیں ۔مسلم تنظیموں کے وکلاء نے آج عدالت میں بی جے پی کے لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کے ذریعہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو لکھے گئے خفیہ خط کی نقول بھی پیش کی جس میں سبرامنیم سوامی نے وزیر اعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کا وعدہ تھا کہ آپ الیکشن جیتنے کے بعد رام مندر کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کردیں گے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر فیصلہ ہے ۔

جمعیۃ علما ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر راجیو دھون  عدالت میں بہت غصہ میں دکھائی دیئے اور انہوں نے عدالت سے اس معاملے کو نہ چلانے کی گذارش کی اور عدالت کے نہ ماننے پروہ دیگر وکلاء کو لیکر عدالت سے جانے لگے جس کے بعد عدالت نے انہیں منانے کی کوشش ۔دوپہر دو بجے چیف جسٹس کی کورٹ میں شروع ہوئی سماعت کے وقت کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی حالانکہ وکلاء اور فریقین کے علاوہ کسی کو بھی کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اس کے باوجود تقریباً دو گھنٹہ تک چلنے والی عدالتی کارروائی وکلاء نے کھڑے کھڑے سماعت کی۔بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 جس کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس دیپک مشراء، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران مسلم جماعتوں نے مقدمہ نہ چلائے جانے کی عدالت سے گذارش کی جس کے جواب میں عدالت نے ۸؍ فروری کی تاریخ مقرر کی ہے اور فریقین سے کہا کہ وہ اس درمیان اپنے اپنے دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں ۔

مسلم تنظیموں بشمول جمعیۃ علماء ہند، مسلم پرسنل  لاء بورڈ، سنی وقف بورڈ اور دیگر کی جانب سے داخل کردہ مشترکہ عرضداشت میں عدالت کو بتایا گیا کہ مسلم تنظیموں نے ہندوستانی عدلیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس تعلق سے عدالت کافیصلہ انہیں قابل قبول ہوگا اس کے برخلاف ہندو تنظیموں نے عدالت کے فیصلہ کو در کنار رکھتے ہوئے مندر بنانے کی ضد لگائی ہوئی ہے او ر انہوں نے ابھی تک ایسا کوئی بھی بیان نہیں دیا جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ وہ عدالت کا فیصلہ قبول کرنے کو تیار ہیں۔مشترکہ عرضداشت میں بتایا گیا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہمیشہ سیاسی جماعتوں نے اس کا فائد ہ الیکشن کے ایام میں اٹھایا ہے لہذا عدالت کو معاملے کی سماعت ۲۰۱۹ء کے انتخابات کے بعد کئے  جانے کے احکامات جاری کرنا چاہئے نیز اس معاملے میں ابتک فریقین کی جانب سے داخل کردہ دستاویزات کا مطالعہ اور ان کے ترجمے مکمل نہیں ہوسکے ہیں جس کے لیئے مزید کئی مہینوں کا وقت درکار ہے ۔مشترکہ عرضداشت میں عدالت سے یہ بھی گذارش کی گئی ہے کہ وہ ہندو تنظیموں کے نمائندوں بشمول یوگی ادتیہ ناتھ، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، وی ایچ پی صدر و دیگر کو ایسے بیانات جاری کرنے سے متنبہ کرے جس سے دو فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہوتا ہو اور عدالت کا فیصلہ آجانے سے قبل مند ر بنانے کا اعلان کرنا عدالت کی توہین ہے جس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔مشترکہ عرضداشت میں عدالت کو متنبہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر مقدمہ کی سماعت شروع ہوگئی اورکسی بھی فریق کے حق میں فیصلہ آیا تو فرقہ وارانہ فسادات رونما ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے فسادات میں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں تھی لہذا عدالت کو ان باتوں کے مد نظر معاملے کی سماعت فوری طور پر ملتوی کردینا چاہئے تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مدعہ پر سیاست نہ کرے۔

خیال رہے کہ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹ ؁ء کی شب میں بابری مسجد میں مبینہ طور پر رام للا کے ظہور کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو سی آر پی سی کی دفعہ ۱۴۵؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر احمد فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں سب سے پہلے عرضداشت داخل کی تھی ۔اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند اول دن سے فریق ہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد دائر مقدمہ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نچلی عدالت میں فریق بنے تھے پھر ان کے انتقال کے بعد حافظ محمد صدیق (جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش) فریق بنے لیکن دوران سماعت ان کی رحلت کے بعد صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اشہد رشیدی فریق بنے جو عدالت عظمی میں زیر سماعت اپیل میں بطور فریق ہیں ۔صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ جس میں ا س نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا کہ خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا پھر اس کے بعد دیگر مسلم تنظیموں نے بطور فریق اپنی عرضداشتیں داخل کی تھیں۔الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل اپیل میں سب سے پہلا مدعہ جمعیۃ نے یہ اٹھایا کہ جب کسی بھی فریق (ہندو اور مسلم)نے بابری مسجد ملکیت کو مختلف حصوں میں بانٹنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا تو عدالت نے ایسا فیصلہ کیوں دیا ؟ جمعیۃ علماء نے اپنی عرضداشت میں یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا الہ آباد ہائی کورٹ نے تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش کی ہے بابری مسجد کا فیصلہ صادر کرکے نیز اس نے سال ۱۵۲۸ سے لیکر ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ ء تک کے ثبوتوں کو کنارے رکھتے ہوئے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کردیا جو اسے نا منظور ہے۔ جمعیۃ علماء کی جانب سے داخل اپیل میں تاریخوں کے حوالے سے بتایا گیا ہیکہ سن ۱۵۳۱ ؍ میں بابر کا انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد رام چریتا مناس نامی کتاب مشہور سادھو تلسی داس نے ۱۵۷۵ میں لکھی جس میں ایودھیا میں رام کا جنم، رام مندر کو توڑ کر بابری مسجد تعمیر کرنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

ڈیزل-پیٹرول کی قیمتیں اب تک کی سب سے زیادہ

ڈیزل اور پیٹرول کی لگاتار قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اب وہ اب تک کی سب سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ کانگریس نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمت پانچ سال میں سب سے اونچی سطح تک پہنچنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو ایندھن سے ہونے والی کمائی کا استعمال الیکشن جیتنے اور حکومتیں بنانے کے ...

2019 کے لیے اپوزیشن کی ورزش شروع، بہار میں بہار لیکن یوپی ڈالے گا پی ایم مودی کی راہ میں روڑا

کرناٹک میں55گھنٹے سے بھی زیادہ چلے سیاسی ڈرامہ کے بعد آخر کار یدورپا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیناپڑا۔اب کانگریس کی حمایت سے جے ڈی ایس کی حکومت بنے گی اور کمارسوامی وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھیں گے۔

راجناتھ کا ہیلی کاپٹر اتارنے کے لیے پہلے 26گھنٹے کے لیے کاٹی گئی بجلی، ہنگامے کے بعدسپلائی بحال

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کرنے کے لیے ستنا کے مقامی انتظامیہ نے تقریباََ20دیہات کی بجلی 26گھنٹے کے لیے کاٹ دی۔ستنا میں اس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے اور وہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت42ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

اداکار پرکاش راج نے پی ایم مودی پر کسا طنز،56 انچ بھول جائیے، 55گھنٹے بھی نہیں سنبھالاجاسکا کرناٹک 

کرناٹک میں محض ڈھائی دن پرانی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حکومت ہفتہ (19 مئی)کی شام گر گئی۔وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے یقین نہ کا سامنا کئے بغیر ہی اسمبلی ٹیبل پر اپنے استعفی کا اعلان کر دیا۔