سربراہ کی توہین:ایس پی ۔بی ایس پی اراکین کا ہنگامہ جاری، کارروائی ملتوی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2019, 12:59 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،14؍فروری(ایس او نیوز؍یواین آئی) سماج وادی سربراہ اکھلیش یادو کے پریاگ راج روانگی سے عین قبل لکھنؤ ائیرپورٹ پر روکنے کا معاملہ دوسرے دن بھی اترپردیش کے دونوں ایوانوں کی کارروائی پر بھاری پڑا۔ اور ایس پی ۔بی ایس پی اراکین نے اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جم کر ہنگامہ کیا۔

چہارشنبہ کو اسمبلی میں وقفہ سوال پوری طرح سے متاثر رہا جبکہ بجٹ پرایس پی۔بی ایس پی اراکین کے ہنگامہ کی وجہ سے بحث نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن اراکین نے ہم آواز ہوکر پورے معاملے کی جانچ ہائی کورٹ جج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا تاہم حکومت نے اسے نامنظور کردیا۔ملحوظ رہے کہ منگل کے دن مسٹر یادوکو موجودہ حکومت کے حکم کی بنیاد پر پریاگ راج جانے سے روک دیا گیا تھا۔

ایس پی سربراہ الہ آباد یونیورسٹی میں طلبا یونین کی جانب سے منعقد ایک تقریب میں شرکت کرنے جارہے تھے لیکن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے نظم و نسق کے بگڑنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ائیرپورٹ پر ہی روک دیا تھا۔ جس پر ایس پی نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور احتجاج کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری رہا۔قانون ساز اسمبلی میں اس وقت حالات بے قابو ہوگئے جبکہ کانگریس رکن دیپک سنگھ نے کہا کہ جب ایک تڑی پار کو چہارشنبہ کے دن پریاگ راج آنے کی اجازت دی گئی تو اکھلیش کو کس بنیاد پر روکا گیا؟۔ دیپک سنگھ کے اس بیان پر ٹریزری بنچ کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے کو ملا جسے دیکھتے ہوئے چیرمین نے اسمبلی کو ملتوی کردیا۔

وہیں دوسری جانب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین اکھلیش یادو کو روکے جانے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایس پی۔بی ایس پی اراکین صبح سے ہی مسلسل سراپا احتجاج رہے ۔ پہلے اسمبلی کو12:20 بجے تک ملتوی کیا گیا اس کے بعد اسپیکر نارائن دکشت نے اراکین کوبحث کے لئے مدعو کیا۔ایس پی رکن اسمبلی نریندر ورما نے دعویٰ کیا کہ یادو اپنے تبدیل شدہ پروگرام کے تحت اکھاڑا پریشد کی جانب سے منعقد پروگرام میں شرکت کے لئے پریاگ راج جارہے تھے لیکن جونیئر افسر نے انہیں لکھنؤ ائیر پورٹ پر روک دیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ایس پی لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف فرضی مقدمے درج کئے ہیں جو پرامن طریقے سے حکومت کے غیر جمہوری رویہ کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔منگل کو پریاگ راج میں موجودایس پی رکن اسمبلی سنگرام سنگھ نے کہا کہ یادو کو روکنے کے خلاف ایس پی لیڈر اورر کارکن پر امن احتجا ج کررہے تھے لیکن پولیس نے اس میں بلا وجہ دخل اندازی کی جس کی وجہ سے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔انہوں نے پورے معاملے کی جانچ ایک ہائی کورٹ جج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ کیا۔اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر سریش کمار کھنا نے کہا کہ یادو کے پریاگ راج دورے کا خاص مقصد’’تشدد‘‘کو ہوا دینا تھا اور اسی وجہ سے ان کو لکھنؤ میں روکا گیا۔انہوں نے ایس پی اراکین کے بیانات میں کھلے تضادات کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ لوگ دعویٰ کررہے تھے کہ اکھلیش الہ آباد یونیورسٹی میں طلبا یونین کی جانب سے منعقد پروگرام میں شرکت کے لئے جارہے تھے اور اب کہہ رہے ہیں کہ وہ اکھاڑا پریشد کی جانب سے منعقد تقریب میں شرکت کرنے کے لئے جارہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی اراکین کے اس طرح کے بدلتے ہوئے بیانات حکومت کے الزامات اور ایس پی سربراہ کے مقاصد کی تصدیق کرتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات 2019: مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی نارائن رانے کا دعوی، اکیلے لڑیں گے عام انتخابات

لوک سبھا انتخابات میں چند ماہ کا وقت رہ گیا ہے، اور اتحاد کا بننا۔ٹوٹنا اس وقت عروج پر ہے۔ایک طرف پورا اپوزیشن وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے،