اے دل ہے مشکل: جمہوریت شکنی کی زدمیں  تحریر:نایاب حسن

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 24th October 2016, 5:28 PM | آپ کی آواز |

 

دنیاکی سب سے بڑ ی جمہوریت ہونے کے مدعی ہندوستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں سے مسلسل جوواقعات وحادثات رونماہورہے ہیں،ان سے ساری دنیاوالوں کوپتاچل گیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کس درجے کی ہے اورہندوستانی عوام کا شعور،فہم وادراک کی قوت اور حقائق بینی ومعروضیت سے کتناناطہ ہے،افسوس ہے کہ جمہوری قدروں کوپامال کرنے والے سنگین وہلاکت ناک حالات کادائرہ ملک کے کسی ایک خطے تک محدودنہیں ہے؛بلکہ چاروں سمتوں میں پھیل چکاہے،اس سے بھی زیادہ افسوس کامقام یہ ہے کہ سب سے بڑی جمہوریت میں ننگِ جمہوریت حادثات سے نہ توعوامی طبقہ محفوظ رہاہے اورناہی جواہرلال نہرویونیورسٹی جیسی دانش گاہ،جس کی شناخت عالمی سطح پر اس کے لبرل شبیہ کی وجہ سے ہے۔دائیں بازوں کے طلبہ یونین کے غنڈوں کے ذریعے ایک طالب علم کوبغیرکسی جرم وگناہ کے محض اس وجہ سے ماراپیٹاجاتاہے کہ وہ مسلمان ہے اورپھر اسے غائب کردیاجاتاہے،جس کا دس دن گزرنے،طلبہ کی ایک جماعت کے احتجاجات کرنے اوراس گم شدہ طالب کی ماں اور بہن کی ہزارفریادوں کے باوجودکچھ پتہ نہیں لگ پاتا،اسی ضمن میں جھارکھنڈکا واقعہ بھی ہے،جس میں ایک مسلم نوجوان کوواٹس ایپ پر قابلِ اعتراض تصویر شیئرکرنے کے جرم میں پہلے شدت پسندہندووں کی ایک بھیڑپیٹتی ہے اوراس کے بعدپولیس والے اسے اپنی کسٹڈی میں لے جاکرماردیتے ہیں۔اس پرتعجب یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ہمارے ملک کی حکومت اوروزیر اعظم کوکوئی فرق نہیں پڑتا،آج کل تووہ اپنے ہرجلسے اورہر ریلی میں بس سرجیکل اسٹرائک کا راگ الاپتے اوراپنی پیٹھ تھپتھپاتے نظرآرہے ہیں،ملک کی اندرونی صورتِ حال کی خطرناکی سے انھیں کوئی لینادینانہیں ہے۔
اسی سلسلے کاایک اورواقعہ بھی کم افسوس ناک نہیں ہے،یہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ مہینے اڑی پر دہشت گردانہ حملے کے بعدسے جوہندوپاک کے باہمی تعلقات میں بگاڑآیاہے ،اس کے آثار مختلف سطحوں پر نمایاں ہوئے ہیں اوراب تک سامنے آرہے ہیں؛چنانچہ جہاں دونوں ملکوں کے مابین آمدورفت کے سلسلوں پر روک لگ چکی ہے،وہیں تجارتی تعلقات بھی سردپڑگئے ہیں اورسب سے زیادہ اورنمایاں اثر فلم انڈسٹری پر پڑاہے،پہلے ہندوستان میں پاکستانی اداکاروں کے کام کرنے پر روک لگانے کامطالبہ کیاگیا،خودپاکستان میں بھی تمام ہندوستانی چینلوں،فلمی نشریات پر پابندی لگادی گئی،دونوں ملکوں کے بہت سے اداکارچیخ چیخ کرپوچھتے رہے کہ بھئی ہماراقصورکیاہے؟مگردیش بھگتوں کے پاس صرف ایک جواب تھاکہ ہم یہ مطالبہ دیش بھگتی میں کررہے ہیں،ماضی میں بھی ایسے دسیوں واقعات رونماہوچکے ہیں جب کسی خاص وجہ سے کسی خاص فلم یا سرحدپارکے فلم اسٹارز کی مخالفت کی گئی، فلم کے پوسٹرجلائے گئے، ڈائریکٹراورپروڈیوسرکی ایسی کی تیسی کردینے کی دھمکیاں دی گئیں۔