داعش مقدمہ،اورنگ آباد اور ممبرا سے گرفتار مسلم نوجوانوں کو 14؍ دن کی پولس تحویل، جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے قانونی امداد فراہم کی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th January 2019, 11:20 AM | ملکی خبریں |

ممبئی 24؍ جنوری(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) مہاراشٹر کے اورنگ آباد اور ممبئی سے قریب مسلم آبادی والے ممبرا سے گرفتار9؍ مسلم نوجوانوں کو آج اورنگ آباد کی خصوصی یو اے پی اے عدالت نے14؍ دنوں کے لیئے پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے نیز اس معاملے میں گرفتار کم سن ملزم کو جوئنائل جسٹس ہوم میں بھیج دیا گیا۔


اس معاملے میں گرفتار ملزمین محسن، مظہر، محمد تقی، محمد سرفراز عثمانی، جمال نواب کو بروقت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج تمام ملزمین کو یو اے پی اے عدالت کے جج چودھری نے مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس)کی جانب سے گرفتار ملزمین کو ۱۴؍ دنوں کی پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ اے ٹی ایس نے ملزمین پر الزام عائد کیا کہ وہ ممنو ع تنظیم داعش کے ہم خیال ہیں اور وہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے ہیں ۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے ملزمین کے دفاع میں اپنا وکالت نامہ عدالت میں داخل کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف لگائی گئی دفعات پر اعتراض کیا اور عدالت کو بتایا کہ یو اے پی اے قانون کی جن دفعات کا اطلاق کیا گیا وہ غیرآئینی ہیں۔

اسی درمیان ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے عدالت سے ملزمین کے میڈیکل چیک اپ کیئے جانے اورانہیں دوران تحویل وکلاء اور ملزمین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔

داعش کے ہم خیال ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی گرفتاری پر اپنے رد عمل کا اظہا کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزا ر اعظمی نے کہا کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن جس طرح کی کہانی اے ٹی ایس نے بنا کر پیش کی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ ملزمین کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملزمین کے دفاع میں جمعیۃعلماء نے ایڈوکیٹ خضر پٹیل کی سربراہی میں وکلاء کی ایک ٹیم تیار کی ہے جو معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے نیز دہشت گردانہ معاملات کے تجربہ کار وکلاء (ممبئی و دہلی) سے بھی صلاح و مشورہ کیا جارہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