پاکستان میں آسیہ بی بی کے شوہر کی امریکی صدر ٹرمپ سے مدد کرنے اور پناہ دینے کی اپیل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 5th November 2018, 4:14 AM | عالمی خبریں |

اسلام آباد4نومبر(آئی این ایس انڈیا)  پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمے میں کئی برسوں سے جیل میں بند اور حال ہی میں ملکی سپریم کورٹ کی طرف سے بری کردی جانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے امریکی صدرڈونالڈٹرمپ سے مدد کرنے اور پناہ دینے کی اپیل کی  ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے اتوار 4 نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق آسیہ بی بی، جنہیں سن 2010 میں سنائی جانے والی سزائے موت بدھ 31 اکتوبر کے روز پاکستانی سپریم کورٹ نے منسوخ کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا، ابھی تک جیل میں ہیں اور اپنی رہائی سے متعلق سرکاری دستاویزی کارروائی مکمل ہونے کے انتظار میں ہیں۔

آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے کل ہفتہ 3  نومبر کے روز ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اپنی، اپنے اہل خانہ اور خاص طورپر جیل میں بند اپنی اہلیہ کی سلامتی کے بارے میں گہری تشویش لاحق ہے۔انہوں نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہاتھاکہ آسیہ بی بی پر جیل میں بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔اب اسی سلسلے میں روئٹرز نے لکھا ہے کہ عاشق مسیح نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ آسیہ بی بی اور ان کے اہلِ خانہ کی پاکستان سے رخصتی میں مدد کریں اور اس اقلیتی جوڑے اور اس کے خاندان کو امریکا میں پناہ دی جائے۔

روئٹرز نے لکھا ہے کہ عاشق مسیح نے امریکی صدر کے علاوہ برطانیہ اور  کینیڈا کے وزرائے ا عظم سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی ان کی اور ان کے خاندان کی مدد کریں۔ برطانیہ میں پاکستانی مسیحیوں کی تنظیم برٹش پاکستانی کرسچین ایسوسی ایشن کی طرف سے ریکارڈ کیے گئے عاشق مسیح کے ایک ویڈیو پیغام میں، جسے روئٹرز کے نامہ نگار نے خود بھی دیکھا، آسیہ بی بی کے شوہر نے کہا ہے، ’’میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان سے رخصتی میں ہماری مددکریں۔‘‘اس ویڈیو میں عاشق مسیح نے مزید کہا ہے، ’’میں برطانیہ کی وزیر اعظم اور کینیڈا کے وزیر اعظم سے بھی یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی ہماری مدد کریں۔‘‘

اس ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے اپنے بھائی جوزف ندیم کے لیے بھی پاکستان سے رخصتی اور بیرون ملک پناہ کے حصول میں مدد کی اپیل کی ہے۔ جوزف ندیم نے بھی آسیہ بی بی کی گرفتاری کے بعد اپنی بھابھی کا مقدمہ لڑنے میں عملی طورپر اپنے بھائی عاشق مسیح کی بھرپور مدد کی تھی اور عاشق مسیح کے مطابق جوزف ندیم کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔روئٹرز کے مطابق اس ویڈیو اور اس میں دیے گئے پیغام کے بارے میں جب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور برطانیہ اور کینیڈا کے ہائی کمشنوں سے رابطہ کیا گیا، تو ان کی طرف سے کوئی بھی رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

کل ہفتے کے روز آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک بھی یہ کہتے ہوئے پاکستان سے بیرون ملک چلے گئے تھے کہ انہیں جان سے مار دیے جانے کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ سیف الملوک کے مطابق انہیں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سلامتی سے متعلق گہری تشویش لاحق تھی اور وہ کسی مشتعل ہجوم کا نشانہ بننے سے قبل اپنی جان بچانے کے لیے بیرون ملک جا رہے تھے۔آسیہ بی بی کے لیے سزائے موت کے گزشتہ عدالتی حکم کی منسوخی اور ان کی رہائی کے ملکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد پاکستان میں اسلام پسند حلقوں کی طرف سے پر تشدد مظاہرے شروع کر دیے گئے تھے، جن میں کئی شہروں اور قصبوں میں بہت سی نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ان مظاہرین میں انتہائی دائیں بازوکی مسلم مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے کارکن نمایاں تھے۔ ان مظاہرین کے مطابق آسیہ بی بی کی رہائی کا عدالتی فیصلہ ’غلط‘ ہے اور اس خاتون کو ’سزا دی جانی چاہیے‘۔یہ پرتشدد مظاہرے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے مابین ایک سمجھوتے کے بعد ختم ہوئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ میں بھارتی طلباء کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ

 بین الاقوامی تعلیمی ایکسچینج سے متعلق آج جاری اوپن ڈورس رپورٹ  2018  کے مطابق، گزشتہ سال میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد 5.4 فیصد بڑھکر 196،271 ہو گئی۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ ...

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