ایران میں فوجی پریڈ پر حملہ، آٹھ فوجی اہلکار ہلاک مبینہ ’تکفیری گروہ ‘ کے ملوث ہونے کا شبہ

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 22nd September 2018, 11:53 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

تہران 22ستمبر ( آئی این ایس انڈیا؍ ایس او نیوز)  ایران کے  جنوب مغربی شہرا ہواز میں ایک فوجی پریڈ کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم از کم آٹھ فوجی اہلکار ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سالانہ پریڈ 1980سے 1988تک ہونے والی ایران عراق جنگ کے آغاز کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقد  کی گئی تھی جس کے دوران نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق حملہ آوروں نے اس چبوترے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جہاں اعلیٰ حکام فوجی پریڈ کے معائنے کے لیے موجود تھے۔غیر سرکاری خبر رساں ادارے 'مہر' کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے جن کا تعاقب میں آنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بعض مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

حکام نے تاحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی درست تعداد نہیں بتائی ہے لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جائے واقعہ سے کم از کم دو درجن زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں مبینہ تکفیری عناصر ملوث ہیں۔ واضح ہو کہ ایران کی حکومت’ تکفیریcase دہشت گرد‘کی اصطلاح ملک میں سرگرم مبینہ’ سنی شدت پسندوں‘ کے لیے استعمال کرتی ہے۔واضح رہے کہ اہواز شہر عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبے خوزستان کا دارالحکومت ہے جہاں عربوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اہواز ماضی میں ایران کی عرب اقلیت کے مظاہروں کا مرکز بھی رہا ہے۔ایرانی فوج 'پاسدارانِ انقلاب' کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے 'اسنا' کے ساتھ گفتگو میں حملے کا الزام عرب قوم پرستوں پر عائد کیا ہے جنہیں ترجمان کے بقول سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ایران عراق جنگ کے آغاز کی سالگرہ کی مناسبت سے ہفتے کو دارالحکومت تہران سمیت کئی اور شہروں میں بھی فوجی پریڈز منعقد کی جارہی ہیں۔ اہواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والی تقریبات کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید تعزیرات عائد

امریکہ نے منگل کے روز ایرانی کاروباری اداروں کے ایک نیٹ ورک پر تعزیرات عائد کی ہیں، جس کے لیے اس کا کہنا ہے کہ یہ فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایرانی فورس کی مدد کرتے ہیں، جو نیٹ ورک مبینہ طور پر ایران کے طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب میں بھرتی کرنے کے لیے کم عمر سپاہیوں کو تربیت فراہم ...

داعش کے ہاتھوں اغوا130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر "البحرہ" پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حج 2019 : بحری جہاز سے سفر ممکن : مختار عباس نقوی

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور او رحج مختار عباس نقوی نے حج 2019 کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ سیزن میں بحری جہاز سے بھی سفر ممکن ہوگا ۔انہوں نے اس موقع پر حج ہاؤس کے صدر دفتر کی فلک بوس عمارت پر قومی پرچم لہرایا جو کہ زمین سے 350فٹ کی بلندی پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی جی ایس ٹی ...

اجودھیا تنازع : عدالت کے باہر اگر کوئی قانون بنے گا تو اس کو مسلمان نہیں کرے گا تسلیم : اقبال انصاری

ناگپور میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے جمعرات کو رام مندر کے معاملہ پر دئے گئے بیان پر مختلف فریقوں کا رد عمل سامنے آرہا ہے ۔ جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے موہن بھاگوت کے بیان کو سیاسی قرار دیا ہے ،

بیلتھنگڈی: گاڑی میں غیر قانونی دھماکہ خیز مادہ لے جانے والے سے رشوت لینے کے الزام میں 2پولیس اہلکار معطل

پونجلا کٹّے پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک اے ایس آئی لکشمن اور ہیڈکانسٹیبل ابراہیم کو اس الزام کے تحت معطل کردیا گیا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر موٹر بائک میں دھماکہ خیز اشیاء لے جانے والے چنّا سوامی سے 24ستمبر کو رشوت لی تھی۔

اُترکنڑا میں زائد پرائمری ٹیچروں کا تبادلہ؛ اردو اسکولوں کے ساتھ ناانصافی۔نارتھ کینرا مسلم یونائیٹد فورم کو تشویش

محکمہ تعلیمات کی طرف سے پرائمری اسکولوں میں جہاں طلبہ کی تعداد مقررہ معیارسے کم ہے وہاں سے زائد ٹیچروں کا تبادلہ کرنے کی جو پالیسی اپنائی ہے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نارتھ کینرا مسلم یونائٹیڈ فورم کے جنرل سکریٹری جناب محسن قاضی نے کہا ہے اس سے اردو اسکولوں کے ساتھ بڑی ...