دہلی اور پوری سے گرفتار نوجوانوں کی آج دہلی کے پٹیالہ کورٹ میں پیشی، پانچ ملزمین کو پھرریمانڈ پر بھیجا گیا؛ ایڈوکیٹ نوراللہ نے کی ملزمین کی پیروی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th January 2019, 9:40 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی7جنوری(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز )  این آئی اے کی حالیہ چھاپہ ماری میں دہلی اور یوپی سے گرفتار مسلم نوجوانوں کو آج دہلی کے پٹیالہ کورٹ میں پیش کیا گیا ۔ جہاں جمعیۃ  علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر ملزمین کی طرف سے وکلاء موجودتھے۔ جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ایڈو کیٹ محمد نوراللہ نے بتایا کہ این آئی اے نے ایک بار پھر عدالت سے ان سبھی ملزموں کے لیے مزید ریمانڈ کا مطالبہ کیا  جس پر  ایڈیشنل سیشن جج راکیش سیال نے طرفین کے دلیلوں کی سماعت کے بعد مفتی سہیل اور ثاقب کے لیے مزید پانچ دن کے ریمانڈکی اجازت دی جبکہ  ملزم محمد زبیر ، انس اور زید کے لیے تین دنوں  کا ریمانڈعطا کیا ۔

عدالت نے ان کے علاوہ باقی پانچ ملزمین محمد ارشاد ، سعید،رئیس، ظفر اور اعظم کو جوڈیشل کسٹڈی میں تہاڑ بھیجنے کی ہدایت دی ۔

جمعیۃ  علماء ہند کے وکیل نے جرح کے دوران یہ سوال اٹھا یا کہ مزید ریمانڈدینے سے قبل گزشتہ دس یوم کے ریمانڈ کی تفصیل پیش کی جائے  جس پر این آئی اے نے تحریری طور پر  تفصیلات پیش کی ۔ ایڈوکیٹ محمد نوراللہ نے بتایا کہ عدالت نے ملزمین کو ان کے رشتہ داروں سے ملنے کی آج اجازت دی حالاں کہ این آئی اے کے وکلاء اجازت نہ دیے جانے پر مصر تھے ۔عدالت میں موجودرئیس ، سعید، ارشاد اورمفتی سہیل کے رشتہ داروں نے جمعیۃ  علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا شکریہ اداکیا جنھوں نے ان کی  درخواست کو قبول کرتے ہوئے قانونی امداد فراہم کی ہے ۔

واضح رہے کہ  جمعیۃ العلماء نے  اپنے بیان میں کہا تھا کہ  ان ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے  مولانا محمود مدنی نے  بتایا کہجمیعۃ   العلما ء  ہمیشہ سے یہ کہتی رہی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور افراد کو نشانہ نہ بنایا جائے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے