عرب لیگ نے ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے دیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 20th November 2017, 11:34 AM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

ریاض،20/نومبر(ایجنسی)عرب لیگ نے ایران کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے دیا، ایران کی جانب سے خطے کو لاحق خطرات تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سعودی عرب کی درخواست پر بلائے گئے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ ایران خطے خصوصاً سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاض ایئرپورٹ پر مارا جانے والا بیلسٹک میزائل ایرانی ساختہ تھا لہٰذا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور قومی سلامتی کے لیے کیے جانے والے سعودی عرب کے ہر اقدام کے ساتھ ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے یمن سے ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل حملے کے بعد عرب وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں ایران کی سرگرمیوں سے عرب دنیا کی سلامتی و امن کے معاملے پر غور کیا گیا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان عرب لیگ کے دو رکن ممالک لبنان کی سیاسی صورت حال اور قطر کے تنازعے کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔سعودی عرب نے یمن سے ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل حملے کے بعد عرب وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

تبدیلی کی صورت میں سعودی عرب سے بہتر تعلقات ممکن:حسن روحانی

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے آج نشر کی جانے والی اپنی تقریر میں کہا کہ اگر یمن پر بمباری کا سلسلہ ترک کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ اپنے مبینہ تعلقات کو ختم کر دے،