کمٹہ میں مسافر بس اور لاری کے درمیان بھیانک تصادم : کم از کم 3ہلاک ،15زخمی ۔۔ (مزید آپڈیٹ کے ساتھ)

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 7th July 2018, 6:00 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کمٹہ :7/ جولائی (ایس او نیوز) تعلقہ کی قومی شاہراہ 66پر بس اور لاری کے درمیان ہوئے  بھیانک سڑک حادثے میں جائے وقوع پر ہی  دو لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر موصول ہوئی ہے ، جبکہ ایک شخص اسپتال میں پہنچنے کے بعد دم توڑنے کی خبر ملی ہے۔ حادثے میں دیگر 15 لوگوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد اُڈپی پرائیویٹ اسپتال روانہ کیا گیا ہے۔

حادثہ  سنیچر شام قریب پانچ  بجے کمٹہ قومی شاہراہ 66 پر پیش آیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہسکام گریڈ کے لئے استعمال کئے جانےوالےلوہے کے  بڑے  کھمبے کولے جانے والی لاری نے  مسافر بس کو سامنے سے ایسی ٹکر دی کہ بس کے ایک حصے کے پرخچے اُڑ گئے۔ اُس سائیڈ پر بیٹھے ہوئے دو لوگوں کی موقع پر ہی موت ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دیگر مسافرشدید زخمی ہوگئے۔ جنہیں مقامی لوگوں نے فوری طور پر کمٹہ سرکاری اسپتال منتقل کیا۔ البتہ پولس ذرائع نے صرف دو لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ دیگر 16 لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ 

ذرائع نے بتایا ہے کہ کچھ زخمیوں  کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔پولس نے بتایا کہ  بس کمٹہ سے گوکرن جارہی تھی، جبکہ لاری پر لادا گیا ایک بڑا کھمبا جو لاری کے سائز سے کافی چوڑا  تھا، اُس کا بڑا حصہ لاری سے باہر تھا۔ سمجھا جارہا ہے کہ بس ڈرائیو نے لاری کے باہر موجود  کھمبے کو موسلادھار بارش کی وجہ سے نہیں دیکھ پایا اور اُسی کھمبے سے ٹکرا گیا۔ ٹکر لگتے ہی کھمبا بس کے اندر گھس گیا اور بس آگے بڑھتی چلی گئی، جس سے بس کا ایک حصہ پوری طرح  تباہ ہوگیا اور بس کے  اُس کنارے پر بیٹھے ہوئے مسافر حادثے کی زدمیں آگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون کی شناخت ششی کلا ایشور ہری کنترا (60) اور ایک شخص کی شناخت وینکٹیش گنپتی گُنگا (45) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ایک اور شخص کی شناخت ہونی ابھی باقی ہے۔

حادثے کے فوری بعد نیشنل ہائی وے پر ٹریفک نظام کچھ دیر کے لئے رُک گیا، پولس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی اور قریب ایک گھنٹے  کی مشقت کے بعد  ہائی وے کو سواریوں کے لئے کھول دیا گیا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل سب ڈیویژن کے  ڈی وائی ایس پی  ویلنٹائن ڈیسوزا  بھٹکل سے جائے وقوع کے لئے  روانہ ہوگئے۔

کمٹہ پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل انجمن پی یوکالج طلبا ٹیم کی کھیل  کے میدان میں شہنشائیت جاری : تیراکی میں 14 اور کراٹے میں 3گولڈ سمیت کئی تمغے انجمن کے نام

انجمن پی یوکالج بھٹکل کی کھلاڑیوں کی شاندار پرفارمنس جاری ہے۔ کبڈی اور فٹ بال میں ضلع سطح پر چمپئین بننے کے بعد باسکٹ بال میں رنر اپ کا خطاب جیتا تو اب ضلع لیول کے تیراکی (سوئمنگ )میں 14گولڈ ،09سلور اور 01برانج میڈل جیتا ہے تو کراٹے میں 3گولڈ اور 2سلور میڈل جیت کر کھیل کے میدان میں ...

بھٹکل انجمن پی یوکالج  فٹ بال ٹورنامنٹ میں چمپئین تو باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں رنر اپ

تعلیمات عامہ اترکنڑا ضلع اور وائی ٹی ایس ایس کالج یلاپور کے اشتراک سے مالادیوی کھیل میدان کاروار میں منعقدہ ضلع لیول فٹ بال ٹورنامنٹ میں چمپئین شپ کاخطاب جیتاہے تو اسی طرح منڈگوڈ کے لویالا کالج میں منعقدہ ضلع سطح کے باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں انر اپ کا خطاب جیت کر کالج اور شہر کا ...

موڈبیدری:پرشانت پجاری قتل کیس کے ملزم پرحملہ۔ زخمی خطرے سے باہر

ہندوتووادی کارکن اور پھولوں کے تاجر پرشانت پجاری کے قتل میں ملزم بنائے گئے امتیاز نامی شخص پر گنٹل کٹّے قریب صبح 5.30بجے موٹر بائک سواروں نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے امتیاز کو زخمی حالت میں منگلورو کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امتیاز پر جان لیوا ...

دہلی بن گیا حادثوں کا شہر؛ سڑک حادثوں میں جنوری سے اب تک998 لوگوں نے گنوائیں جان

راجدھانی میں رفتار کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دہلی میں سڑک حادثوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دہلی کی سڑکیں کتنی جان لیوا ثابت ہورہی ہیں، یہ ان اعدادوشمار کو دیکھنے کے بعد صاف پتہ چلتا ہے۔

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔پٹرول 17 پیسے اور ڈیزل 10 پیسے مہنگا ہوا ہے۔اضافے کے بعد راجدھانی دہلی میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 82.61 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔وہیں ڈیزل 73.97 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ راجدھانی دہلی میں کل پٹرول 82.44 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 73.87 روپے فی لیٹر ...

روپے کی قدر میں گراوٹ:سستاحج کرانے کادعویٰ بھی فرضی؟ حجاج کرام پر بوجھ میں اضافہ ،مزید پیسے وصولے جاسکتے ہیں

سرکارایک طرف دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے اس بارسستاحج کرایاہے ۔لیکن اب روپیے کی گراوٹ کی وجہ سے پھرحاجیوں سے وصولی کی جائے گی ۔عالمی بازار میں ڈالر کے مقابلے ہندوستانی کرنسی کی قدر میں ہورہی گراوٹ کی وجہ سے اب حجاج کرام پر مزید بوجھ پڑنے والاہے۔