مجموعی طورپرپاکستانی اداکاروں پربین لگانے کافیصلہ پروڈیوسرزگلڈنے پہلے ہی لے لیاہے،البتہ کئی فلمیں ایسی تھیں ،جن کی شوٹنگ پہلے سے چل رہی تھی،مثلاً شاہ رخ اورماہرہ خان کی ’’رئیس‘‘،علی ظفر،شاہ رخ اورعالیہ بھٹ کی ’’ڈیئرزندگی‘‘ اورکرن جوہرکی ہدایت کاری میں رنبیرکپور،فوادخان،ایشوریہ رائے اورانوشکاشرماکی اداکاری والی فلم’’ اے دل ہے مشکل‘‘۔ابھی ’’رئیس‘‘ اور’’ڈیئرزندگی‘‘ کی ریلیزڈیٹ کچھ دورہے،البتہ اے دل ہے مشکل کواسی ماہ کی28؍تاریخ کوریلیزہوناتھا،سواس کے خلاف پورے مہاراشٹرمیں ہنگامۂ رستاخیزبرپاکردیاگیا،اِسی ماہ کے شروع میں کرن جوہراس وقت سرخیوں میں آئے تھے،جب انھوں نے پاکستانی اداکاروں پربین لگانے کے مطالبوں پر ردِعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاتھاکہ فنکاروں پربین لگانامسئلے کاحل نہیں ہے اورپاکستانی فنکارمحض فنکارہیں،وہ دہشت گردنہیں ہیں،اس پر شدت پسندہندووں کی جماعتوں نے ان کوجی بھرکربرابھلاکہاتھا،حتی کہ بہت سے دیش بھگت چینل والوں نے بھی ان کے بیان کامطلب یہ نکالاکہ وہ اڑی حملے میں مارے جانے والے فوجیوں کا’اپمان‘کررہے ہیں،اسی کے بعدسے ان کی آنے والی فلم’ ’اے دل ہے مشکل‘‘مشکل میں پھنس گئی اوراس کے خلاف مہاراشٹرنونرمان سیناکی طرف سے ہنگامہ آرائیاں شروع کردی گئیں،جوتیزہوتی گئیں،خودپارٹی سربراہ راج ٹھاکرے نے فلم کے خلاف احتجاج کرنے اورریلیزرکوانے کی دھمکی دی،تھیٹروالوں کوبھی ڈرایاجانے لگا،حالات ہنگامہ خیزہونے کا خطرہ بڑھنے لگا،اسی دوران ایک پروگرام میں شرکت کے لیے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ممبئی کا دورہ کیاتوفلم کے پروڈیوسرنے ان سے ملاقات کرکے صورتِ حال سے آگاہ کیا،جس پر وزیر داخلہ انھیں اطمینان دلایا اور لااینڈ آرڈرپرقابورکھنے کی یقین دہانی کرائی،مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ دیوندرفڑنویس نے بھی اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ فلم کے ریلیزہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی اورفسادپھیلانے والے عناصرکوبخشانہیں جائے گا،اس ضمن میں ایم این ایس کے کچھ شرپسندممبران کوپکڑکرجیل رسیدبھی کیاگیا۔
اس سب کے باوجود راج ٹھاکرے اینڈکمپنی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھی؛چنانچہ’’اے دل ہے مشکل‘‘کے ڈائریکٹر، پروڈیوسرزگلڈکے ذمے داران اور راج ٹھاکرے اوران کی پارٹی کے’فلمی ونگ‘کے مابین مذاکرات پراتفاق ہوااوراس میں ثالث وزیر اعلیٰ فڑنویس کوبنایاگیا، مذاکرات کی یہ مجلس ہفتہ کے دن وزیراعلیٰ کی رہایش گاہ پربرپاکی گئی،جس میں یہ طے پایاکہ فلم کے پروڈیوسرپاکستانی اداکارکوکاسٹ کرنے کے گناہ کے کفارے کے طورپرآرمی ویلفیئر فنڈ میں پانچ کروڑروپے جمع کرائیں گے،فلم شروع ہونے سے پہلے ایک سلائڈچلائی جائے گی،جس میں اڑی اٹیک میں مارے جانے والے فوجیوں کوخراجِ عقیدت پیش کیاجائے گااورساتھ ہی یہ لوگ یہ طے کریں کہ آیندہ اپنی کسی بھی فلم میں کسی بھی پاکستانی اداکاریااداکارہ سے کام نہ کروائیں۔’’