امریکی سفارت خانے کہ القدس منتقلی خطرناک پیش رفت ہے: عرب لیگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th May 2018, 12:33 PM | عالمی خبریں |

قاہرہ،15 مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)عرب لیگ کیسیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے ایک بیان امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو اس خطرناک اقدام کے حقیقی نتائج کا کوئی ادراک نہیں۔قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عرب لیگ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سوموار کے روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینیوں کا قتل عام خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہم ان تمام ممالک کو خبردار کرتے ہیں کو قانونی اور اخلاقی موقف کو نظرانداز کرتے ہوئے فلسطین کے بارے میں غیر منصفانہ روش پر چل رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی ایک خطرناک پیش رف ہے اور اس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ امریکیوں کو سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے خطرناک نتائج کا ادراک نہیں۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ کل سوموار کوبیت المقدس منتقل کردیا گیا۔ سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی پوری دنیا میں امریکا کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔احمد ابو الغیط کا کہنا تھا کہ ایسے قابل احترام ممالک جو قانون، عالمی برادری کے متفقہ موقف اور فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی میں شامل نہیں ہوئے۔

ایک نظر اس پر بھی

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔

ماسکو اجلاس میں ’اعلیٰ امن کونسل‘ غیر سرکاری حیثیت میں شریک ہے: افغان ترجمان

ایسا لگتا ہے کہ حکومتِ افغانستان نے ماسکو میں منعقدہ اجلاس سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے، جہاں طالبان وفد پہلی بار کسی بین الاقوامی فورم پر نظر آیا۔حالانکہ ایک ہی روز قبل روسی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے صدر اشرف غنی اعلیٰ امن کونسل پر مشتمل وفد بھیج رہے ...