انٹرپول کے سربراہ کی گم شدگی پر چین سے وضاحت طلب

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 7th October 2018, 9:09 PM | عالمی خبریں |

پیرس7اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) فرانس نے انٹرپول کے چینی سربراہ مینگ ہونگ وائی کی چین میں گمشدگی کے بعد بیجنگ سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق 64 سالہ مینگ کو چین میں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان سے کس قسم کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے، یا یہ کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔گمشدگی کی تحقیقات میں شامل ایک اہلکار نے بتایا کہ ’وہ فرانس میں غائب نہیں ہوئے ہیں‘۔فرانسیسی تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب مینگ کی اہلیہ نے پولیس کو اپنے خاوند کی گمشدگی کے بارے میں بتایا۔پولیس ذرائع کے مطابق ان کا اپنے خاوند سے 29 ستمبر کے بعد سے رابطہ نہیں ہوا۔تاہم بعد میں فرانس کی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ آخری رابطے کی اصل تاریخ 25 ستمبر ہے۔ وزارت کے مطابق 'چینی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ فرانس انٹرپول کے صدر کی گمشدگی پر حیران ہے اور اسے ان کی اہلیہ کو دی جانے والی دھمکیوں پر تشویش ہے۔ ’مینگ ہونگ وائی کی گمشدگی اسی نوعیت کی ہے جس طرح چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سینئیر ارکان غائب ہوتے رہے ہیں۔ کوئی رکن اچانک غائب ہو جاتا ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہے۔’بعد میں پارٹی ایک مختصر بیان جاری کرتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہلکار 'زیرِ تفتیش' ہے۔ اس کے بعد اسے 'نظم و ضبط کی خلاف ورزی' کی پاداش میں پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے اور آخر میں جیل کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ شی جن پنگ کے 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک دسیوں لاکھ چینی حکام کو کسی نہ کسی قسم کی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے‘۔ایک بیان میں انٹرپول نے کہا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کی گمشدگی سے باخبر ہے۔ 'یہ معاملہ فرانس اور چین کے متعلقہ حکام کے درمیان ہے۔انٹرپول نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے روزمرہ معاملات ادارے کے جنرل سیکریٹری دیکھتے ہیں، نہ کہ صدر۔مینگ کا انصاف فراہم کرنے والے اداروں میں کام کرنے کا 40 سالہ تجربہ ہے۔انٹرپول کسی شخص کی گرفتاری کے لیے 'ریڈ نوٹس' جاری کر سکتی ہے، تاہم اس کے پاس کسی ملک میں جا کر افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...