اے دل ہے مشکل‘‘کے ڈائریکٹر،پروڈیوسرنے مشکل سے نکلنے کے لیے ان تمام شرطوں سے اتفاق کیاہے اوروہ پانچ کروڑروپے بھی جمع کریں گے،خراجِ عقیدت والی سلائڈبھی چلائیں گے اورساتھ ہی انھوں نے آیندہ پاکستانی اداکاروں کواپنی فلم میں شامل کرنے سے بھی توبہ کرلیاہے۔
یہ سب ہوجانے کے بعدراج ٹھاکرے بغلیں بجارہے ہیں،ان کوایسا لگتاہے کہ یہ ان کی فتح ہے،بی جے پی والے نہ جانے کس منہ سے اپنی پارٹی اور فڑنویس کو’شاباشیاں‘دے رہے ہیں،مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک دیوندرفڑنویس ایک نہایت ہی دوراندیش اور صاحبِ حکمت حکمراں ہے،جس نے صوبے میں لااینڈآرڈرکوکنٹرول میں رکھنے کے لیے اتنادانش مندانہ فیصلہ کیااوردونوں فریقوں کے مابین صلح صفائی ہوگئی؛حالاں کہ اپوزیشن والے کچھ اورکہہ رہے ہیں،کانگریس کاکہناہے کہ جب ایک فلم سینسربورڈ(جوکہ فلموں کی نگرانی اورریلیزنگ کے سلسلے میں بنایاگیاایک سرکاری ادارہ ہے)کے ذریعے سے پاس کردی گئی،تواب اسٹیٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ اسے ریلیزکرنے میں پیش آنے والی خارجی مشکلات کودورکرے اورپرامن طریقے سے اس کی ریلیزکویقینی بنائے ،مگر’’اے دل ہے مشکل‘‘کے سلسلے میں بی جے پی سرکارنے جوکام کیاہے،وہ نہایت ہی غیر ذمے دارانہ اورصوبے میں غنڈہ گردی کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے،کانگریس نے توفڑنویس کے استعفاکابھی مطالبہ کیاہے،پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹوئٹ کیاکہ یہ آنے والے بی ایم سی الیکشن کے سلسلے میں بی جے پی۔ایم این ایس کے درمیان ایک ڈیل ہے۔سی پی آئی اسے’’ہفتہ وصولی‘‘قراردے رہی ہے،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندکیجریوال نے بھی اس معاملے میں بی جے پی پر نشانہ سادھاہے،خودشیوسینانے بھی اس’’سیٹلمینٹ‘‘کی مخالفت کی ہے،اودھوٹھاکرے کاکہناہے کہ ہم ہمیشہ اور بلاشرط پاکستانی اداکاروں کی مخالفت کرتے ہیں،پانچ کروڑکے عوض پاکستانی اداکاروں کوموقع دینادیش بھگتی کے خلاف ہے اورمیں اس کی مذمت کرتاہوں۔
سیاسی دھماچوکڑیوں سے قطعِ نظرمعروضیت کے ساتھ اگراس معاملے کودیکھیں توایسالگتاہے کہ گویامہاراشٹرمیں حکومت دراصل سیاسی غنڈہ گردی کی ہے اور مذکورہ مذاکرہ یابات چیت اور اس میں وزیر اعلیٰ کی ثالثی بالکل بے معنیٰ ہے،راج ٹھاکرے کے سامنے وزیر اعلیٰ کی سبکی یابے بسی اور خودسپردگی کوبی جے پی والے دانش مندی اور حکمت کانام دے رہے ہیں،ان کے اس عمل سے معاملہ ٹھنڈانہیں ہواہے؛بلکہ سیاسی لپاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے،جووہ ابھی کررہے تھے،آیندہ اس سے بڑھ کر کریں گے،یہ مجموعی طورپرملک کی جمہور ی شناخت پرپڑنے والاایک نیادھبہ ہے،پہلے سے ہی کئی ایسے شرمناک واقعات رونماہوچکے ہیں،جن میںیہ واقعہ ایک اندوہ ناک اضافے سے کم نہیں ہے۔