کیجریوال کا دھرنا جاری، کر رہے ہیں لیفٹیننٹ گورنر سے ملنے کا انتظار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2018, 12:09 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کی کابینہ کے ساتھی اپنے مطالبات کو لے کر رات بھر لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں بیٹھے رہے۔اپنے مطالبات پر زور دینے کے لئے وزیر صحت ستیندر جین نے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔کیجریوال اور ان کے وزراء نے آئی اے ایس افسران کوہڑتال ختم کرنے کی ہدایت دینے اور چار ماہ سے کام کاج روک کر رکھے افسران کے خلاف کارروائی کرنے سمیت تین مطالبات رکھی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے دفتر میں موجود کیجریوال نے ٹویٹ کیا، ستیندر جین نے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔جین نے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر پر دوپہر 11بجے سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔کیجریوال، نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور دو دیگر وزیر گوپال رائے اور ستیندر جین نے کل شام ساڑھے پانچ بجے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے ملاقات کی اور اس کے بعد سے وہ لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں بیٹھے ہیں۔آپ کے لیڈر اور کارکن کل رات سے لیفٹیننٹ گورنرکے دفتر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہاں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ کئی آپ ممبران اسمبلی اور کارکنوں نے بھی گورنر کے دفتر کے باہر ڈیرہ ڈال دیا۔ پولیس نے وہاں بیریکیڈ لگا دیئے۔دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعلی اور تین دیگر وزیر 18 گھنٹے سے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے انتظار کے کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔لیکن لیفٹیننٹ گورنراپنے اس فیصلے پر اڑے ہوئے ہیں کہ نہ تو حکام کی ہڑتال واپس لینے کا حکم دیں گے اور نہ راشن گھر گھر پہنچانے کی منصوبہ بندی کی فائل کی منظوری دیں گے۔بہرحال لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر نے دھرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وجہ دھرنے کی سیریز میں ایک اور کارکردگی ہے۔بیجل کے دفتر سے کل شام جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو تنگ آگیاتھا۔کیجریوال، سسودیا،رائے اور جین کے دستخط والا ایک خط صبح بیجل کو بھیجا گیا جس میں ان سے آئی اے ایس افسران کی ہڑتال کو ختم کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔اس میں ان تمام حکام کو تحریری حکم جاری کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے جو اگر کام پر نہیں لوٹے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اگر ضرورت پڑی تو ان پر ایسما بھی لگایاجا سکتا ہے۔چیف سکریٹری انشو پرکاش سے مبینہ مارپیٹ کے بعد سے آئی اے ایس افسر ہڑتال پر ہیں اور وہ آپ وزراء کے ساتھ ملاقاتوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جس سے سرکاری کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔حالانکہ حکام کے ایک تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ کوئی بھی افسر ہڑتال پر نہیں ہے اور کسی کام پر اثر نہیں پڑا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

گجرات کیس:مودی اور امت شاہ کو بہار میں انتخابی مہم نہیں کرنے دیں گے: کانگریس 

گجرات معاملے کو لے کر بہار کی سیاسی فضا گرمائی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف بی جے پی، کانگریس پر بہار کے لوگوں کے خلاف ہوئے تشدد کے لئے ذمہ دار بتا رہی ہے، وہیں اب کانگریس نے اپنے تیور تیکھے کر دیئے ہیں۔