اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا! ۔۔۔۔۔ از: ندیم احمد انصاری

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd April 2018, 8:41 PM | اسپیشل رپورٹس |

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ بعض دفعہ ایک چیز، ایک انسان کے لیے لطف اندوزی کا باعث بنتی ہیلیکن دوسرے کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ ایسے مذاق ومزاح کو ظاہر ہے انسانی فطرت خصوصاً دینِ اسلام، جو کہ عین فطرت ہے، ہرگز درست وجائز قرار نہیں دے سکتا۔

آج ہمارا معاشرہ جہاں دیگر بہت سے امور میں مغرب کے نقشِ پا میں اپنی کامیابی کی منزل کا پتہ لگانے کی کوشش کررہا ہے، وہیں آداب واخلاق اور مزاح ومذاق میں بھی انھیں کی طرف للچائی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور جیسا اسے یہ ’مغرب کے بت‘حکم دیتے ہیں، انھیں کی نقالی میں سرمایۂ افتخار محسوس کررہا ہے۔ مغرب کی اس اندھی تقلید نے ہمیں جہاں دیگر بہت سی ’مصیبتوں‘ سے نوازا ہے، انھیں میں ’اپریل فول‘ منانے کی مشہور رسم بھی ہے۔ اس رسم کے مطابق معاشرے میں یکم اپریل کو کسی کو بے وقوف بنانا اور اس سے لوگوں کو ہنسانا بڑا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہر ناروا عمل اس تاریخ میں جائز سمجھا جاتا ہے اور جو اس دن جتنے زیادہ لوگوں کو بے وقوف بنائے، اسے اتنا زیادہ ’اسمارٹ‘ تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ گندہ مذاق بعض دفعہ بہت گھناؤنی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جو جھوٹی باتیں اپریل فول منانے والا کہتا ہے، اس سے بعض کمزور دل لوگوں کو بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض لوگوں کی تو اس قبیح رسم نے جان تک لے لی۔ اس کے علاوہ بعض دفعہ خوش گوار تعلقات بھی اس رسم کے باعث تلخی کا شکار ہوتے دیکھے گئے ہیں، اس لیے ہمارے معاشرے کے لیے یہ ایک قابلِ ترک رسم ہے۔

جہاں تک ’اپریل فول‘ کی ابتدا کی بات ہے تو اس بارے میں متعدد آرا ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ یہ 21مارچ کو دن ورات کے برابر ہونے کے وقت بسنت کے جشن کے ساتھ ایجاد ہوئی اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بدعت قدیم زمانہ ہی سے ہے اور بت پرستوں کا تہوار ہے، فصل ربیع کی ابتدا میں معین تاریخ سے مرتبط ہونے کی وجہ سے، کیوں کہ یہ بت پرستوں کی بقایا رسومات میں سے ہے اور کہاجاتا ہے کہ بعض ملکوں میں شکار کے ابتدائی ایام میں شکار ناکام ہوتا تھا، چناں چہ یہ اپریل ماہ کے پہلے دن میں گڑھی جانے والی جھوٹی باتوں کے لیے ایک قاعدہ بن گیااور بعض نے اس جھوٹ کی اصلیت کے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپریل فول مناتے ہیں، جس کا حرفی یا لفظی معنی ’اپریل کا دھوکہ‘ ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس کے پس پردہ پوشیدہ راز کو جانتے ہیں؟آج سے تقریباً ہزار سال پہلے جب مسلمان اسپین میں حکومت کرتے تھے وہ ایک ایسی طاقت تھے جس کا توڑنا ناممکن تھا اور مغرب کے نصاریٰ یہ تمنا کرتے تھے کہ دنیا سے اسلام کا خاتمہ کردیں اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ ان لوگوں نے اسپین میں اسلام کی بڑھوتری کو روکنے اور اس کا خاتمہ کرنے کی بارہا کوششیں کیں لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کفار نے اپنے جاسوسوں کو اسپین میں مسلمانوں کی ناقابل شکست قوت کے راز کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا تو انھوں نے پایا کہ تقویٰ وپرہیزگاری کو لازم پکڑنا ہی اس کا سبب ہے۔

جب نصاریٰ نے مسلمانوں کی قوتوں کے راز کو جان لیاتو انھوں نے مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کی حکمت عملی کے بارے میں غور کرنا شروع کردیا، اسی بنا پر انھوں نے اسپین میں سگریٹ اور شراب کو مفت بھیجنا شروع کیا۔ اس طریقۂ کار (tactics) نے مغرب کو اچھے نتائج دیے اور اسپین میں مسلمانوں، بالخصوص نوجوان نسل کا عقیدہ کمزور ہونے لگا اور اس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ مغرب کے کیتھولک (catholic) نصاریٰ نے سارے اسپین کو اپنے ماتحت کرلیا اور ایک ایسے شہرسے مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کردیا جہاں وہ آٹھ سو برس سے زیادہ مدت تک اقتدار میں رہ چکے تھے اور یکم اپریل کو مسلمانوں کا آخری قلعہ غرناطہ کا سقوط ہوا، اس لیے اس کو بطور ’’اپریل فول‘‘ (April Fool) دھوکے کا اپریل سمجھتے ہیں۔ اور اسی سال سے آج تک اس دن کو مناتے آرہے ہیں اور مسلمانوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ وہ حماقت وبے وقوفی کو صرف غرناطہ کی فوج کے ساتھ خاص نہیں مانتے بلکہ پوری امتِ اسلامیہ کو بے وقوف بناتے ہیں، اس کے باوجود ہم اس جشن میں شمولیت اختیار کریں تو یہ انتہائی جہالت کی بات ہیاور جب ہم اس خبیث فکر کے کھیل میں ان کی نقالی کریں تو یہ ایسی اندھی تقلید ہے جو ہم میں بعض کی ان کی پیروی کرنے میں بے وقوفی کو واضح کرتی ہے اور اگر ہم اس جشن کے اسباب کو جان لیتے تو کبھی بھی اپنی شکست کا جشن نہ مناتے۔ (کذبۃ ابریل: ۵۔۴)یہ ’اپریل فول‘ کی وہ تاریخ ہے جس کو جاننے کے بعد کم از کم مسلمانوں کو تو اس کا سرے سے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس ’جھوٹ‘ کو فروغ دینے والی رسم میں ہونے والے حادثات، جیسا کہ ہم نے ابتداءً ذکر کیااس کے سوا ہیں۔

مذکورہ بالا باتیں اس بے ہودہ رسم کو عقلاً بھی ناروا ٹھہراتی ہیں اور نقلاً بھی۔ شریعتِ اسلامی ایسی چیزوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔بعض لوگوں کا یہ خیال یہ ہے کہ مزاح ومذاق کے طور پر جھوٹ بولنے میں کیا قباحت ہے؟ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک مسلمان، مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑدیں، اس وقت تک ان کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔(مسند احمد) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔(ابوداود)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سچائی اختیار کرو ،اس لیے کہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے او رنیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، آدمی سچ بولتا ہے، اور سچ بولنے میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ، جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے ، آدمی جھوٹ بولتا ہے او رجھوٹ میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری،مسلم) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو اور وہ تمھاری بات کو سچ سمجھ رہا ہو، جب کہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔(الادب المفرد) ان تمام تر تفصیلات سے واضح ہوگیا کہ ’اپریل فول‘ ہمارے معاشرہ کے لیے کس قدر مضر ہے، آئیے ہم اپنے معاشرے کو خرافات سے پاک کریں!

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...