مرکزی وزیر داخلہ اور مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ نے فلم کی نشریات میں پیش آنے والے ممکنہ موانع کودورکرنے کی یقین دہانی کرائی تھی،توکیایہی طریقہ ان کے ذہن میں تھا؟اگرایساتھا،توخودفلم کے ہدایت کاروپروڈیوسربھی راج ٹھاکرے سے مل کراس قسم کاحل نکال سکتے تھے۔جاں بحق ہونے والے فوجیوں کے ورثاکی امدادایک قابلِ تحسین عمل ہے؛لیکن کیااس فنڈکے لیے اسی طرح پیسے اکٹھے کیے جائیں گے؟خودفوج کی طرف سے غیرت وخودداری اوراعلیٰ اخلاقی قدرکاثبوت دیتے ہوئے اس قسم کی وصولیوں کے ذریعے سے حاصل کی گئی رقم نہ لینے کی کی بات کہی گئی ہے۔کہاجاتاہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ادب،فن،آرٹ،ثقافت اور کلچرکاکوئی خاص ملک اور سرحدنہیں ہوتی،تہذیبی تبادلوں،اعلیٰ انسانی صلاحیتوں سے استفادوں سے ملکوں اور قوموں کی مجموعی تہذیبی شناخت،اخلاقی و فکری پیکرمیں حسن پیداہوتاہے،اگرسرحدپارکی دہشت گردی ہمارے ملکی امن میں خلل اندازہوتی ہے،تواس کے سدِباب کے لیے وہاں کے قابل انسان دوست فن کاروں،فن پاروںیاوہاں کی مفیدمصنوعات وغیرہ پربین کرنے کاحربہ اختیارکرناکہاں کی عقل مندی ہے،اس کے لیے تووہ مؤثراورسنجیدہ اقدامات کیے جانے چاہئیں،جوضروری ہیں اورجن کے ذریعے سے واقعتاً حالات بہترہوسکتے ہیں،اپنی سیاست چمکانے کے لیے غیر سیاسی شعبوں کوہتھکنڈے کے طورپراستعمال کرناہندوستان اورپاکستان دونوں ملکوں کے اربابِ سیاست کی دیرینہ روایت ہے،عوام کابھولاپن اورحدسے زیادہ سادگی بھی ایسے عناصرکوبڑھاوادیتی ہے،وہ اسی قسم کے اقدامات کو ملک کے تحفظ کاضامن سمجھ لیتے ہیں۔ویسے فلم’’اے دل ہے مشکل‘‘کی اصل اسکرپٹ جوبھی ہو،اس کے نام کے معنی خیزہونے کااحساس کرن جوہرکوبخوبی ہوگیا ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟

شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی ...

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...

زرخرید میڈیا .... از: مولانا آفتاب اظہر صدیقی

 آج کی صورت حال یہ ہے کہ بازار میں کچھ ہورہا ہے اور میڈیا کچھ اور دکھا رہا ہے، مظلوم کو ظالم، مقتول کو قاتل، محروم کو خوش بخت اور فقیر کو سرمایہ دار بنا کر پیش کرنا میڈیا کے لیے چٹکی کا کھیل ہوگیا ہے.

مسلم پرسنل لاء کو سمجھئے اور اس پر عمل کیجئے از: محمد ذکی اختر رحمانی

مجھے نہ اس وقت پرسنل لا کی تاریخ بیان کر نی ہے اور نہ اس کے آئینی اور قانونی پس منظر کو آپ کے سامنے پیش کر نا ہے نہ اس سے بحث کرنی ہے کہ مسلم پر سنل لا میں تر میم و تنسیخ کا حق کسی آئین ساز جماعت یا پارلیمنٹ کو ہے یا نہیں ؟۔