نیویارک کے مرکزی علاقے میں زیر زمین بھاپ پائپ لائن پھٹنے سے دھماکے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st July 2018, 12:21 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن21جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )نیویارک شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کی گلیوں میں زیر زمین گزرنے والا ایک ہائی پریشر بھاپ کا پائپ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ففتھ ایونیو کے مرکز میں واقع ایک سوراخ سے بھاپ نکل کر ہوا میں پھیلنا شروع ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عہدے داروں کا کہنا تھا کہ ہونے والے اس دھماکے سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔اطلاعات کے مطابق احتیاطی تدابیر کے پیش نظر حادثے کے مقام کیارد گرد کی گلیاں بند کر دی گئیں۔

مقامی میڈیا نے ایک گلی کے وسط میں بڑے سوراخ کی فوٹیج دکھائی ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے علاقے میں ایک اور مین ہول میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔دھماکے کے مقام پر ہنگامی سروسز کے اہل کار ملبہ صاف کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دھماکوں کا اصل سبب کیا ہے۔ یہ دھماکہ گیارہ سال پہلے گرینڈ سنٹرل اسٹیشن کے قریب اسی نوعیت کے دھماکوں کے بعد ہوا ہے۔18 جولائی سن 2007 میں ٹرین اسٹیشن کے قریب 83 سال پرانا ایک زیر زمین بھاپ کا پائپ پھٹنے سے ملبے کے ٹکڑے 40 منزلہ عمارت تک ہوا میں بلند ہوئے تھے اور علاقے میں گارے کا مینہ برسنا شروع ہو گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں: جو بائیڈن

"امریکہ میں جمہوریت جیت گئی ہے اور امریکی عوام کی آواز سنی گئی ہے۔ یہ امریکہ کا دن ہے۔ یہ جمہوریت کا دن ہے۔ ایک تاریخ ساز اور امید کا دن، تجدید اور مسمم ارادے کا دن۔ جمہوریت قیمتی ہے اور حفاظت طلب بھی۔‘‘

بائیڈن وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ، ایرانی جوہری پروگرام پر قدغن بڑھانے کا عزم

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن کی بہ طور صدر حلف برداری کے بعد وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ میں اہم امور پر حکومتی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے۔ وائٹ ہائوس کی ترجمان جین بساکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایرانی جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عاید کرے گی۔

متنازع ٹویٹ پرامریکا میں چینی سفارت خانے کا 'ٹویٹر اکائونٹ' بلاک

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' نے ایک متنازع 'ٹویٹ' کی وجہ سے امریکا میں چینی سفارت خانے کا ٹیوٹر اکائونٹ بلاک کردیا۔ اس ٹویٹ میں چینی سفارت خانے کی طرف سے چین کے مسلم اکثریتی صوبے'سنکیانگ' میں بیجنگ کی پالیسیوں‌ کا دفاع کیا گیا تھا۔