عرب اتحادیوں نے یمن سے دو فرانسیسی صحافیات بازیاب کرا لیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th November 2017, 9:04 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

صنعاء،17؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یمن کے حوثی باغیوں کے زیر نگین علاقے میں راستہ بھٹکنے والی دو فرانسیسی خاتون صحافیات کو عرب اتحادی فوج نے بازیاب کرا لیا ہے۔ رہائی پانے والی دونوں خواتین کو ریاض ائر بیس پہنچا دیا گیا ہے۔صحافی خواتین صعدہ سے حجہ صوبہ آنے والے وفد میں شامل تھیں جنہیں حوثیوں نے دو نومبر کو اغوا کر لیا۔دارلحکومت صنعاء میں ذرائع نے بتایا کہ فرانسیسی صحافیات نومبر کے اوائل میں اقوام متحدہ کی ایک امدادی ایجنسی کے جہاز پر یمن پہنچی تھیں۔انھوں نے حوثیوں کے زیر نگین شمالی صعدہ کے متعدد دور دراز علاقوں کا دورہ کیا، تاہم انہیں عسکریت پسندوں کی جانب سے پابندیوں کا سامنا رہا جو ان کے دورے پر ناخوش تھے۔ذرائع ابلاغ میں فرانسیسی صحافیوں کے اغوا کی خبروں کے باوجود فرانسیسی حکام نے اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔صلاح پارٹی کی ویب سائٹ نے دعوی کیا تھا کہ فرانسیسی خواتین صحافیات پر حوثیوں نے حملہ کیا اور ان سے کیمرہ لے کر یمن آمد کے بعد اتاری گئی تمام تصاویر ضائع کر دیں۔حوثیوں کے ہاتھوں صحافیوں یا امدادی کارکنوں کے اغوا کا پہلا واقعہ نہیں۔ انہوں نے تین سال قبل جنگ کے بعد ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی کور کرنے کی خاطر یمن آنے والے صحافیوں، امدادی کارکنوں اور مغربی رضاکاروں کو اغوا کرنا شروع کر رکھا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